پاکستان کی سعودی عرب سے ادھار تیل کی سہولت میں توسیع کی درخواست

پاکستان کی سعودی عرب سے ادھار تیل معاہدہ میں توسیع کی درخواست
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان کی سعودی عرب سے ادھار تیل کی سہولت میں توسیع کی درخواست، تاکہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی لائی جا سکے


اسلام آباد : پاکستان نے سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر حاصل تیل کی سہولت میں ایک سال کی توسیع کی باضابطہ درخواست کر دی ہے، کیونکہ موجودہ معاہدہ مارچ 2026 میں اپنی مدت پوری کر رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر کا پاکستان اور قازقستان کے درمیان معاہدوں پر دستخط
پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعاون کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب

ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان کی درخواست پر پاکستانی معاشی ٹیم اور سعودی حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ اس سہولت کے تحت پاکستان کو تیل کی درآمدات مؤخر ادائیگی پر فراہم کی جاتی ہیں تاکہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ معاہدے کے مطابق مؤخر ادائیگیوں پر سعودی عرب سے ادھار تیل مارچ 2026 میں ختم ہو جائے گی۔ رواں ماہ تک اس سہولت کے تحت 1.2 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ اپنی مدت مکمل کر لے گا، جس کے بعد پاکستان کو قرض کی واپسی شروع کرنا ہو گی۔

ذرائع کے مطابق اگر اس معاہدے کی مدت ایک سال سے بڑھا کر دو سال کر دی جاتی ہے تو پاکستان کے لیے ادھار تیل کی رقم کی واپسی آسان ہو جائے گی اور بیلنس آف پیمنٹ پر پڑنے والا دباؤ نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اس سہولت کا بنیادی مقصد ادھار تیل کے ذریعے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنا ہے، جبکہ نئے معاہدے کی صورت میں یہ سہولت فروری 2027 تک جاری رہ سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]