پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ: شہر میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام
پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حالیہ خودکش حملے نے ایک بار پھر سیکیورٹی صورتحال کی سنگینی کو نمایاں کردیا ہے۔ پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ جمعرات کی صبح اُس وقت ہوا جب ایک خودکش بمبار نے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ دھماکے کے فوراً بعد دو مزید دہشت گردوں نے مرکزی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے دونوں حملہ آوروں کو موقع پر ہی ہلاک کردیا۔
حملے کی ابتدائی تفصیلات
حملہ صبح تقریباً آٹھ بجے ہوا۔ پہلے ایک دہشتگرد نے گیٹ پر خودکش دھماکا کیا جس کے نتیجے میں زور دار دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اسی دوران دو مزید حملہ آور ایف سی ہیڈکوارٹر کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے، مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی نے حملہ ناکام بنا دیا۔
جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد
آپریشن کے دوران ایف سی کے 3 بہادر اہلکار شہید ہوگئے جبکہ 2 اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 11 سے زائد زخمیوں کو اسپتال لایا گیا جن میں شہری بھی شامل تھے۔
علاقے کا محاصرہ اور آپریشن
دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو 1122، پولیس، اور ایلیٹ فورس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ کینٹ روڈ اور ملحقہ علاقوں کو ٹریفک اور عوام کے لیے بند کردیا گیا۔ سی سی پی او پشاور میاں سعید نے خود آپریشن کی قیادت کی اور تصدیق کی کہ تمام دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔
سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کا مقصد ایف سی ہیڈکوارٹر پر قبضہ کرنا تھا، تاہم فوری ردعمل نے انہیں کامیاب نہ ہونے دیا۔ اس طرح پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہونے سے بچ گیا۔ آپریشن کے دوران فائر وہیکل، ڈیزاسٹر وہیکل اور ریسکیو کی متعدد ایمبولینسز موقع پر پہنچیں۔
حکومتی ردعمل اور مذمت
صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ بیرونی پشت پناہی سے سرگرم دہشت گرد عناصر ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر قوم متحد ہے۔

وزیراعظم نے شہداء کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
فتنۃ الخوارج کا خطرہ
سیکیورٹی اداروں نے حملہ آوروں کو فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے گروہوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ ملک میں اس گروہ کی سرگرمیوں میں حالیہ مہینوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے سیکیورٹی فورسز کو مزید چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عوامی ردعمل
پشاور کے شہریوں نے حملے پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ فورسز کی حاضر دماغی کے باعث شہر کو بڑے خونریز حملے سے بچا لیا گیا۔
شہر میں ہائی الرٹ
حملے کے بعد پشاور سمیت پورے خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔ شہر میں بی آر ٹی سروس بھی عارضی طور پر بند کردی گئی تھی، جسے کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے کے بعد بحال کردیا جائے گا۔
غزہ اسرائیلی حملےمیں 24 فلسطینیوں کی شہادت—حماس کی ثالثوں سے فوری اپیل
پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ ملک دشمن عناصر اب بھی سرگرم ہیں۔ تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارکردگی اور جان فشانی نے اس بڑے حملے کو ناکام بنایا۔ شہداء کی قربانیاں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔
پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج pic.twitter.com/9QoMu8sM5B
— tajamal 💞 (@MuhammadTa87919) November 24, 2025
3 Responses