Asia Cup 2025 Pakistan vs Oman – بڑا میچ، ایک طرف چیمپئن پاکستان، دوسری طرف کمزور عمان
کرکٹ کے بین الاقوامی یا براعظمی ٹورنامنٹس میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ ٹیمیں ایسی بھی شامل ہو جاتی ہیں جن کی وہاں موجودگی فنی اعتبار سے مناسب محسوس نہیں ہوتی۔ ان ٹیموں کا مقابلہ ایسے ملکوں سے ہوتا ہے جن کا کرکٹ میں نہ صرف وسیع تجربہ ہوتا ہے بلکہ کارکردگی کا معیار بھی بلند ہوتا ہے۔ بسا اوقات ان کمزور ٹیموں کی شمولیت "نمائندگی” کے اصول پر کی جاتی ہے، جو کہ اپنی جگہ ایک مثبت قدم ہے، مگر شک گزرنے لگتا ہے کہ کہیں کسی منتظم نے یہ نہ سوچا ہو کہ "ٹورنامنٹ جتنا بڑا، انعام اتنا ہی زیادہ۔”
ایشیا کپ 2025 میں عمان کی شرکت اسی متنازعہ بحث کا حصہ بن چکی ہے۔ ایک ایسی ٹیم جو پہلے سے ہی بین الاقوامی معیار پر خاصی کمزور تھی، اب داخلی تنازعات اور غیر پیشہ ورانہ فیصلوں کے باعث مزید غیر مستحکم ہو چکی ہے۔
عمان: "اوہ-مان!” ہم یہاں کیا کر رہے ہیں؟
عمان کی موجودہ کرکٹ ٹیم کو دیکھ کر یہی خیال آتا ہے کہ ان کی شرکت کا واحد مقصد شاید صرف حصہ لینا ہے، مقابلہ کرنا نہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں عمان کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے درمیان تنخواہوں کے تنازع نے پوری ٹیم کا ڈھانچہ بدل دیا ہے۔ جن کھلاڑیوں نے ایشیا کپ کے لیے کوالیفائی کیا، وہ اب ٹیم کا حصہ ہی نہیں۔ ان کی جگہ ایسے کھلاڑی شامل کیے گئے ہیں جن کی نہ کوئی کارکردگی ہے، نہ شناخت۔
مثلاً اسکواڈ میں شامل شاہ فیصل کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ 5 جنوری 1997 کو دیر میں پیدا ہوئے۔ سفیان یوسف کا تو مقامِ پیدائش تک ریکارڈ پر نہیں۔ ایک اور کھلاڑی ندیم خان ہیں، جن کے بارے میں معلومات اتنی کم ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ٹیم کا انتخاب کرکٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ کسی اور پیمانے پر کیا گیا ہو۔
تیاری کی کمی: عمان کا سب سے بڑا دشمن
عمان نے گزشتہ چھ ماہ میں کوئی بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی مقابلہ نہیں کھیلا۔ ان کی آخری مہم امریکہ کے خلاف تین مسلسل شکستوں پر ختم ہوئی۔ اس کے برعکس پاکستان نے چند دن قبل ہی افغانستان کو ایک سہ ملکی سیریز کے فائنل میں شکست دے کر اپنی برتری ثابت کی۔
عمان کو نہ کوئی وارم اپ میچ دیا گیا، نہ ہی کوئی تیاری کا موقع۔ ایسے میں انہیں پاکستان جیسی ٹیم کے سامنے کھڑا کر دینا، بالکل ایسے ہے جیسے کسی سات سالہ بچے کو وسیم اکرم کے خلاف بیٹنگ پر بھیج دینا — وہ بھی 90 کی دہائی کی انگلینڈ کی اوورکاسٹ کنڈیشنز میں اور بغیر ہیلمٹ کے۔
پاکستان: دو بار کا ایشیا چیمپیئن، اور بے شمار امکانات
پاکستان کی ٹیم دو بار ایشیا کپ کی فاتح رہ چکی ہے اور حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ اس بار بھی ٹائٹل کے مضبوط دعویدار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اس قدر مضبوط ٹیم ہے کہ وہ بابر اعظم اور محمد رضوان جیسے کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر رکھ کر بھی باآسانی فتح حاصل کر سکتا ہے۔
