پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع، لیوی کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں باقاعدہ طور پر درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں حکومت کے مقرر کردہ طریقہ کار کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اضافے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کی جانب سے عدالت میں متفرق درخواست جمع کروائی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے اور اس کے تعین کا طریقہ کار شفاف اور قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں۔
درخواست میں خاص طور پر پیٹرولیم لیوی میں فی لیٹر 55 روپے 24 پیسے کے نمایاں اضافے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس قدر بڑا اضافہ بغیر مناسب جواز اور قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر کیا گیا، جو آئین اور عوامی مفاد کے خلاف ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیے گئے حالیہ اضافے کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور حکومت کو ہدایت دی جائے کہ قیمتوں کے تعین کے لیے شفاف اور قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے۔
مزید برآں درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہری کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں بھی ان اضافوں کے باعث مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی درخواستیں عدالتوں میں عوامی مفاد کے تحت دائر کی جاتی ہیں، جن کا مقصد حکومتی پالیسیوں کا قانونی جائزہ لینا ہوتا ہے۔ اگر عدالت اس درخواست کو قابل سماعت قرار دیتی ہے تو حکومت سے اس حوالے سے تفصیلی جواب طلب کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر اور حکومتی ٹیکسز و لیویز کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، تاہم حالیہ اضافے نے عوامی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ لاہور ہائیکورٹ اس درخواست پر کیا فیصلہ دیتی ہے اور آیا حکومت کے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو برقرار رکھا جاتا ہے یا اس میں کسی تبدیلی کی ہدایت کی جاتی ہے۔
یہ کیس نہ صرف قانونی بلکہ معاشی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس کے اثرات براہ راست عوامی زندگی اور ملکی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔


One Response