پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 170,699 پوائنٹس پر، ڈالر سستا

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان برقرار، 100 انڈیکس میں 252 پوائنٹس کا اضافہ، ڈالر کی قدر میں بھی کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ملکی معیشت سے وابستہ مثبت اشاروں کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بھی مارکیٹ میں مثبت آغاز ہوا، جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے آغاز پر ہی انڈیکس 252 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 70 ہزار 699 کی سطح پر پہنچ گیا، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور مارکیٹ میں خریداری کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مجموعی طور پر بہتری کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں معاشی استحکام کے آثار، پالیسی ریٹس میں ممکنہ کمی کی توقعات، آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق پیش رفت اور روپے کی قدر میں بہتری شامل ہیں۔ سرمایہ کار خاص طور پر بینکنگ، توانائی، سیمنٹ اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں دلچسپی لیتے دکھائی دے رہے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں ٹریڈنگ کا حجم بھی بڑھ رہا ہے۔

تاہم اگر گزشتہ روز کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو کاروبار کے آغاز پر انڈیکس نے اپنی بلند ترین سطح کو چھوا تھا، لیکن دن کے اختتام پر منافع سمیٹنے (Profit Taking) کے باعث مارکیٹ منفی زون میں چلی گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان کسی حد تک فطری ہوتا ہے، کیونکہ طویل تیزی کے بعد سرمایہ کار منافع محفوظ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے باوجود مجموعی طور پر مارکیٹ کا موڈ مثبت ہی رہا، جس کا تسلسل آج کے کاروباری دن میں بھی واضح طور پر دیکھا گیا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ تیزی وقتی نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی مضبوط بنیادی عوامل کارفرما ہیں۔ حکومتی سطح پر مالی نظم و ضبط، درآمدات میں کمی، ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بہتری نے مجموعی معاشی فضا کو بہتر بنایا ہے۔ ان عوامل کے باعث نہ صرف اسٹاک مارکیٹ کو سہارا ملا ہے بلکہ زرمبادلہ کی مارکیٹ میں بھی استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بھی بہتری آئی ہے، جو ایک نہایت حوصلہ افزا پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 5 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد ڈالر 280 روپے 25 پیسے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق روپے کی قدر میں یہ معمولی بہتری درست سمت میں ایک اہم قدم ہے، کیونکہ گزشتہ طویل عرصے سے روپیہ دباؤ کا شکار رہا ہے۔

کرنسی مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں بہتری کی وجہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام اور غیر ضروری درآمدات پر کنٹرول ہے۔ اس کے علاوہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے کرنسی مارکیٹ میں سخت نگرانی اور غیر قانونی ڈالر ٹریڈنگ کے خلاف اقدامات نے بھی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔

روپے کی قدر میں استحکام کا براہِ راست فائدہ مہنگائی کی شرح پر پڑتا ہے، کیونکہ درآمدی اشیاء، بالخصوص تیل، گیس اور صنعتی خام مال کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی رفتار مزید سست ہو سکتی ہے، جس سے عام آدمی کو بھی ریلیف ملنے کی امید ہے۔

سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر روپے کی قدر میں بہتری اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا یہ تسلسل برقرار رہا تو غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار عام طور پر ایسی مارکیٹس کا رخ کرتے ہیں جہاں معاشی استحکام، کرنسی کی مضبوطی اور پالیسی میں تسلسل موجود ہو۔ حالیہ حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ پاکستان بتدریج اسی سمت میں بڑھ رہا ہے۔

تاہم ماہرین یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ مارکیٹ میں کسی بھی اچانک منفی خبر یا عالمی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے اثرات مقامی مارکیٹ پر پڑ سکتے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، جیوپولیٹیکل کشیدگی اور امریکی فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی جیسے عوامل مستقبل میں مارکیٹ کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔

اس کے باوجود مجموعی طور پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی موجودہ صورتحال کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار محتاط امید کے ساتھ مارکیٹ میں سرگرم ہیں اور طویل مدتی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اگر حکومت معاشی اصلاحات کا عمل جاری رکھتی ہے اور پالیسی میں استحکام برقرار رہتا ہے تو ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ مزید بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جاری تیزی اور روپے کی قدر میں بہتری ملکی معیشت کے لیے نیک شگون ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کر رہی ہے بلکہ عام شہری کے لیے بھی مستقبل میں معاشی ریلیف کی امید پیدا کر رہی ہے۔ اب یہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس مثبت رفتار کو برقرار رکھا جائے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جائے

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، کے ایس ای 100 انڈیکس نئی بلند سطح پر
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، کے ایس ای 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
پی ایس ایکس ریکارڈ بلندی پر کے ایس ای 100 انڈیکس کا گراف دکھاتی تصویر
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز تیزی، انڈیکس نئی بلندی پر!
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]