کوچ مائیک ہیسن کو اگر پاکستان کی جانب سے اوپننگ پر بھیج دیا جائے، تب بھی اس ٹیم کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ عمان جیسی ٹیم کو شکست دے سکے۔ گیارہ بلے باز، کوئی گیند باز نہ ہو، چھ اسپنرز اور پانچ وکٹ کیپرز ہوں، یا مکمل سپورٹ اسٹاف پر مشتمل ٹیم — سب ہی عمان کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔
لیکن یہ مضمون عمان مخالف نہیں ہے
یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ یہ تحریر عمان کے خلاف نہیں۔ کسی بھی کھیل میں کمزور ہونا کوئی جرم نہیں۔ مسئلہ دراصل عمان کرکٹ بورڈ کی غیر ذمہ داری اور ناتجربہ کاری ہے، جس نے ایک کوالیفائی کرنے والی ٹیم کو اندرونی اختلافات کے باعث ختم کر دیا اور ایسے کھلاڑیوں کو میدان میں اتار دیا جن کا تجربہ اور شناخت دونوں ہی مشکوک ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ میچ کیا معنی رکھتا ہے؟
پاکستان کے لیے یہ میچ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا، کم از کم کاغذی طور پر۔ لیکن کرکٹ صرف کاغذ پر نہیں کھیلی جاتی۔ 2024 کے ورلڈ کپ میں امریکہ کے ہاتھوں پاکستان کی شرمناک شکست اس بات کا ثبوت ہے کہ "کاغذی برتری” ہمیشہ نتیجہ نہیں دیتی۔
تاہم، موجودہ عمانی اسکواڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کے پاس وہ "بَسٹر ڈگلس لمحہ” بھی موجود نہیں، جس کی بدولت پاکستان جیسی بڑی ٹیم کو اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑے۔
ممکنہ حکمتِ عملی: مکمل قوت یا بینچ کا استعمال؟
پاکستان کے پاس دو راستے ہیں:
مکمل طاقت کے ساتھ میدان میں اترنا تاکہ اتوار کو ہونے والے بھارت کے خلاف بڑے میچ سے پہلے ٹیم کو ریتم ملے۔
کچھ ریزرو کھلاڑیوں کو موقع دینا تاکہ بینچ کی مضبوطی کا اندازہ ہو سکے۔
دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی رہنے والا ہے۔ پاکستان کی فتح تقریباً یقینی ہے۔
عمان کی شمولیت: سوالیہ نشان
اس بات پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے کہ کیا ایسی ٹیموں کو اتنے بڑے ٹورنامنٹس میں شامل کرنا کھیل کے معیار کو متاثر نہیں کرتا؟ نمائندگی ایک مثبت تصور ہے، لیکن اگر کسی ٹیم کو تیار ہی نہیں ہونے دیا گیا، تو اس کی نمائندگی بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔
کرکٹ صرف ٹورنامنٹس کے سائز اور نشریاتی حقوق کا کھیل بن کر نہ رہ جائے۔ اگر ایسی کمزور اور غیر تیار ٹیموں کو عالمی سطح پر رسوا ہونا ہے تو یہ ان کے حق میں بھی بہتر نہیں۔
عمان کی ٹیم اس وقت مکمل طور پر ایک غیر یقینی، ناتجربہ کار اور غیر تیار یونٹ ہے، جسے کرکٹ بورڈ نے داخلی مسائل کا شکار بنا دیا ہے۔ ان کی موجودہ حالت میں پاکستان جیسی مضبوط ٹیم سے مقابلہ محض ایک رسمی کارروائی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ میچ ایک موقع ہے کہ وہ اعتماد بحال کرے، نوجوان کھلاڑیوں کو آزما لے، اور بھارت کے خلاف بڑے میچ کی تیاری کرے۔
البتہ، عالمی کرکٹ تنظیموں اور ایشین کرکٹ کونسل کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ صرف نمائندگی کے نام پر کمزور ٹیموں کو میدان میں اتارنا، نہ صرف ان ٹیموں کی تضحیک ہے بلکہ کھیل کے معیار کے بھی خلاف ہے۔


One Response