پی آئی اے کی نجکاری کا اہم مرحلہ مکمل، شفاف ٹی وی نیلامی میں پاکستانی سرمایہ کار آگے

پی آئی اے کی نجکاری کی شفاف ٹی وی نیلامی میں بولی دہندگان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری: شفاف عمل میں 75 فیصد شیئر ہولڈنگ کے لیے بولیاں

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل میں ایک اہم مرحلہ طے پا گیا، جہاں نجکاری کمیشن کے ایک سینئر اہلکار نے قومی ایئر لائن کی نجکاری کی ملک کی دوسری ٹیلی وژن کے ذریعے نشر ہونے والی کوشش میں بولیاں کھولنے کے عمل کی نگرانی کی۔ یہ عمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے براہِ راست سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا، جسے حکومتی حلقوں کی جانب سے اعتماد سازی کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایئر لائن کے لیے بولی کے عمل میں جو بھی کامیاب ہوگا، حقیقی فتح پاکستان کی ہی ہوگی۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ نجکاری کے عمل میں حصہ لینے والے تمام بولی دہندگان پاکستانی ہیں، جسے انہوں نے ملک کے سرمایہ کاری ماحول کے لیے ایک “اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت” قرار دیا۔

وزیر خزانہ نے کہا،
"آج تمام بولی لگانے والے پاکستان سے ہیں، جو ایک بہت بڑی بات ہے۔ ملک کے بہترین اور بڑے کاروباری گروپ قومی ایئر لائن کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں، اور اب اس ادارے کی قیادت تجربہ کار پاکستانی سرمایہ کاروں کے ہاتھ میں آئے گی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بولی کا عمل سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرے گا اور شفاف معاشی اصلاحات کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرے گا، جس سے بالواسطہ طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔ وزیر خزانہ کے مطابق حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ سرکاری ادارے قومی خزانے پر بوجھ بننے کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں، اور ملکی سرمایہ کاروں کی شمولیت معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔

محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی اور ان کی ٹیم کو بھی مبارکباد دی اور نجکاری کے عمل کو پیشہ ورانہ، شفاف اور قابلِ اعتماد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا،
"میں محمد علی اور ان کی ٹیم کو ایک ایسا عمل چلانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں جو صرف اعلیٰ درجے کے پیشہ ور افراد ہی فراہم کر سکتے ہیں۔”

پی آئی اے کی بہتری اولین ترجیح

کھلی بولی سے قبل خطاب کرتے ہوئے مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ قومی پرچم بردار ایئر لائن کی نجکاری حکومت کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد پی آئی اے کو محض فروخت کرنا نہیں بلکہ اسے مستحکم، خودمختار اور منافع بخش ادارہ بنانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری آئے گی اور حکومت ایئر لائن کی ماضی کی شان بحال کرنا چاہتی ہے۔ محمد علی نے بتایا کہ حکومت نے ابتدا میں 51 فیصد سے لے کر 100 فیصد تک حصص کی نجکاری کے مختلف آپشنز پر غور کیا، جبکہ کچھ بولی دہندگان نے 75 فیصد حصص میں دلچسپی ظاہر کی۔ بالآخر حکومت نے 75 فیصد شیئر ہولڈنگ فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بولی کے عمل سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد براہِ راست پی آئی اے کی بہتری، آپریشنل اصلاحات، بیڑے کی توسیع اور مالی استحکام پر خرچ کیا جائے گا، جبکہ 7.5 فیصد رقم حکومت کو منتقل ہو گی۔ اس کے علاوہ ادائیگی کے لیے مرحلہ وار نظام رکھا گیا ہے، جس کے تحت دو تہائی رقم 90 دنوں میں اور باقی ایک تہائی 12 ماہ کے اندر ادا کی جا سکے گی۔

مشیر نجکاری کے مطابق کامیاب بولی دہندگان کو بولی مکمل ہونے کے بعد دو اضافی شراکت دار شامل کرنے کی بھی اجازت ہو گی، جبکہ وہ ادارے جو اس مرحلے میں حصہ نہیں لیتے، بعد میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔ تاہم فوجی فرٹیلائزر کمپنی پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی کیونکہ اس نے باضابطہ طور پر نجکاری سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔

بولی دہندگان اور عمل کی تفصیلات

اسلام آباد میں منعقدہ کھلی بولی کی تقریب میں تین بولی دہندگان نے پی آئی اے میں اکثریتی حصص کے حصول کے لیے حصہ لیا۔ چونکہ دو بولیاں حکومت کی حوالہ قیمت 100 ارب روپے سے تجاوز کر گئیں، اس لیے کامیاب بولی دہندہ کا تعین کھلی نیلامی کے ذریعے کیا جائے گا۔ بعد ازاں کم قیمت والی بولی دہندہ کو اپنی پیشکش برابر یا اس سے زیادہ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

بولی دہندگان میں:

  • لکی سیمنٹ لمیٹڈ کی قیادت میں کنسورشیم (حب پاور ہولڈنگز، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز)
  • عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی قیادت میں کنسورشیم (فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکولز، لیک سٹی ہولڈنگز)
  • نجی ایئر لائن ایئر بلیو (پرائیویٹ) لمیٹڈ

شامل ہیں۔

بولیوں کا آغاز سہ پہر 4:30 بجے ہوا، جہاں بولی دہندگان کے نمائندوں نے براہِ راست نشریات کے دوران مہر بند لفافے شفاف باکس میں جمع کروائے۔

ملازمین کا تحفظ اور مستقبل کے امکانات

حکومت نے پی آئی اے ملازمین کو 12 ماہ کے ملازمت کے تحفظ کی ضمانت دی ہے۔ پنشن، طبی سہولیات اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی مراعات ہولڈنگ کمپنی سنبھالے گی، جبکہ موجودہ تنخواہیں اور مراعات نئے مالکان ادا کریں گے۔

حکام کے مطابق پی آئی اے کے پاس اس وقت 78 ممالک میں آپریٹنگ حقوق اور دنیا بھر میں تقریباً 170 لینڈنگ سلاٹس ہیں۔ ایئر لائن کو فوری طور پر نئی سرمایہ کاری اور پیشہ ورانہ انتظام کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال نجکاری کی کوشش ناکام ہو گئی تھی، جب 60 فیصد حصص کے لیے مقررہ کم از کم قیمت 305 ملین ڈالر کے مقابلے میں صرف 36 ملین ڈالر کی بولی موصول ہوئی تھی۔ تاہم اب صورتحال بہتر ہو چکی ہے۔ حکومت نے پی آئی اے کا بڑا میراثی قرض سنبھال لیا ہے، ایئر لائن نے دو دہائیوں میں پہلی بار قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا ہے، اور برطانیہ و یورپی یونین نے پانچ سالہ پابندیاں ختم کر دی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان روٹس کی بحالی سے پی آئی اے کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور نجکاری کی بہتر قیمت ملنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ پی آئی اے کی فروخت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت نجکاری کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے، جس کا مقصد مالیاتی دباؤ کم کرنا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]