پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 4 ہزار پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی شدید مندی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای-100 انڈیکس میں چار ہزار پوائنٹس سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ رواں مالی سال کی سب سے بڑی اور غیر معمولی گراوٹ قرار دی جا رہی ہے، جس نے سرمایہ کاروں میں شدید بے چینی اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ابتدائی جھٹکا: 1711 پوائنٹس کی مندی کے ساتھ آغاز
کاروباری ہفتے کے پہلے دن، پیر کی صبح، اسٹاک مارکیٹ نے 1711 پوائنٹس کی مندی کے ساتھ آغاز کیا۔ اس مندی نے مارکیٹ کے مجموعی رجحان پر فوری اثر ڈالا، اور سرمایہ کار محتاط انداز میں ٹریڈنگ کرنے لگے۔ ابتدائی گراوٹ کے بعد انڈیکس 1,61,386 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
مسلسل گراوٹ کا سلسلہ
ابتدائی مندی کے بعد مارکیٹ میں بہتری کی کوئی علامت نظر نہ آئی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مندی مزید شدت اختیار کرتی گئی۔ مارکیٹ انڈیکس میں درج ذیل تسلسل سے کمی ریکارڈ کی گئی:
- 1237 پوائنٹس کی مزید کمی
- 2593 پوائنٹس کی گراوٹ
- 3848 پوائنٹس کی مندی
- اور بالآخر 4130 پوائنٹس کی مجموعی کمی
انڈیکس کی یہ گراوٹ اسے 1,58,967 پوائنٹس کی سطح تک لے آئی، جو گزشتہ کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح سے غیرمعمولی کمی کا عندیہ ہے۔
ممکنہ وجوہات: ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ماہرینِ معیشت اور مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، اسٹاک مارکیٹ میں اس نوعیت کی شدید مندی کئی داخلی اور خارجی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں سرفہرست درج ذیل نکات شامل ہیں:
- سیاسی غیر یقینی صورتحال
ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام، عدالتی فیصلے، حکومت کی معاشی پالیسیوں میں تضاد، اور ممکنہ الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے قیاس آرائیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہی ہیں۔
- آئی ایم ایف پروگرام پر شکوک
پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹینڈ بائی معاہدے کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال بھی مارکیٹ پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق، نئی شرائط پر مذاکرات میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے مارکیٹ میں بےاعتمادی پیدا ہوئی ہے۔
- روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ
روپے کی قدر میں کمی کا خدشہ بھی مارکیٹ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ اس سے درآمدی کمپنیوں کے منافع متاثر ہو سکتے ہیں اور مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
- بڑھتی ہوئی مہنگائی اور شرح سود
مارکیٹ میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ اسٹیٹ بینک آئندہ مالیاتی پالیسی میں شرح سود میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ موجودہ بلند شرح سود پہلے ہی کاروباری سرگرمیوں پر بوجھ بن چکی ہے، اور اس میں مزید اضافہ مارکیٹ کے لیے منفی سگنل ہو گا۔
سرمایہ کاروں کا ردِ عمل
مارکیٹ میں اس اچانک مندی نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کاروں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ کئی افراد نے اپنی سرمایہ کاری واپس نکالنے کا فیصلہ کیا، جبکہ کچھ سرمایہ کاروں نے نئی خریداری سے گریز کیا۔
ایک سرمایہ کار ندیم قریشی نے کہا:
"مارکیٹ میں اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ جب تک معیشت اور پالیسیوں میں استحکام نہیں آتا، ہم سرمایہ لگانے سے ہچکچائیں گے۔”
ایک معروف بروکر عمر عزیز کا کہنا تھا:
"اس سطح کی مندی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو مارکیٹ مزید نیچے جا سکتی ہے۔”
سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاروں کو جلد بازی سے گریز کرنا چاہیے۔ مارکیٹ میں وقتی مندی کے بعد اکثر ایک اصلاحی عمل آتا ہے، جو طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے موقع فراہم کر سکتا ہے۔
سرمایہ کاری ماہر فہد بشیر کا کہنا ہے:
"جن کمپنیوں کی بنیادیں مضبوط ہیں اور جن کی آمدنی مستحکم ہے، ان کے شیئرز کو موجودہ کم قیمت پر خریدنا طویل مدتی نفع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔”
حکومت اور اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری
موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر، ماہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک فوری طور پر ایسی پالیسیاں اپنائیں جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کر سکیں۔ ان میں شامل ہو سکتے ہیں:
- مارکیٹ کو سہارا دینے کے لیے مالیاتی پیکیج
- آئی ایم ایف سے مذاکرات میں شفافیت
- سیاسی استحکام کی یقین دہانی
- سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس ریلیف
- آئندہ چند روز اہم ہوں گے
مارکیٹ کی صورتحال آئندہ چند روز میں واضح ہو گی۔ اگر حکومت کوئی مثبت قدم اٹھاتی ہے یا عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے کوئی حمایت حاصل ہوتی ہے، تو ممکن ہے کہ مارکیٹ میں کچھ بحالی دیکھنے کو ملے۔
تاہم اگر غیر یقینی حالات برقرار رہے، تو انڈیکس مزید نیچے جا سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اعتماد کی بحالی اولین ترجیح
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ شدید مندی نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ معیشت کا دار و مدار محض عددی اشاریوں پر نہیں بلکہ پالیسیوں، اعتماد، اور استحکام پر ہوتا ہے۔ حکومت، اسٹیٹ بینک، اور دیگر متعلقہ اداروں کو فوری اور مربوط اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے اور اسٹاک مارکیٹ کو دوبارہ ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔


One Response