پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد پولی سسٹک اووری سنڈروم کی علامات سے لاعلم، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
پاکستان میں خواتین کی صحت کے حوالے سے ایک تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے، جہاں زچگی کی عمر کو پہنچنے والی خواتین کی اکثریت ایک پیچیدہ ہارمونل بیماری کا شکار ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں 70 فیصد خواتین پولی سسٹک اووری سنڈروم کی علامات کو پہچاننے میں ناکام رہتی ہیں اور اس بیماری کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بیماری کی وجوہات اور طرز زندگی
کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ آگاہی سیشن کے دوران ماہرین امراض نسواں نے بتایا کہ دورِ حاضر کا غیر صحت مند طرز زندگی اس بیماری کی جڑ ہے۔ جنک فوڈ کا کثرت سے استعمال، جسمانی ورزش کی کمی اور بڑھتا ہوا موٹاپا کم عمر لڑکیوں میں پولی سسٹک اووری سنڈروم کی علامات پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو یہ بانجھ پن اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
پاکستان میں تشویشناک اعداد و شمار
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، کراچی کے سول اسپتال کی گائنی او پی ڈی میں آنے والی تقریباً 55 فیصد خواتین اس ہارمونل عدم توازن کا شکار پائی گئی ہیں۔ ان خواتین میں پولی سسٹک اووری سنڈروم کی علامات جیسے غیر ضروری بالوں کا اگنا، چہرے پر دانے (Acne) اور ماہواری میں بے قاعدگی واضح طور پر دیکھی گئی ہیں۔
حکومتی اور نجی سطح پر اقدامات
خواتین کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے "ڈسکورنگ پی سی او ایس” کے نام سے ایک بڑے پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت زچگی کی عمر کی ایک کروڑ خواتین کو مفت تشخیصی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ خواتین ابتدائی مرحلے میں ہی پولی سسٹک اووری سنڈروم کی علامات کو پہچان سکیں اور علاج شروع کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے ملک بھر میں 100 خصوصی کلینکس بھی قائم کیے جائیں گے۔
علاج اور بچاؤ کے طریقے
ماہرین کا کہنا ہے کہ غذا میں تبدیلی اور روزانہ 30 منٹ کی واک پولی سسٹک اووری سنڈروم کی علامات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ چینی اور نشاستہ دار اشیاء سے پرہیز اور وزن کو کنٹرول میں رکھنا اس بیماری کا بہترین علاج ہے۔
جدید میڈیکل سائنس کا انقلاب: وزن کم کرنے والی گولی کی دستیابی اور فوڈ انڈسٹری پر اس کے اثرات
اگر آپ یا آپ کے گردونواح میں کوئی خاتون پولی سسٹک اووری سنڈروم کی علامات محسوس کر رہی ہے، تو فوری طور پر ماہر امراض نسواں سے رجوع کریں تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