فلسطین دو ریاستی حل: اقوام متحدہ کانفرنس میں سعودی عرب، فرانس کی سربراہی اور شہباز شریف کی شرکت

فلسطین دو ریاستی حل اقوام متحدہ کانفرنس میں شہباز شریف کی شرکت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اقوام متحدہ میں فلسطین دو ریاستی حل پر عالمی کانفرنس، سعودی عرب و فرانس کی قیادت، پاکستان کا مضبوط مؤقف

اقوام متحدہ میں فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے اہم پیش رفت: سعودی عرب اور فرانس کی قیادت میں سربراہی کانفرنس، وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت

اقوام متحدہ کے تحت عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین کے حل کی نئی کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں آج ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کی قیادت سعودی عرب اور فرانس کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد فلسطین کے دیرینہ مسئلے کے دو ریاستی حل کی حمایت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور اس پر بین الاقوامی اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

اس تاریخی کانفرنس میں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف بھی شریک ہوں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف 26 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں وہ پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کریں گے۔

دو ریاستی حل کی اہمیت اور عالمی تناظر

مسئلہ فلسطین ایک ایسا دیرینہ اور سلگتا ہوا تنازع ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے امن کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ، زمین، خودمختاری اور حقِ واپسی جیسے بنیادی مسائل پر مشتمل ہے۔ عالمی برادری کا ایک بڑا حصہ اس بات پر متفق ہے کہ مسئلہ فلسطین کا واحد پائیدار حل "دو ریاستی حل” میں مضمر ہے، جس کے تحت فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے، جو 1967ء کی سرحدوں کے مطابق قائم ہو اور جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

سعودی عرب اور فرانس کی سربراہی میں ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد اس دیرینہ مطالبے کو بین الاقوامی سطح پر ایک نئی زندگی دینا اور اس حوالے سے عملی اقدامات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں فلسطینی عوام کی حمایت میں اپنی سفارتی سرگرمیوں کو وسعت دی ہے جبکہ فرانس یورپی یونین میں وہ واحد طاقت ہے جو فلسطین کے مسئلے پر نسبتاً زیادہ فعال موقف رکھتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت: پاکستان کا دو ٹوک مؤقف

پاکستان ہمیشہ سے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کرتا آیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کا دیرینہ اور اصولی مؤقف پیش کریں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم اپنی تقریر میں غزہ میں جاری انسانی بحران، اسرائیلی جارحیت اور فلسطینی عوام کو درپیش مشکلات کو عالمی برادری کے سامنے رکھیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت پر بھی زور دیں گے، جو کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اور اہم ستون ہے۔ فلسطین اور کشمیر، دونوں ایسے مسئلے ہیں جن میں عوام کو دہائیوں سے عالمی انصاف اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق نہیں دیا گیا۔

دیگر عالمی مسائل پر پاکستان کا مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نہ صرف فلسطین اور کشمیر جیسے سیاسی تنازعات پر بات کریں گے بلکہ وہ دیگر عالمی مسائل پر بھی پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھیں گے۔ ان میں ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش اقتصادی چیلنجز شامل ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی خاص طور پر پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، کیونکہ ملک گزشتہ چند برسوں میں شدید سیلاب، گرمی کی لہروں اور دیگر موسمیاتی آفات کا سامنا کر چکا ہے۔ وزیراعظم عالمی برادری سے مطالبہ کریں گے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرے۔

اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی وزیراعظم شہباز شریف توجہ مبذول کرائیں گے۔ وہ اس بات پر زور دیں گے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ اور امتیازی سلوک کے خلاف اقوام متحدہ کو سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اہم ملاقاتیں اور سفارتی سرگرمیاں

دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نہ صرف جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے بلکہ وہ کئی اعلیٰ سطحی تقریبات اور خصوصی اجلاسوں میں بھی شریک ہوں گے۔ ان اجلاسوں کے دوران ان کی ملاقات اسلامی ممالک کے دیگر رہنماؤں سے بھی متوقع ہے۔

ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ہمراہ امریکی صدر سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہ ایک انتہائی اہم سفارتی موقع ہوگا، جس میں مسلم دنیا کے نمائندے امریکی قیادت کو فلسطین، کشمیر اور دیگر اسلامی دنیا کے مسائل پر اپنا مؤقف براہِ راست پیش کریں گے۔

اس کے علاوہ وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام، عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان سے بھی دو طرفہ ملاقاتیں ہوں گی۔ ان ملاقاتوں میں تجارتی، معاشی، تعلیمی اور دفاعی تعاون کے معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔

پاکستان کا تاریخی کردار

پاکستان ہمیشہ سے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا آیا ہے۔ اقوام متحدہ ہو یا او آئی سی، پاکستان نے ہر فورم پر فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کی ہے۔ موجودہ کانفرنس میں پاکستان کی شرکت اس مؤقف کا ایک بار پھر اعادہ ہے کہ پاکستان اصولوں پر مبنی خارجہ پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔

عوامی توقعات

پاکستانی عوام کی نظریں اس وقت اقوام متحدہ کے اجلاس پر لگی ہوئی ہیں، خاص طور پر فلسطین کے معاملے پر۔ عوام یہ امید رکھتے ہیں کہ پاکستان کی قیادت عالمی سطح پر ایک مضبوط اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرے گی، تاکہ مظلوم فلسطینی عوام کے لیے آواز بلند کی جا سکے۔

امید کی نئی کرن

سعودی عرب اور فرانس کی سربراہی میں ہونے والی اس سربراہی کانفرنس کو عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سنجیدہ اقدامات کریں، تو دو ریاستی حل کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی شرکت، خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف کی بھرپور سفارتی سرگرمیاں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر امن، انصاف اور حقِ خود ارادیت کی حمایت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

فلسطین کو ریاست تسلیم کرنا برطانیہ کینیڈا آسٹریلیا
برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرلیا، عالمی سیاست میں تاریخی موڑ
وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ جنرل اسمبلی خطاب 2025 میں شرکت کرتے ہوئے
وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی خطاب – کشمیر، فلسطین اور عالمی امن پر پاکستان کا مؤقف

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]