پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخی بلندی، ڈالر مزید سستا

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار سے تجاوز، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی استحکام اور مثبت رجحان برقرار رہا، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کر دیا۔ جمعرات کے روز کاروبار کے آغاز سے ہی مارکیٹ میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا، جہاں حصص کی خریداری کا دباؤ نمایاں رہا اور مارکیٹ تیزی کی راہ پر گامزن دکھائی دی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں ایک بار پھر زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی۔

کاروباری دن کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں مثبت ماحول پیدا ہو گیا اور جیسے ہی پہلا سیشن شروع ہوا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بینچ مارک 100 انڈیکس میں 1245 پوائنٹس کا شاندار اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس اضافے کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار 559 پوائنٹس کی بلند سطح پر ٹریڈ کرتا رہا، جو حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ مارکیٹ کے اس نمایاں اضافے نے نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی متحرک کر دیا۔

ماہرینِ معیشت اور اسٹاک بروکرز کے مطابق مارکیٹ میں اس تیزی کی بنیادی وجوہات میں معاشی استحکام کے اشارے، مہنگائی کی شرح میں کمی، پالیسی ریٹ میں ممکنہ نرمی کی توقعات اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مثبت پیش رفت شامل ہیں۔ سرمایہ کار مستقبل کے حوالے سے پُرامید دکھائی دے رہے ہیں اور یہی اعتماد مارکیٹ کی تیزی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان غالب رہا تھا۔ بدھ کے روز کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار 314 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل برقرار ہے۔ مسلسل دوسرے دن مثبت رجحان نے مارکیٹ کے مجموعی ماحول کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔

کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ بینکنگ، توانائی، سیمنٹ، تیل و گیس اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں خریداری کا رجحان خاص طور پر نمایاں رہا۔ بڑے سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے سرمایہ کار بھی مارکیٹ میں سرگرم دکھائی دیے، جس سے مجموعی تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس صورتحال نے مارکیٹ کی لیکویڈیٹی کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

دوسری جانب زرمبادلہ کی مارکیٹ میں بھی مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق 7 پیسے کی کمی کے بعد انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 280 روپے 20 پیسے ہو گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں کمی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں درآمدات میں کمی، ترسیلاتِ زر میں اضافہ، برآمدات میں بہتری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ضروری درآمدات پر کنٹرول اور حکومتی اقدامات نے بھی روپے کی قدر کو سہارا دیا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں روپے کی قدر میں مزید بہتری اور مہنگائی کی شرح میں کمی کا امکان موجود ہے۔ ڈالر کی قیمت میں کمی سے نہ صرف درآمدی اشیاء سستی ہونے کی توقع ہے بلکہ صنعتی شعبے کو بھی ریلیف ملے گا، جس سے پیداواری لاگت کم ہو سکتی ہے۔

سرمایہ کاروں اور عوامی حلقوں نے اسٹاک مارکیٹ اور زرمبادلہ مارکیٹ میں آنے والی اس مثبت تبدیلی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ کاروباری برادری کا ماننا ہے کہ معاشی اشاریوں میں بہتری حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول مزید بہتر ہو سکتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جاری تیزی اور ڈالر کی قدر میں کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملکی معیشت آہستہ آہستہ استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ تاہم ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس مثبت رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے مالی نظم و ضبط، پالیسیوں کا تسلسل اور اصلاحات کا عمل ناگزیر ہے۔

آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں معاشی فیصلوں، عالمی مارکیٹ کے رجحانات اور حکومتی اقدامات پر مرکوز رہیں گی، جو اس تیزی کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ اگر حالات سازگار رہے تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج نئی بلندیوں کو چھونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور روپے کی قدر میں مزید بہتری کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]