طورخم اور چمن بارڈر پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بارڈر کھولنے کا فیصلہ کرلیا

پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طورخم اور چمن بارڈر کھولنے کا فیصلہ کیا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اقوام متحدہ کی درخواست پر پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طورخم اور چمن بارڈر کھولنے کا فیصلہ کرلیا

غزہ میں جاری طویل اور تباہ کن تنازع کے تناظر میں عالمی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے، اور اب خطے میں استحکام کے لیے ایک عبوری انتظامی ڈھانچے کے قیام پر سنجیدہ غور شروع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ کے خصوصی صدارتی ایلچی سٹیو وٹکوف کا حالیہ بیان خاص اہمیت رکھتا ہے، جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ غزہ میں ایک عبوری حکومت یا ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے جلد قیام اور اس کے فعال کردار کی حمایت کر رہے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق سٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ ان چاروں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کے درمیان فلوریڈا کے شہر میامی میں اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اب اس عمل کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے آئندہ ہفتوں میں مزید مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وٹکوف کے مطابق جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں قابلِ ذکر پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ اس مرحلے کے تحت انسانی امداد کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا، جس سے غزہ کے محصور شہریوں کو خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات تک کسی حد تک رسائی ممکن ہوئی۔ اس کے علاوہ یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی، فوجی افواج کا جزوی انخلا اور مجموعی کشیدگی میں کمی بھی اس مرحلے کی نمایاں کامیابیاں قرار دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ یہ اقدامات محدود ہیں، لیکن یہ مستقبل کے لیے ایک مثبت بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ جنگ سے متاثرہ علاقے میں اعتماد سازی کے ایسے اقدامات نہ صرف انسانی بحران کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ سیاسی حل کی راہ بھی ہموار کرتے ہیں۔

دوسرے مرحلے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سٹیو وٹکوف نے بتایا کہ تمام متعلقہ فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ غزہ میں ایک ایسی متفقہ اتھارٹی کے تحت حکومتی ادارہ قائم کیا جائے جو نہ صرف امن و امان برقرار رکھ سکے بلکہ شہریوں کے تحفظ اور روزمرہ نظم و نسق کو بھی مؤثر انداز میں سنبھال سکے۔ اسی مقصد کے لیے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے قیام کی تجویز سامنے آئی ہے، جسے عبوری حکومت کے طور پر کام کرنے کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔

یہ مجوزہ بورڈ مختلف فلسطینی دھڑوں، علاقائی شراکت داروں اور ممکنہ طور پر بین الاقوامی مبصرین پر مشتمل ہو سکتا ہے، تاکہ اس کی غیر جانبداری اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس انتظامی ڈھانچے کا بنیادی ہدف غزہ میں طاقت کے خلا کو پُر کرنا، قانون کی عملداری بحال کرنا اور مستقبل کے مستقل سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا ہوگا۔

امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کا اس عمل میں شامل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ غزہ کے مسئلے کو صرف ایک فریق یا ایک ملک کے ذریعے حل کرنا ممکن نہیں۔ مصر اور قطر پہلے ہی ثالثی کے کردار میں اہم حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ ترکیہ خطے میں انسانی ہمدردی اور سیاسی حمایت کے حوالے سے فعال کردار ادا کرتا رہا ہے۔ امریکہ، بطور عالمی طاقت، اس پورے عمل کو بین الاقوامی سطح پر وزن اور سفارتی حمایت فراہم کر رہا ہے۔

وٹکوف نے اپنے بیان میں تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے پورا کریں، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں اور نگرانی کے مجوزہ انتظامات میں مکمل تعاون کریں۔ ان کے مطابق اگر کسی بھی مرحلے پر اشتعال انگیزی یا معاہدوں کی خلاف ورزی ہوئی تو پورا عمل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ عبوری انتظامیہ کامیابی سے قائم ہو جاتی ہے تو یہ غزہ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس راستے میں کئی چیلنجز بھی موجود ہیں، جن میں سیاسی اختلافات، سلامتی کے خدشات، عوامی اعتماد کی بحالی اور تعمیر نو کے بڑے مسائل شامل ہیں۔

عالمی برادری کی نظریں اب آنے والے ہفتوں پر مرکوز ہیں، جہاں دوسرے مرحلے سے متعلق مشاورت فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر فریقین واقعی تعاون اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو غزہ میں پائیدار امن کی جانب ایک عملی قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔

آخرکار، سٹیو وٹکوف کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غزہ کا مسئلہ اب محض جنگ بندی تک محدود نہیں رہا، بلکہ عالمی اور علاقائی طاقتیں ایک طویل المدتی سیاسی اور انتظامی حل کی تلاش میں ہیں۔ عبوری حکومت یا بورڈ آف پیس کا قیام اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جس کی کامیابی کا انحصار تمام فریقین کے خلوص، تعاون اور ذمہ دارانہ رویے پر ہوگا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]