30 مارچ: دنیا بھر میں موجود فلسطینی یوم الارض منا رہے ہیں، شہداء کو خراج عقیدت اور نئی ریلیوں کا اعلان
دنیا بھر میں آباد فلسطینی آج 30 مارچ کو ایک بار پھر اپنے حقوق اور زمین سے وابستگی کا عہد دہراتے ہوئے فلسطینی یوم الارض منا رہے ہیں۔ یہ دن محض ایک تقریب نہیں بلکہ فلسطینیوں کی اس عظیم قربانی کی یاد ہے جو انہوں نے اپنی سرزمین کو بچانے کے لیے پیش کی۔ آج کے دن کا مقصد اسرائیلی ریاست کی ان پالیسیوں کو بے نقاب کرنا ہے جو دہائیوں سے فلسطینی زمینوں پر ناجائز قبضے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔
تاریخی پس منظر: 30 مارچ 1976 کا واقعہ
فلسطینی یوم الارض کی بنیاد 1976 میں رکھی گئی تھی جب اسرائیلی قابض افواج نے الجلیل (Galilee) کے علاقے میں فلسطینی شہریوں کی تقریباً 2 ہزار ہیکٹر (تقریباً 4942 ایکڑ) زمین ضبط کرنے کا ظالمانہ حکم جاری کیا۔ اس زمین کی ضبطگی کا اصل مقصد الجلیل جیسے علاقوں کو یہودی اکثریتی علاقوں میں تبدیل کرنا تھا۔ اس ناانصافی کے خلاف فلسطینی عوام سڑکوں پر نکل آئے، جس پر اسرائیلی فورسز نے اندھا دھند فائرنگ کر کے 6 نہتے فلسطینیوں کو شہید اور 100 سے زائد کو زخمی کر دیا تھا۔
احتجاج کے اہم مراکز اور عوامی ردعمل
اگرچہ اسرائیلی کارروائی پورے الجلیل میں پھیلی ہوئی تھی، تاہم فلسطینی یوم الارض کے احتجاج کا اصل مرکز سخنین، عرابہ اور دیر حنا کے شہر بنے۔ ان شہروں کے باسیوں نے ثابت کیا کہ وہ اپنی زمین کے ایک ایک انچ کے لیے جان کی بازی لگا سکتے ہیں۔ آج 50 سال مکمل ہونے پر بھی ان شہداء کی یاد تازہ ہے اور فلسطینی یوم الارض کے موقع پر ان کے حوصلے کو سلام پیش کیا جا رہا ہے۔
اپنی زمین سے زیتون کا رشتہ
فلسطینی آج بھی اس دن کو مقبوضہ علاقوں بشمول غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں بھرپور طریقے سے مناتے ہیں۔ فلسطینی یوم الارض کی ایک خاص بات زیتون کے نئے درخت لگانا ہے۔ زیتون کا درخت فلسطینیوں کے لیے استقامت اور اپنی مٹی سے جڑے رہنے کی علامت ہے۔ ان پودوں کے ذریعے فلسطینی دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ قبضے کے باوجود ان کی جڑیں اس زمین میں بہت گہری ہیں۔
عالمی سطح پر یوم الارض کی اہمیت
آج 2026 میں، جب ان مظاہروں کو 50 سال مکمل ہو چکے ہیں، دنیا کے مختلف بڑے شہروں بشمول لندن، واشنگٹن اور استنبول میں احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ فلسطینی یوم الارض اب صرف فلسطین تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ عالمی سطح پر مظلوموں کی حمایت کی علامت بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس دن کی مناسبت سے اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی مذمت کرتی ہیں۔
موجودہ صورتحال اور مستقبل کا عزم
غزہ اور مغربی کنارے میں جاری حالیہ کشیدگی نے فلسطینی یوم الارض کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ فلسطینیوں کا ماننا ہے کہ جب تک ان کی زمینیں واپس نہیں مل جاتیں، ہر سال 30 مارچ کو منایا جانے والا فلسطینی یوم الارض ان کی تحریک آزادی کو جلا بخشتا رہے گا۔ اس سال کی تقریبات میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی نسل بھی اپنی تاریخ اور حقوق سے بخوبی واقف ہے۔
آزادی صحافت ایوارڈ 2025: فلسطین کی مریم ابو دقہ سمیت عالمی صحافیوں کو خراجِ تحسین
مختصراً یہ کہ فلسطینی یوم الارض حق و باطل کے معرکے کی وہ یادگار ہے جو رہتی دنیا تک فلسطینیوں کے اپنے وطن کی واپسی کے خواب کو زندہ رکھے گی۔