پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، خودکش دھماکے اور عالمی مذاکرات کا اثر واضح
پاکستان سٹاک ایکسچینج (PSX) میں جمعے کے روز مندی کا رجحان واضح طور پر دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس میں 4,200 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور یہ 183,600 پوائنٹس کی سطح تک گر گیا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس مندی کی بنیادی وجوہات میں عالمی اور علاقائی سیاسی حالات کے علاوہ ملک میں حالیہ سنگین واقعات شامل ہیں۔
ابتدائی طور پر جمعے کے پہلے سیشن میں بھی مارکیٹ پر دباؤ رہا۔ تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سرمایہ کار اس وقت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے تھے، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع مذاکرات کے تناظر میں۔ اُن کے بقول سرمایہ کار کسی ممکنہ منفی پیش رفت سے پہلے اپنی پوزیشن محفوظ بنانے کے لیے حصص کی فروخت کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دن مارکیٹ کے کاروبار کا آخری روز تھا اور دو دن کے وقفے کے بعد کاروبار دوبارہ شروع ہوگا، جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
تاہم پہلے سیشن کے وقفے کے بعد مارکیٹ میں ایک اور غیر متوقع عنصر شامل ہوا، جس نے مارکیٹ کے مندی کے رجحان کو مزید بڑھا دیا۔ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ کے اندر ہونے والے خودکش دھماکے نے نہ صرف ملک میں بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی اثر ڈالا۔ دھماکے کے فوری بعد حصص کی فروخت میں تیزی دیکھی گئی، جسے تجزیہ کار "پینک سیلنگ” یا گھبراہٹ میں کی جانے والی فروخت قرار دیتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث مارکیٹ میں انڈیکس میں واضح کمی واقع ہوئی اور 100 انڈیکس میں 4,200 پوائنٹس کی کمی کے بعد یہ 183,600 کی سطح پر آگیا۔
مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اسلام آباد میں خودکش دھماکے کے بعد سرمایہ کاروں کے رویے میں ایک واضح تبدیلی دیکھی گئی۔ ابتدائی طور پر محتاط رویہ رکھنے والے سرمایہ کار اب زیادہ فعال انداز میں حصص فروخت کرنے لگے تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا غیر یقینی صورتحال سے اپنے سرمایہ کی حفاظت کر سکیں۔ تجزیہ کار جبران سرفراز کے مطابق یہ ردعمل ایک فطری اور متوقع رویہ تھا، کیونکہ بڑے انسانی نقصانات یا سیکیورٹی خطرات کا بازار پر فوری اثر پڑتا ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا یہ رجحان صرف ملکی عوامل سے ہی نہیں جڑا ہوا، بلکہ عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام بھی اس پر اثرانداز ہوا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنایا، اور اس کے بعد ملکی سطح پر پیش آنے والے دھماکے نے مارکیٹ میں گھبراہٹ پیدا کر دی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے واقعات سرمایہ کاروں کے اعتماد پر فوری اور شدید اثر ڈال سکتے ہیں، کیونکہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کا مطلب ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
مارکیٹ کے مخصوص شعبوں میں بھی مندی واضح تھی۔ خاص طور پر وہ سیکٹرز جو داخلی سیکیورٹی، توانائی، اور مالیاتی اداروں سے جڑے ہیں، وہاں حصص کی فروخت میں زیادہ اضافہ ہوا۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ کار نہ صرف عالمی عوامل بلکہ داخلی سیکیورٹی اور سیاسی استحکام کے عوامل کو بھی اپنی سرمایہ کاری کے فیصلوں میں شامل کر رہے ہیں۔
مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دنوں میں سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ اور "پینک سیلنگ” ایک عام فطری ردعمل ہے۔ ابتدائی دباؤ کے بعد اگر مارکیٹ میں مزید غیر متوقع اور سنگین واقعات ہوں، تو سرمایہ کار اپنے نقصان سے بچنے کے لیے حصص فروخت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں انڈیکس میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ جبران سرفراز کے مطابق جمعے کے روز یہ بالکل وہی صورتحال تھی، اور امام بارگاہ کے دھماکے کے بعد مارکیٹ کی مندی میں واضح اضافہ ہوا۔
اقتصادی تجزیہ کار اس بات پر بھی متفق ہیں کہ ایران اور امریکہ کے مذاکرات اور پاکستان میں پیش آنے والے سیکیورٹی کے واقعات کا مجموعی اثر مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کے رویے پر براہ راست پڑا۔ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کو محتاط کر رہی تھی، اور دھماکے کے بعد پیدا شدہ خوف نے "پینک سیلنگ” کے عمل کو بڑھا دیا۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی روانی متاثر ہوئی اور انڈیکس میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مندی وقتی نوعیت کی ہو سکتی ہے، اور سرمایہ کار مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال ختم ہونے کے بعد دوبارہ سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے سنگین سیکیورٹی اور سیاسی واقعات مارکیٹ کے اعتماد پر طویل المدتی اثر ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اگر ملک میں داخلی سیکیورٹی اور سیاسی استحکام کے حوالے سے واضح اقدامات نہ کیے جائیں۔
مارکیٹ کے اندر حصص کی فروخت کے بعد سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے اپنے خطرات کو محدود کرنے کی کوشش کی، اور یہ رجحان پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کے رجحان کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے کہا کہ سرمایہ کار اپنے حصص کو بیچ کر نقدی میں منتقل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے متاثر نہ ہوں۔
اختتامی تجزیہ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز دیکھے جانے والے مندی کے رجحان کے پیچھے عالمی اور علاقائی عوامل کے ساتھ ساتھ داخلی سیکیورٹی کے سنگین واقعات بھی شامل ہیں۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے "پینک سیلنگ” اور محتاط رویہ اختیار کرنا ایک فطری ردعمل تھا، جس کے نتیجے میں انڈیکس میں 4,200 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔ مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق، مستقبل میں اگر سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال مستحکم رہی، تو مارکیٹ کے اعتماد میں بحالی ممکن ہے، اور سرمایہ کار دوبارہ حصص کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کر سکتے ہیں۔

