پی پی 289 ضمنی الیکشن: 9 امیدوار دستبردار، اسامہ عبدالکریم کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کی راہ ہموار
ڈیرہ غازی خان میں پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 289 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں سیاسی صورتحال ایک اہم موڑ اختیار کر گئی ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اسامہ عبدالکریم کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔ اس پیش رفت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کی اکثریت نے انتخابی میدان سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔
الیکشن شیڈول کے مطابق پی پی 289 پر ضمنی انتخاب 25 جنوری کو ہونا ہے، تاہم کاغذات نامزدگی واپس لینے کے مرحلے میں غیر متوقع پیش رفت سامنے آئی۔ مجموعی طور پر 11 امیدواروں نے اس نشست کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے، جن میں سے 9 امیدواروں نے اپنے کاغذات واپس لے لیے ہیں۔ اس طرح انتخابی مقابلہ انتہائی محدود ہو گیا ہے اور عملی طور پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اسامہ عبدالکریم کی کامیابی یقینی دکھائی دے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق جن امیدواروں نے کاغذات واپس لیے ہیں، ان میں مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدوار شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امیدواروں کی دستبرداری کے بعد اگر صرف ایک امیدوار میدان میں رہ جاتا ہے تو انتخابی قوانین کے تحت اسے بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں پی پی 289 پر مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
یہ نشست اس وقت خالی ہوئی تھی جب مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سردار محمود قادر لغاری نے صوبائی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔ سردار محمود قادر لغاری حالیہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہو گئے تھے، جس کے بعد انہوں نے آئینی تقاضوں کے مطابق پنجاب اسمبلی کی نشست چھوڑ دی تھی۔ ان کے استعفے کے بعد پی پی 289 پر ضمنی انتخاب کا اعلان کیا گیا۔
ڈیرہ غازی خان کی یہ نشست سیاسی طور پر اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں مختلف ادوار میں بااثر شخصیات کامیاب ہوتی رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اسامہ عبدالکریم کو امیدوار نامزد کیے جانے کے بعد سے ہی یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ پارٹی کو یہاں مضبوط برتری حاصل ہو سکتی ہے، جو اب امیدواروں کی دستبرداری کے بعد حقیقت بنتی نظر آ رہی ہے۔
دوسری جانب لاہور میں بھی پنجاب اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی انتخاب کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 167 لاہور پر ضمنی انتخاب کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس نشست پر 8 فروری کو ضمنی انتخاب منعقد ہوگا۔
پی پی 167 کی نشست سابق رکن اسمبلی عرفان شفیع کھوکھر کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ ان کی وفات کے بعد یہ حلقہ نمائندگی سے محروم ہو گیا تھا، جس پر اب ضمنی انتخاب کے ذریعے نئے نمائندے کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اس نشست پر بھی مشاورت اور امیدواروں کے چناؤ کا عمل تیز کر دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیرہ غازی خان اور لاہور میں ہونے والے یہ ضمنی انتخابات پنجاب کی مجموعی سیاسی فضا پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اگرچہ پی پی 289 میں مقابلہ محدود ہونے کے باعث انتخابی سرگرمیاں کم دکھائی دے رہی ہیں۔ اس کے برعکس پی پی 167 لاہور میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک جانب ڈیرہ غازی خان میں مسلم لیگ (ن) کے لیے بلا مقابلہ کامیابی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب لاہور میں ہونے والا ضمنی انتخاب سیاسی جماعتوں کے لیے اپنی مقبولیت آزمانے کا ایک اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ ضمنی انتخابات پنجاب کی سیاست میں نئی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔


One Response