پنجاب اسمبلی پی اے سی بحران شدت اختیار کرگیا، پی ٹی آئی حکمتِ عملی سے احتساب کا عمل ٹھپ

پنجاب اسمبلی پی اے سی بحران کی تازہ صورتحال کی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پنجاب اسمبلی پی اے سی بحران: پی ٹی آئی استعفوں کی حکمتِ عملی سے احتساب مکمل طور پر معطل

پنجاب کی صوبائی سیاست اس وقت ایک غیر معمولی کیفیت سے دوچار ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی حکمت عملی نے عملی طور پر صوبائی اسمبلی کے اندر احتسابی عمل کو مفلوج کر دیا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) جو حکومتی اخراجات اور مالیاتی بے ضابطگیوں کی جانچ پڑتال کا بنیادی فورم ہے، گزشتہ کئی ماہ سے کوئی اجلاس منعقد نہ کر سکی۔ اس غیر فعالیت کے نتیجے میں نہ صرف مختلف محکموں کی آڈٹ رپورٹس التوا کا شکار ہو رہی ہیں بلکہ عوامی مفاد سے جڑے بے شمار معاملات پر بھی پیش رفت رک گئی ہے۔

پی اے سی کی اہمیت اور موجودہ بحران

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کسی بھی جمہوری نظام میں انتہائی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں حکومتی اخراجات کا جائزہ لیا جاتا ہے، محکمانہ کوتاہیوں کی نشاندہی ہوتی ہے، اور سرکاری اداروں کو قانون کے دائرے میں رہنے کا پابند بنایا جاتا ہے۔ تاہم پنجاب میں گزشتہ کئی ماہ سے پی اے سی 1 کا ایک بھی اجلاس نہ ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی عدم استحکام، پارٹی پالیسیوں اور اندرونی اختلافات نے اس ادارے کی افادیت کو شدید متاثر کیا ہے۔

احمد خان بھچر کی نااہلی اور بحران کی شروعات

پی اے سی 1 کے اجلاسوں میں تعطل اس وقت شروع ہوا جب اس کمیٹی کے چیئرمین اور سابق اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر کو نااہل قرار دیا گیا۔ ان کی نااہلی کے بعد کمیٹی سربراہ کی نشست خالی ہو گئی اور قانونی طور پر پی اے سی کا اجلاس بلانا ممکن نہ رہا۔ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کا نیا لیڈر مقرر کیے بغیر کمیٹی نہ چل سکی، جس کے نتیجے میں تین سے چار ماہ کا طویل خلاء پیدا ہو گیا۔

اس دوران پنجاب کے مختلف محکموں کی آڈٹ رپورٹس، مالیاتی بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور حکومتی اداروں کے احتساب سے متعلق تمام امور مکمل طور پر رک گئے۔ آڈٹ رپورٹوں کے جائزے کا عمل تاخیر کا شکار ہونے سے حکومتی محکموں کو بھی ایک طرح کی غیر رسمی رعایت مل گئی، جو شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔

معین ریاض قریشی کا تقرر، خاموشی اور استعفیٰ

بالآخر کئی ماہ بعد معین ریاض قریشی کو نیا اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا اور ان کے تقرر کے ساتھ ہی پی اے سی 1 کی چیئرمین شپ بھی ان کے حوالے کر دی گئی۔ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ فوری طور پر کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے تاکہ تعطل کا شکار احتسابی عمل دوبارہ بحال ہو سکے۔ لیکن حیران کن طور پر انہوں نے چیئرمین شپ سنبھالنے کے باوجود ایک بھی اجلاس منعقد نہیں کیا۔

مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ معین قریشی نے چند ہی ہفتوں بعد پی اے سی 1 کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دے دیا، اور ان کا استعفیٰ اس وقت سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی منظوری کا منتظر ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی حلقوں میں متعدد سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا یہ استعفیٰ محض سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا؟ کیا اپوزیشن کسی وسیع تر دباؤ یا حکومتی چال کا شکار ہوئی؟ یا یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی چال ہے جس کے ذریعے کمیٹیوں کو غیر فعال رکھ کر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے؟ ان سوالات کے جواب تاحال واضح نہیں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کا نرم رویہ اور اپوزیشن کی خاموشی

ذرائع کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپوزیشن کو استعفوں کے حوالے سے “غور کرنے کا مزید موقع” دے رکھا ہے۔ اس کا مقصد شاید یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کریں اور کمیٹیوں سے اجتماعی استعفے دینے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں۔ تاہم اپوزیشن کی جانب سے ابھی تک اسپیکر کو کوئی حتمی اور واضح مؤقف فراہم نہیں کیا گیا۔

یہ خاموشی کئی سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے حیرت کا باعث ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اپوزیشن کے اندرونی اختلافات، جماعتی سطح پر پالیسی کی عدم یکسانیت اور قیادت کی غیر حاضری کی وجہ سے فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔ دوسری جانب کچھ حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ اپوزیشن ایک "دباؤ کی پالیسی” کے تحت حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے، اور کمیٹیوں سے استعفے اس پالیسی کا حصہ ہیں۔

