لبلبے کے کینسر کا علاج: اسپین کی نئی تحقیق میں بڑی پیش رفت

لبلبے کے کینسر کا علاج
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لبلبے کے کینسر کا علاج دریافت؟ اسپین کے سائنسدانوں کا اہم دعویٰ

لبلبے کے کینسر کا علاج طویل عرصے سے جدید طب کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ یہ کینسر دنیا کے خطرناک ترین کینسروں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اکثر مریضوں میں اس کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب بیماری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے لبلبے کے کینسر کا علاج مشکل اور مریضوں کی بقا کی شرح انتہائی کم رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں اسپین میں ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق نے لبلبے کے کینسر کا علاج ممکن بنانے کی سمت ایک بڑی پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، جس نے عالمی سطح پر طبی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

اسپین کی نئی تحقیق کیا کہتی ہے؟

یہ تحقیق اسپین کے نیشنل کینسر ریسرچ سینٹر (CNIO) کے سائنسدانوں نے انجام دی، جس کے نتائج معروف سائنسی جریدے PNAS میں شائع ہوئے۔ تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے تین مختلف علاجوں پر مشتمل ایک ٹرپل تھراپی استعمال کی، جس کے نتیجے میں چوہوں میں لبلبے کے کینسر کے ٹیومر مکمل طور پر ختم ہو گئے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں لبلبے کے کینسر کا علاج بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

لبلبے کے کینسر کا علاج کیوں مشکل ہے؟

لبلبے کا کینسر، جسے طبی زبان میں پینکریاٹک ڈکٹل ایڈینوکارسینوما کہا جاتا ہے، نہایت تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے۔ اس کینسر کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ:

  • علامات دیر سے ظاہر ہوتی ہیں
  • کینسر جلد ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتا ہے
  • روایتی علاج اکثر مؤثر ثابت نہیں ہوتے

اسی لیے لبلبے کے کینسر کا علاج دنیا بھر میں ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔

KRAS آنکوجین کو کیسے نشانہ بنایا گیا؟

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سائنسدانوں نے کینسر کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرنے والے KRAS آنکوجین کے مالیکیولر راستے کے تین مختلف حصوں کو بیک وقت نشانہ بنایا۔

عام طور پر ایک ہی مالیکیول کو نشانہ بنانے سے کینسر کے خلیے جلد مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں، لیکن اس تحقیق میں مختلف راستوں کو ایک ساتھ بلاک کیا گیا، جس سے لبلبے کے کینسر کا علاج زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔

ٹرپل تھراپی میں کون سی ادویات شامل تھیں؟

اس کامیاب تجربے میں تین مختلف اقسام کی ادویات استعمال کی گئیں:

  1. ایک تجرباتی KRAS روکنے والی دوا
  2. پھیپھڑوں کے کینسر کے لیے پہلے سے منظور شدہ دوا
  3. ایک ایسی دوا جو مخصوص پروٹین کو ختم کرتی ہے

ان تینوں ادویات کے امتزاج نے چوہوں میں بغیر کسی بڑے ضمنی اثر کے ٹیومر کو ختم کر دیا، جو لبلبے کے کینسر کا علاج دریافت ہونے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

نتائج کتنے حوصلہ افزا ہیں؟

تحقیق کے دوران تین مختلف جانوروں کے ماڈلز میں طویل عرصے تک ٹیومر میں کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کینسر کی مزاحمت کو روکا جائے تو لبلبے کے کینسر کا علاج ممکن ہو سکتا ہے۔

یہ دریافت خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ اسپین میں ہر سال لبلبے کے کینسر کے دس ہزار سے زائد نئے کیس سامنے آتے ہیں، جبکہ پانچ سال تک زندہ رہنے کی شرح دس فیصد سے بھی کم ہے۔

کیا انسانوں میں یہ علاج دستیاب ہے؟

اگرچہ یہ تحقیق ایک اہم سنگِ میل سمجھی جا رہی ہے، لیکن سائنسدانوں نے احتیاط برتنے پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق:

  • فی الحال انسانوں پر اس ٹرپل تھراپی کے کلینیکل ٹرائلز شروع نہیں کیے جا سکتے
  • ادویات کے اس امتزاج کو محفوظ اور مؤثر بنانا ایک پیچیدہ عمل ہے

تاہم، ماہرین کو امید ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں انسانوں کے لیے لبلبے کے کینسر کا علاج تیار کرنے کی بنیاد بنے گی۔

خون میں شوگر کی مقدار اور الزائمرز: نئی تحقیق میں بڑا انکشاف

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق نہ صرف لبلبے کے کینسر کا علاج بلکہ دیگر خطرناک کینسروں کے علاج کے لیے بھی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ اگر مستقبل میں کامیاب کلینیکل ٹرائلز ہوئے تو یہ دریافت ہزاروں جانیں بچانے کا سبب بن سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]