بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان: مستونگ آپریشن میں میجر سمیت 2 جوان شہید

مستونگ میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے خلاف پاک فوج کا آپریشن
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے سائے وار کیخلاف مستونگ میں پاک فوج کا انٹیلیجنس بیسڈ اوپریشن

بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے خلاف مستونگ آپریشن

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے ایک بھرپور اور ہدفی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس میں میجر زیاد سلیم اور سپاہی ناظم حسین شہید ہوگئے جبکہ 3 دہشت گرد مارے گئے۔

آپریشن کی تفصیلات

آئی ایس پی آر کے مطابق، مستونگ کے علاقے میں موجود دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ تاہم، دہشت گردوں کی جانب سے شدید مزاحمت کے دوران میجر زیاد سلیم اور سپاہی ناظم حسین جامِ شہادت نوش کر گئے۔

شہداء کی شناخت

آئی ایس پی آر کے مطابق، میجر زیاد سلیم 31 سالہ بہادر افسر تھے جن کا تعلق ضلع خوشاب سے تھا۔ وہ اپنی ٹیم کی فرنٹ سے قیادت کر رہے تھے۔ شہید سپاہی ناظم حسین کا تعلق ضلع جہلم سے تھا اور ان کی عمر 22 سال تھی۔

کلیئرنس آپریشن جاری

سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ فورسز کا کہنا ہے کہ وہ ملک سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس، خاص طور پر بھارتی حمایت یافتہ گروہوں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان: ایک سیکیورٹی چیلنج

پاکستان کی سرزمین پر بھارتی پراکسی نیٹ ورکس کی موجودگی نہ صرف سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہے بلکہ علاقائی امن و استحکام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کا مقصد پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کرنا ہے۔ اس لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ملک کے دفاع میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]