حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا – فی لیٹر ٹیکس اور لیوی کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں
حکومت نے نئے سال کے موقع پر عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے کچھ ریلیف فراہم کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کو عام آدمی، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور کاروباری حلقوں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا براہِ راست اثر روزمرہ اشیائے ضروریہ اور سفری اخراجات پر پڑتا ہے۔ قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد مختلف ٹیکسز اور چارجز کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں، جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت کس مد میں کتنا ریونیو وصول کر رہی ہے اور کہاں عوام کو ریلیف دیا گیا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں
حکومتی فیصلے کے تحت:
- پیٹرول فی لیٹر 10 روپے 28 پیسے سستا ہونے کے بعد 253 روپے 17 پیسے کا ہو گیا ہے۔
- ہائی اسپیڈ ڈیزل فی لیٹر 8 روپے 57 پیسے سستا ہونے کے بعد 257 روپے 08 پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔
یہ کمی خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ ڈیزل ان شعبوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
سیلز ٹیکس معطل، بڑا ریلیف
حکومت نے عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر سیلز ٹیکس مکمل طور پر معطل کر دیا ہے۔ عام حالات میں ایندھن پر سیلز ٹیکس کی مد میں بھاری رقم وصول کی جاتی ہے، جو قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ سیلز ٹیکس کی معطلی سے قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکی ہے، تاہم اس کے باوجود کچھ دیگر لیویز اور مارجنز بدستور برقرار رکھے گئے ہیں۔
پیٹرول پر فی لیٹر وصول کیے جانے والے ٹیکس اور چارجز
اگر پیٹرول پر عائد مختلف مدات کا جائزہ لیا جائے تو فی لیٹر درج ذیل رقم وصول کی جا رہی ہے:
- پیٹرولیم لیوی: 79 روپے 62 پیسے
- کلائمیٹ سپورٹ لیوی: 2 روپے 50 پیسے
- آئل مارکیٹنگ کمپنی (OMC) مارجن: 7 روپے 87 پیسے
- ڈیلرز مارجن (پیٹرول پمپس): 8 روپے 64 پیسے
یوں ایک لیٹر پیٹرول پر براہِ راست سیلز ٹیکس صفر ہے، تاہم مجموعی طور پر مختلف لیویز اور مارجنز کی مد میں قابلِ ذکر رقم شامل ہے۔ خاص طور پر پیٹرولیم لیوی سب سے بڑا حصہ رکھتی ہے، جو حکومت کے ریونیو کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
ڈیزل پر فی لیٹر وصول کیے جانے والے ٹیکس اور چارجز
ڈیزل کے معاملے میں بھی سیلز ٹیکس معطل ہے، لیکن دیگر مدات برقرار رکھی گئی ہیں:
- پیٹرولیم لیوی: 75 روپے 41 پیسے
- آئل مارکیٹنگ مارجن: 7 روپے 87 پیسے
- ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (IFEM): 8 روپے 97 پیسے
(یہ مارجن 81 پیسے اضافے کے بعد مقرر کیا گیا ہے)
ڈیزل پر ان لینڈ فریٹ مارجن نسبتاً زیادہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں تک ڈیزل کی ترسیل کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
قیمت کے اندر کیا شامل ہے؟
اگر عام صارف کی نظر سے دیکھا جائے تو پمپ پر نظر آنے والی قیمت میں صرف خام تیل کی لاگت شامل نہیں ہوتی بلکہ اس میں:
- حکومت کی لیویز
- آئل کمپنیوں کے مارجنز
- ڈیلرز کا منافع
- فریٹ اور ڈسٹری بیوشن اخراجات
سب کچھ شامل ہوتا ہے۔ اسی لیے عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے باوجود مقامی سطح پر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ محدود رہتا ہے۔
حکومتی مؤقف
حکومت کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس معطل کرکے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی کو برقرار رکھنا مالی ضروریات کے پیش نظر ناگزیر ہے۔ حکام کے مطابق پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والا ریونیو ترقیاتی منصوبوں، سبسڈی اور دیگر ریاستی اخراجات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
عوامی ردِعمل
عوامی حلقوں میں قیمتوں میں کمی کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، تاہم کئی صارفین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اب بھی بہت زیادہ ہے اور اگر اس میں مزید کمی کی جائے تو حقیقی معنوں میں بڑا ریلیف ممکن ہو سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز اور کسانوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ڈیزل پر لیوی میں مزید کمی کی جائے تاکہ کرایوں اور زرعی لاگت میں کمی آئے۔
معاشی ماہرین کی رائے
ماہرین معاشیات کے مطابق سیلز ٹیکس معطل کرنا قلیل مدتی ریلیف تو فراہم کرتا ہے، لیکن طویل مدت میں حکومت کو ریونیو کے متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں تو حکومت کے پاس مزید ریلیف دینے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
نئے سال کے آغاز پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی بلاشبہ عوام کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ سیلز ٹیکس کی معطلی نے قیمتوں میں کمی کو ممکن بنایا، تاہم فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی اور دیگر مارجنز بدستور ایک بڑا بوجھ ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا حکومت اس ریلیف کو برقرار رکھ پاتی ہے یا مالی دباؤ کے باعث دوبارہ قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ فی الحال، عوام کو نئے سال میں کچھ سانس لینے کا موقع ضرور ملا ہے

