ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری، مختلف شہروں میں نشیبی علاقے زیر آب
پاکستان میں بارشوں کا نیا سسٹم داخل ہوتے ہی ملک کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس سے موسم خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ کئی علاقوں میں مسائل بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ لاہور، اسلام آباد اور پشاور سمیت متعدد شہروں میں بادل خوب برسے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں بارشوں کا نیا سسٹم مغربی ہواؤں کے باعث ملک میں داخل ہوا ہے، جو آئندہ چند روز تک وقفے وقفے سے بارش کا سبب بنے گا۔ اس سسٹم کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے گرمی کی شدت میں بھی کمی آئی ہے۔
لاہور میں بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں جیسے مال روڈ، ایبٹ روڈ، ڈیوس روڈ، گڑھی شاہو، جیل روڈ، اپر مال، فیروزپور روڈ، چوبرجی، ساندہ اور گلبرگ میں بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور کا کم سے کم درجہ حرارت 16 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 23 ڈگری تک جانے کا امکان ہے، جبکہ موجودہ درجہ حرارت 16 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان میں بارشوں کا نیا سسٹم نہ صرف موسم کو خوشگوار بنا رہا ہے بلکہ کچھ علاقوں میں مشکلات بھی پیدا کر رہا ہے۔ پنجاب کے دیگر شہروں جیسے بہاولپور، اوچ شریف اور وہاڑی میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی، جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔
اسی طرح قصور، پھول نگر، میاں چنوں، عبدالحکیم، میکلوڈگنج، چشتیاں، راجن پور اور قائد آباد میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ کئی علاقوں میں سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب پشاور اور اس کے گردونواح میں بھی موسلادھار بارش ہوئی، جس سے موسم خوشگوار ہو گیا لیکن ساتھ ہی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔ سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بارش کے ساتھ ہی کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی، جس کے باعث شہریوں کو مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے بجلی کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
پاکستان میں بارشوں کا نیا سسٹم کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ بارش کا سلسلہ دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آئندہ چند دنوں میں مزید بارشوں کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے موسمی سسٹمز نہ صرف درجہ حرارت کو کم کرتے ہیں بلکہ آبی ذخائر میں بھی اضافہ کرتے ہیں، جو زراعت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ تاہم، اگر بارش زیادہ ہو جائے تو سیلاب اور دیگر مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ خاص طور پر نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں بارشوں کا نیا سسٹم ایک طرف جہاں گرمی سے نجات دلا رہا ہے، وہیں دوسری طرف شہری انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر رہا ہے۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونا، نکاسی آب کا ناقص نظام اور بجلی کی بندش جیسے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بارشوں کا یہ نیا سلسلہ ملک کے لیے ایک ملی جلی صورتحال لے کر آیا ہے۔ جہاں ایک طرف موسم خوشگوار ہوا ہے، وہیں دوسری طرف شہریوں کو مختلف مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر متعلقہ ادارے بروقت اقدامات کریں تو ان مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے

