پاکستان میں پولیو وائرس کا نیا وار، شمالی وزیرستان سے ایک اور کیس رپورٹ
خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں پولیو کا ایک نیا کیس سامنے آ گیا ہے، جس کے بعد پاکستان میں رواں سال پولیو کے مجموعی کیسز کی تعداد بڑھ کر 31 ہو گئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (نیشنل ای او سی) نے نئے کیس کی تصدیق کرتے ہوئے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور انسدادِ پولیو اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نیشنل ای او سی کے مطابق شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہونے والا یہ نیا کیس ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پولیو وائرس اب بھی ملک کے بعض علاقوں میں موجود ہے اور بچوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں انسدادِ پولیو مہمات کے باعث کیسز میں کمی دیکھنے میں آئی، تاہم حالیہ کیسز اس بات کا ثبوت ہیں کہ وائرس کا مکمل خاتمہ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
نیشنل ای او سی نے واضح کیا ہے کہ پولیو ایک انتہائی خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے، جو متاثرہ بچے کو عمر بھر کی معذوری میں مبتلا کر سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق پولیو وائرس خاص طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے اور اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے جائیں تو یہ بیماری مستقل جسمانی کمزوری اور معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیو کا کوئی مستقل علاج موجود نہیں، تاہم بروقت ویکسینیشن کے ذریعے اس بیماری سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔
حکام کے مطابق پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت پاکستان، عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی شراکت دار مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ قومی انسدادِ پولیو مہم 2 فروری سے 8 فروری تک ملک بھر میں منعقد کی جائے گی۔ اس مہم کے دوران چار کروڑ پچاس لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔
نیشنل ای او سی کا کہنا ہے کہ یہ قومی مہم پولیو کے مکمل خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس میں ہزاروں تربیت یافتہ پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلائیں گے۔ مہم کے دوران سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات بھی کیے جائیں گے تاکہ فرنٹ لائن ورکرز بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں، خاص طور پر حساس اور دور دراز علاقوں میں۔
حکام نے والدین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں اور کسی بھی قسم کی افواہوں یا غلط معلومات سے متاثر نہ ہوں۔ نیشنل ای او سی کے مطابق پولیو ویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے اور دنیا بھر میں کروڑوں بچوں کو یہ ویکسین پلائی جا چکی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں پولیو کیسز کی ایک بڑی وجہ ویکسین سے متعلق آگاہی کی کمی اور بعض والدین کا تعاون نہ کرنا ہے۔ اسی لیے حکومت اور متعلقہ ادارے مذہبی رہنماؤں، مقامی عمائدین اور سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر عوام میں شعور اجاگر کرنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں تاکہ ہر بچے تک پولیو کے قطرے پہنچائے جا سکیں۔
واضح رہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت بارہا اس بات پر زور دے چکا ہے کہ پاکستان میں پولیو کا خاتمہ نہ صرف ملکی بلکہ عالمی صحت کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ وائرس کی موجودگی دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
مجموعی طور پر شمالی وزیرستان میں پولیو کے نئے کیس کی تصدیق نے ایک بار پھر اس امر کو اجاگر کر دیا ہے کہ پولیو کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ماہرین کے مطابق اس موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت، اداروں، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ اگر ہر بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو پولیو فری ملک قرار دیا جا سکے گا۔


One Response