وزیراعظم شہباز شریف بجلی ٹیرف کمی، صنعتوں کیلئے بڑا ریلیف اعلان

وزیراعظم شہباز شریف صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں کمی کا اعلان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

صنعتی بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی، ویلنگ چارجز میں 9 روپے ریلیف

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ملکی صنعتوں اور برآمدی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے اختیار میں ہو تو وہ صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے نرخ مزید 10 روپے کم کر دیں، مگر بعض مجبوریوں کے باعث ان کے “ہاتھ بندھے ہوئے ہیں”۔ انہوں نے صنعتوں کے لیے ویلنگ چارجز میں بھی 9 روپے کمی کا اعلان کیا جسے کاروباری طبقے نے خوش آئند قرار دیا۔

یہ اعلانات وزیراعظم نے ملک کے بڑے ایکسپورٹرز اور نمایاں کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کے دوران کیے۔ تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، اعلیٰ سرکاری حکام، ممتاز صنعتکار، تاجر اور برآمد کنندگان کی بڑی تعداد شریک تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر ایوارڈ یافتہ برآمد کنندگان کے لیے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جن ایکسپورٹرز نے اپنی اپنی فیلڈ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، انہیں بلیو پاسپورٹ دیے جائیں گے جن کی مدت دو سال ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاسپورٹ نہ صرف پاکستان کی جانب سے اعزاز کی علامت ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستانی کاروباری برادری کی شناخت کو بھی مضبوط کرے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج کی تقریب میں شرکت ان کے لیے باعثِ فخر ہے کیونکہ یہاں وہ عظیم پاکستانی موجود ہیں جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں بھی شبانہ روز محنت کر کے ملکی برآمدات میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے، آپ نے خطرات مول لے کر پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کمائے اور پوری قوم آپ کی احسان مند ہے۔

وزیراعظم نے ملکی معیشت کو ڈیفالٹ سے بچانے کے حوالے سے اپنے تجربات اور عالمی مالیاتی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے کٹھن مذاکرات کا تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب یہ باتیں زبان زدِ عام تھیں کہ پاکستان خدانخواستہ ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، حتیٰ کہ بعض افراد نے سوشل میڈیا پر یہ تک لکھ دیا تھا کہ پاکستان ٹیکنیکلی ڈیفالٹ کر چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2023 میں پیرس کے دورے کے دوران ان کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات ہوئی، جہاں انہیں بتایا گیا کہ اس وقت پاکستان کے لیے نیا اسٹرکچر آفر کرنا انتہائی مشکل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سری لنکا ہمارا دوست ملک ہے جو اس وقت ڈیفالٹ کا شکار ہو چکا تھا اور وہاں سڑکوں پر شدید مظاہرے ہو رہے تھے۔ سری لنکا کے صدر نے بھی ان کے ساتھ آئی ایم ایف جانے کی پیشکش کی، جس کے بعد انہوں نے دوبارہ آئی ایم ایف حکام سے بات چیت کی۔

شہباز شریف کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے یہ اعتراض سامنے آیا کہ پاکستان ماضی میں پروگرامز ادھورے چھوڑ دیتا رہا ہے، تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس بار معاہدے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا، جس کے بعد پاکستان کو شارٹ ٹرم پروگرام دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان واقعی ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا، مگر مشکل اور کڑوے فیصلے کر کے ملک کو اس انجام سے بچایا گیا۔

وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ ان فیصلوں کی قیمت پوری قوم نے ادا کی، خاص طور پر غریب طبقہ شدید مشکلات سے دوچار ہوا۔ اس وقت پالیسی ریٹ 22 فیصد تک جا پہنچا تھا اور ملک میں ایک طرح کی کہرام کی کیفیت تھی۔ صنعتکاروں اور تاجروں نے بھی بھاری نقصانات برداشت کیے، مگر اس کے باوجود برآمدی شعبے نے ہمت نہیں ہاری۔

انہوں نے کہا کہ آج الحمدللہ پاکستانی معیشت میں نمایاں استحکام آ چکا ہے، مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے اور پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پر آ چکا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر پالیسی ریٹ میں مزید کمی نہ کی گئی تو ملکی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار نہیں لایا جا سکے گا۔

وزیراعظم نے دوست ممالک کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین نے اربوں ڈالر کے قرضے رول اوور کیے اور ہمیشہ مشکل ترین وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ اسی طرح سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی پاکستان کی بھرپور مدد کی جس کے نتیجے میں فارن ایکسچینج ریزروز میں بہتری آئی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ معیشت میں استحکام آیا ہے، مگر یہ کافی نہیں۔ آج بھی ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری ایک چیلنج ہیں اور کئی ممالک میں مصنوعات کی قیمتیں پاکستان سے کم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا میں کہیں بھی حکومت کاروبار نہیں کرتی، جہاں حکومت بزنس کرے وہاں تباہی آتی ہے۔ کاروبار کرنا پرائیویٹ سیکٹر کا کام ہے اور حکومت کا کردار سہولت کاری تک محدود ہونا چاہیے۔

شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کے لیے کیے گئے اقدامات آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں گروتھ کی طرف بڑھنا ہے اور اس کا واحد حل برآمدات میں اضافہ اور ڈالر کمانا ہے۔ حکومت کاروباری برادری کی تجاویز کا خیر مقدم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ رسک کے بغیر دنیا میں کوئی چیز کامیاب نہیں ہوئی، اس لیے میڈیم اور اسمال لیول انٹرپرینیورز کا ہاتھ پکڑنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امپورٹس بڑھیں گی تو ہی ایکسپورٹس بھی بڑھیں گی، اس لیے اس توازن کو سمجھنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ تاجر، صنعتکار اور ایکسپورٹرز پاکستان کے سر کا تاج ہیں اور معاشی ترقی کے لیے ان کے مشوروں پر عمل کرنا حکومت کا فرض ہے۔ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، کاروباری طبقے کو بھی حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔

خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان کو سفارتی محاذ پر بھی نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ معرکۂ حق میں فتح کے بعد دنیا میں پاکستان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے اور دشمن کو ایسی شکست دی گئی ہے جسے وہ نسلوں تک یاد رکھے گا۔ آج پاکستانی پاسپورٹ کو دوست ممالک میں عزت دی جا رہی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر ہو رہا ہے۔

انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کو شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ہدایات پر یہ عمل ٹیلی ویژن پر براہِ راست دکھایا گیا۔ وزیراعظم نے معروف سرمایہ کار عارف حبیب کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کو دوبارہ عالمی معیار کی ایئرلائن بنایا جائے گا اور مسافروں کو ورلڈ کلاس سروس فراہم کی جائے گی، جس کے لیے حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]