پی آئی اے فلائٹ پرسر کینیڈا میں لاپتا: پی آئی اے ملازم غائب ہونے پر ترجمان کا بیان، غیر قانونی غائب ہونے پر کارروائی ہوگی
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کو ایک بار پھر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے جب اس کا ایک اور فضائی میزبان مبینہ طور پر ملک میں جاری نجکاری کے خوف سے کینیڈا میں غائب ہوگیا ہے۔ یہ واقعہ پی آئی اے کے ملازمین کے بیرون ملک لاپتا ہونے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس سے قومی ایئرلائن کی کارکردگی اور نظم و ضبط پر سوالات اٹھتے ہیں۔
کینیڈا میں لاپتا ہونے کا واقعہ
لاہور سے کینیڈا کی پرواز پر تعینات فلائٹ پرسر آصف نجم کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں مبینہ طور پر غائب ہوگئے ہیں۔ پرواز PK-798 ان کے بغیر ہی واپس لاہور آگئی۔
تفصیلات کے مطابق، آصف نجم 16 نومبر کو لاہور سے ٹورنٹو کی پرواز کے ذریعے کینیڈا پہنچے تھے۔ انہیں 19 نومبر کی واپسی کی پرواز (PK-798) کے ذریعے عملے کے دیگر ارکان کے ساتھ واپس لاہور پہنچنا تھا، لیکن وہ 16 سے 19 نومبر کے درمیانی عرصے میں ہی ہوٹل سے غائب ہوگئے۔ یہ واقعہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پی آئی اے ملازم غائب ہونے کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔
غائب ہونے کی مبینہ وجہ: نجکاری کا خوف
اگرچہ آصف نجم کے غائب ہونے کی حتمی وجہ سامنے نہیں آئی، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر ایسے ہی واقعات کی طرح اس کی بنیادی وجہ بھی پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کا خوف ہے۔ ملازمین کو یہ اندیشہ ہے کہ نجکاری کے بعد ان کی ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں یا انہیں نئے اور سخت قواعد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ غیر قانونی طور پر بیرون ملک رک جانا انہیں ایک بہتر اور زیادہ مستحکم مستقبل کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس واقعہ سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ نجکاری کے مبینہ خوف سے ایک اور پی آئی اے ملازم غائب ہو گیا ہے۔
پی آئی اے کا ردعمل اور محکمانہ کارروائی
اس واقعے پر پی آئی اے کے ترجمان نے فوری طور پر ردعمل جاری کیا۔ ترجمان نے تصدیق کی کہ فضائی میزبان آصف نجم نے ٹورنٹو سے لاہور آنے والی پرواز PK-798 پر رپورٹ نہیں کیا۔ یہ کسی بھی ایئر لائن کے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ آصف نجم نے رابطہ کرنے پر اپنی طبیعت کی ناسازی کا عذر پیش کیا، تاہم معاملے کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ پی آئی اے کے حکام اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ آیا ان کا دعویٰ درست ہے یا یہ محض غیر قانونی طور پر غائب ہونے کا بہانہ ہے۔
ترجمان پی آئی اے نے واضح کیا کہ "غیر قانونی طور غائب ہونے کی صورت میں فضائی میزبان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔” اس کارروائی میں ملازمت سے برطرفی اور قانونی اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ایئر لائن نے اس سے قبل بھی ایسے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی ہے جو بیرون ملک ڈیوٹی کے دوران لاپتا ہو جاتے ہیں۔ یہ کارروائی پی آئی اے ملازم غائب ہونے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
پی آئی اے میں انجینئرز اور انتظامیہ کا تنازع شدت اختیار کر گیا، پی آئی اے کی درجنوں پروازیں منسوخ
بڑھتے ہوئے غائب ہونے کے واقعات
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جب ملازم غائب ہوا ہو۔ اس سے قبل بھی پی آئی اے کے متعدد ملازمین، خاص طور پر فلائٹ اٹینڈنٹس اور پرسرز، بیرون ملک لاپتا ہو چکے ہیں۔ یہ واقعات ایئر لائن کے لیے انتظامی اور سیکیورٹی دونوں سطح پر ایک بڑا چیلنج ہیں۔ یہ نہ صرف ایئر لائن کے امیج کو خراب کرتے ہیں بلکہ ان کی بین الاقوامی پروازوں کے شیڈول اور عملے کے انتظام کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ حکومت کو اس پی آئی اے ملازم غائب ہونے کے تسلسل کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
One Response