سیاسی حکمت عملی یا غیر ذمہ داری؟

ذرائع کے مطابق یہ تمام صورتحال محض انتظامی یا فنی مسئلہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ تحریک انصاف نے کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ ایک احتجاجی حکمت عملی کے طور پر کیا تھا، تاکہ حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالا جا سکے۔ تاہم اس فیصلے کا سب سے بڑا نقصان عوام کو ہو رہا ہے۔ کمیٹیوں کی غیر فعالیت کی وجہ سے:

  • مالیاتی بے ضابطگیوں کا جائزہ روک دیا گیا ہے
  • محکموں کی کارکردگی جانچنے کا کوئی مؤثر فورم موجود نہیں
  • آڈٹ رپورٹس غیر معمولی تاخیر کا شکار ہیں
  • سرکاری سطح پر احتسابی عمل جامد ہو چکا ہے

بعض سیاسی مبصرین اس صورتحال کو اپوزیشن کی "غیر ذمہ داری” قرار دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ حکومت پر دباؤ ڈالنا اپوزیشن کا حق ہے، لیکن کمیٹیوں سے اجتماعی استعفے دے کر ایسے فورمز کو غیر فعال کرنا جو عوام کے لیے براہ راست فائدہ مند ہیں، کسی بھی طور مناسب نہیں۔

پنجاب میں احتسابی نظام پر اثرات

پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے، جہاں سالانہ بجٹ کھربوں روپے پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایسے صوبے میں اگر پی اے سی جیسے اہم فورم کئی ماہ تک غیر فعال رہیں تو اس کے اثرات دور رس ہوتے ہیں۔ اس تعطل کا مطلب یہ ہے کہ:

  • مسلسل مالیاتی بے ضابطگیاں بروقت سامنے نہیں آ رہیں
  • محکمہ جاتی اصلاحات رک گئی ہیں
  • سرکاری اخراجات پر نگرانی کم ہو گئی ہے
  • حکومتی کارکردگی پرسوالیہ نشان بڑھ رہا ہے

پی اے سی 1 روایتی طور پر اپوزیشن کے پاس رہی ہے، اور یہ جمہوری روایت ہے تاکہ حکومتی اخراجات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ لیکن جب اپوزیشن خود ہی اس فورم کو غیر فعال رکھے، تو یہ عمل احتسابی نظام کی ساکھ کو کمزور کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

موجودہ صورتحال میں چند ممکنہ راستے سامنے آتے ہیں:

  • اسپیکر پنجاب اسمبلی استعفے منظور کر سکتے ہیں، جس سے کمیٹی کی نئی تشکیل ضروری ہوجائے گی۔
  • اپوزیشن اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کر سکتی ہے اور کمیٹیوں میں واپسی کا اعلان کر سکتی ہے۔
  • اگر بحران برقرار رہتا ہے تو سپریم کورٹ یا گورنر پنجاب کی مداخلت بھی خارج از امکان نہیں، کیونکہ یہ معاملہ حکومتی نظام کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔
  • حکومت تنقید کا رخ اپوزیشن کی طرف موڑ کر سیاسی فائدہ اٹھا سکتی ہے کہ اپوزیشن خود احتسابی عمل میں رکاوٹ ہے۔

پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں، خصوصاً پی اے سی 1 کی غیر فعالیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سیاسی کشمکش کتنی گہری ہو چکی ہے۔ تحریک انصاف کی کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی پالیسی بظاہر سیاسی میدان میں دباؤ بڑھانے کا ایک حربہ ہے، لیکن اس کا نقصان عام شہری کو ہو رہا ہے جو شفافیت اور جوابدہی کا حق رکھتا ہے۔ اس صورتحال میں نہ حکومت مستفید ہو رہی ہے، نہ اپوزیشن کی عوامی ساکھ میں اضافہ ہو رہا ہے، بلکہ نقصان صرف اداروں اور جمہوری عمل کو پہنچ رہا ہے۔

مزید پیش رفت آئندہ چند ہفتوں میں سامنے آئے گی، تاہم اس وقت پنجاب میں احتساب کا پورا نظام عملاً تعطل کا شکار ہے—جو کہ صوبے کے سیاسی اور انتظامی مستقبل کے لیے خوش آئند نہیں۔

"پی ٹی آئی میں سیاسی اور پارلیمانی کمیٹی کا ٹکراؤ"
پی ٹی آئی میں بڑائی کی جنگ شدت اختیار کر گئی، پارلیمانی کمیٹی نے سیاسی کمیٹی پر عدم اعتماد کر دیا۔
پی ٹی آئی اراکین استعفے اسمبلی کمیٹیاں 2025
تحریک انصاف کے مزید 28 اراکین اسمبلی نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ جمع کروا دیا

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]