پشاور ہائیکورٹ سزا وکیل کیس: سول جج کو دھمکی دینے پر سزا

پشاور ہائیکورٹ سزا وکیل کیس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پشاور ہائیکورٹ: سول جج کو دھمکانے اور دباؤ ڈالنے پر وکیل کو سزا

پشاور ہائیکورٹ میں عدالتی وقار اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے، جہاں پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سوات کے رکن وکیل اسداللہ کو سزا سنائی۔ اس فیصلے نے قانونی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی وکیل یا فرد کو عدالت پر دباؤ ڈالنے یا عدالتی کارروائی میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت کے مطابق قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہوتے ہیں جو عدالتی نظام کے احترام کو یقینی بنائیں۔

اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم وکیل نے ایک سول جج کو دھمکانے اور نامناسب زبان استعمال کرنے کی کوشش کی۔ عدالت کے مطابق یہ عمل نہ صرف عدالتی ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے بلکہ اس سے عدالتی نظام کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وکلاء کا کردار انصاف کی فراہمی میں انتہائی اہم ہوتا ہے اور اگر کوئی وکیل خود قانون کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہو جاتی ہے۔

عدالت کے مطابق ملزم وکیل پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر من پسند فیصلہ حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ اس حوالے سے عدالت نے کہا کہ کسی بھی مقدمے میں فیصلے صرف قانون اور شواہد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور کسی قسم کا دباؤ یا دھمکی قابل قبول نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف عدالت کی توہین ہوتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزم وکیل کو متعدد بار عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم انہوں نے عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا۔ جسٹس اعجاز انور نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب عدالت کسی کو طلب کرتی ہے تو اس کا احترام کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہوتی ہے، خاص طور پر ایک وکیل کے لیے یہ ذمہ داری اور بھی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہ قانون کے نظام کا حصہ ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ غیر تسلی بخش جواب اور عدالتی احکامات کے باوجود پیش نہ ہونے کی وجہ سے سزا سنانا ناگزیر ہو گیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ عدالتیں اپنے وقار اور اختیار کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرنے سے گریز نہیں کریں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام میں نظم و ضبط برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ عوام کا اعتماد عدالتوں پر برقرار رہے۔ اگر عدالتوں کے فیصلوں یا کارروائیوں پر دباؤ ڈالنے کی روایت کو روکا نہ جائے تو اس سے انصاف کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

اس کیس نے وکلاء برادری میں بھی ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ بہت سے سینئر وکلاء کا کہنا ہے کہ وکلاء کو چاہیے کہ وہ اپنے پیشے کے اصولوں اور اخلاقیات کا مکمل احترام کریں۔ وکالت ایک باعزت پیشہ ہے جس میں قانون کی پاسداری اور عدالتی نظام کے احترام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس واقعے کے بعد قانونی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ بار ایسوسی ایشنز کو بھی اپنے اراکین کی تربیت اور نگرانی کے حوالے سے مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

دوسری جانب عوامی حلقوں میں بھی اس فیصلے کو مثبت نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر عدالتیں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گی تو اس سے انصاف کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔ عوام کا یہ بھی ماننا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، چاہے وہ عام شہری ہو یا وکیل۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں عدلیہ نے ماضی میں بھی عدالتی وقار کے تحفظ کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔ ایسے فیصلوں کا مقصد نہ صرف قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں نظم و ضبط اور انصاف کے اصولوں کو فروغ دینا بھی ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ فیصلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو عدالتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔

عدالت کے اس اقدام سے یہ پیغام بھی گیا ہے کہ وکلاء کو چاہیے کہ وہ عدالتوں کے ساتھ تعاون کریں اور قانونی طریقہ کار کی مکمل پابندی کریں۔ اگر کسی وکیل کو کسی فیصلے یا کارروائی پر اعتراض ہو تو اس کے لیے قانونی راستے موجود ہیں، تاہم دھمکی یا دباؤ ڈالنے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی نظام کی ساکھ برقرار رکھنا تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مزید برآں، اس فیصلے کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وکلاء برادری اپنے اندر احتساب کے عمل کو مزید مضبوط کرے گی۔ بار ایسوسی ایشنز کو چاہیے کہ وہ اپنے اراکین کو پیشہ ورانہ اخلاقیات کے حوالے سے آگاہ کریں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ اس سے نہ صرف وکالت کے پیشے کا وقار بلند ہوگا بلکہ عدالتی نظام بھی زیادہ مضبوط اور مؤثر انداز میں کام کر سکے گا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام میں نظم و ضبط اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ عدالت نے واضح پیغام دیا ہے کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی یا عدالت پر دباؤ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس فیصلے سے نہ صرف وکلاء بلکہ تمام شہریوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ قانون کا احترام کرنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے اور انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]