پاکستان اسٹاک ایکسچینج تیزی: انڈیکس نے ایک بار پھر 1,69,000 پوائنٹس عبور کر لیے

پاکستان اسٹاک ایکسچینج تیزی اور ڈالر کی قیمت میں کمی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس نے 1,69,000 پوائنٹس کی حد دوبارہ چھو لی

پاکستان کی معیشت نے کاروباری ہفتے کے دوسرے روز ایک مثبت جھٹکے کا مظاہرہ کیا، جب پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں غیرمعمولی تیزی دیکھنے میں آئی اور 100 انڈیکس نے ایک بار پھر 1 لاکھ 69 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد کو نہ صرف چھوا بلکہ اس کے اوپر بھی ٹریڈ کیا۔ اس تیزی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ معاشی صورتحال میں بہتری کے آثار مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ بھی جاری ہے، جو مجموعی معاشی فضا کو مزید سہارا دے رہا ہے۔

کاروبار کے آغاز میں غیرمعمولی اضافہ—100 انڈیکس میں 980 پوائنٹس کی تیز پرواز

کاروباری ہفتے کے دوسرے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا آغاز ہی مثبت ہوا، اور کھلینگ کے چند ہی لمحوں بعد سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کار بڑے پیمانے پر مختلف شعبوں کے شیئرز کی خریداری کرتے نظر آئے، خصوصاً بینکنگ، آئل اینڈ گیس، سیمنٹ، ٹیلی کام اور ٹیکنالوجی سیکٹر کے شیئرز میں واضح بہتری دیکھی گئی۔

ٹریڈنگ کے آغاز پر:

100 انڈیکس میں 980 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ ہوا

انڈیکس 1,69,283 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا

یہ اضافہ نہ صرف روزمرہ ٹریڈنگ کے رجحان میں تیزی کی علامت تھا بلکہ اس بات کا ثبوت بھی کہ مارکیٹ کے پلیئرز مستقبل قریب میں معیشت کے استحکام کو روشن امکانات کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

گزشتہ روز بھی مثبت رجحان—تسلسل نے مارکیٹ کو مضبوط کیا

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں یہ بہتری چند روز کی نہیں بلکہ مسلسل دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ روز بھی مارکیٹ کا اختتام مثبت ہوا تھا، جب 100 انڈیکس:

1,38,303 پوائنٹس پر بند ہوا تھا

اس تسلسل نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا۔ ایسے وقت میں جب عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال موجود ہے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مثبت کارکردگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مقامی سرمایہ کار ملکی معاشی پالیسیوں اور مالیاتی استحکام کے اشاروں پر اعتماد برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

مارکیٹ میں تیزی کی وجوہات—سرمایہ کار کیوں پرجوش ہیں؟

اسٹاک مارکیٹ میں آنے والی تیزی صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ کئی بنیادی عوامل اس کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں۔ موجودہ تیزی کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

  1. مالیاتی استحکام کے اشارے

ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی، درآمدی دباؤ میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی نے بھی سرمایہ کاروں کو مطمئن کیا ہے۔ جیسے ہی روپے کی قدر بہتر ہوتی ہے، سرمایہ کاروں کے لیے اسٹاک مارکیٹ ایک زیادہ پُرکشش آپشن بن جاتی ہے۔

  1. بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ پیش رفت

مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات یا پالیسی فیصلوں میں کامیابیاں بھی مارکیٹ کو سہارا دیتی ہیں۔ سرمایہ کار مستقبل کے مالی استحکام کے امکانات کو دیکھ کر سرمایہ کاری کا فیصلہ کرتے ہیں۔

  1. حکومتی اقدامات

مختلف معاشی اصلاحات، بجٹ حکمتِ عملی، ٹیکس اصلاحات اور نجکاری پالیسیوں نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

  1. کارپوریٹ سیکٹر کی مضبوط مالی رپورٹس

کئی بڑے شعبوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں متعلقہ کمپنیوں کے شیئرز میں اچھا اضافہ دیکھا گیا۔

ڈالر کی قیمت میں کمی—معاشی استحکام کا ایک اور مثبت اشارہ

اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے ساتھ ہی ڈالر کی قیمت میں بھی کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق:

انٹر بینک میں ڈالر 1 پیسہ سستا ہو گیا

نئی قیمت 280 روپے 40 پیسے رہی

اگرچہ ایک پیسے کی کمی معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر یہ دراصل ایک بڑے رجحان کا حصہ ہے۔ ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی کئی مثبت معاشی اثرات رکھتی ہے:

  1. درآمدی اخراجات میں کمی

جب ڈالر سستا ہوتا ہے تو تیل، مشینری، گندم، دالیں اور دیگر درآمدات سستی ہو جاتی ہیں۔ اس سے مصنوعات کی لاگت کم ہوتی ہے۔

  1. مہنگائی میں ممکنہ کمی

درآمدات سستی ہونے سے مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوتا ہے، جو عام صارف کے لیے ریلیف کا باعث بنتا ہے۔

  1. سرمایہ کار اعتماد میں اضافہ

جب روپے کی قدر بہتر ہوتی ہے تو سرمایہ کار زیادہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں، خصوصاً اسٹاک مارکیٹ میں۔

مارکیٹ پر ڈالر کی کمی کا براہِ راست اثر

ڈالر کی قیمت میں کمی اور روپے کی مضبوطی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی بنیادی وجہ شمار ہوتی ہے۔ جب درآمدات کم قیمت پر ممکن ہوں تو مختلف صنعتی شعبوں کے منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل اور پیٹرولیم سیکٹر میں مثبت سرگرمی دیکھی جاتی ہے۔

سرمایہ کار یہ جانتے ہیں کہ روپے کی مضبوطی براہِ راست مالیاتی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے، اور یہی اعتماد انہیں جامع سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مجموعی صورتحال

پاکستان اسٹاک ایکسچینج، جو خطے کی تیزی سے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں سے ایک ہے، گزشتہ چند ہفتوں میں غیرمعمولی سرگرمی کا مرکز رہی ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو جب بھی معاشی پالیسیوں میں استحکام آتا ہے، اسٹاک مارکیٹ اس کا فوری مثبت ردِعمل دیتی ہے۔

اس وقت PSX میں نہ صرف مقامی سرمایہ کار بلکہ بیرونی سرمایہ کار بھی دلچسپی دکھا رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی مارکیٹ مستقبل کے لیے بڑے مواقع رکھتی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ—کیا تیزی برقرار رہے گی؟

معاشی ماہرین کے مطابق اگر ڈالر مزید نیچے آتا ہے، مہنگائی میں کمی واقع ہوتی ہے، برآمدات بڑھتی ہیں اور حکومتی اصلاحات جاری رہتی ہیں، تو اسٹاک مارکیٹ میں یہ تیزی برقرار رہ سکتی ہے۔ تاہم مارکیٹ ہمیشہ عالمی معاشی حالات، سیاسی استحکام اور مالیاتی پالیسیوں سے متاثر ہوتی ہے، اس لیے حقیقی پیش گوئی انہی عوامل پر منحصر ہوگی۔

سٹاک مارکیٹ میں مثبت آغاز اور ہنڈریڈ انڈیکس میں 1488 پوائنٹس اضافہ
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مثبت آغاز کے ساتھ ہنڈریڈ انڈیکس میں بڑی تیزی
پاکستان اسٹاک مارکیٹ
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ اضافہ، لیکن غیر ملکی سرمایہ کاری مسلسل کم۔
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]