پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 نافذ، لاہور میں 433 یونین کونسلز اور 9 ٹاؤن کارپوریشنز کا نوٹیفکیشن جاری

پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 کے تحت لاہور میں یونین کونسلز کی نئی حد بندیاں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام نافذ، لاہور میں 433 یونین کونسلز کا اعلان

پنجاب میں نئے بلدیاتی ایکٹ 2025 کے تحت بلدیاتی نظام میں اصلاحات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ صوبائی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے لیے ڈیمارکیشن کا عمل مکمل کر کے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس اہم قدم کے بعد لاہور کی 9 ٹاؤن کارپوریشنز کے نام اور حدود کو نوٹیفائی کیا گیا ہے، جبکہ ہر ٹاؤن میں یونین کونسلز کی تعداد اور موضع جات کا تعین بھی کیا گیا ہے۔ اس عمل کا مقصد شہریوں کو بہتر نمائندگی فراہم کرنا اور بلدیاتی خدمات کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

لاہور میں یونین کونسلز کی نئی تقسیم

نوٹیفیکیشن کے مطابق لاہور میں کل 433 یونین کونسلز قائم کی جائیں گی۔ ہر یونین کونسل کی آبادی 21 ہزار سے 29 ہزار افراد کے درمیان رکھی گئی ہے، تاکہ شہری اور دیہی آبادی کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔ اس سے پہلے شہر میں 500 یونین کونسلز بنانے کی ورکنگ کی گئی تھی، لیکن نئے بلدیاتی ایکٹ کے تحت آبادی اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یونین کونسلز کی نئی تعداد طے کی گئی ہے۔

لاہور کی ٹاؤن کارپوریشنز کی تفصیلات

  1. ماڈل ٹاؤن کارپوریشن
    • آبادی: 22,97,000
    • موضع جات: 21
    • یونین کونسلز: 77
      ماڈل ٹاؤن میں یونین کونسلز کی تعداد آبادی کے تناسب سے رکھی گئی ہے تاکہ شہری مسائل کا بروقت حل ممکن ہو اور مقامی انتظامیہ کی کارکردگی بہتر ہو۔
  2. شالیمار ٹاؤن کارپوریشن
    • آبادی: 21,48,724
    • موضع جات: 22
    • یونین کونسلز: 72
      شالیمار ٹاؤن میں آبادی اور موضع جات کے مطابق یونین کونسلز بنائی گئی ہیں تاکہ مقامی سطح پر بلدیاتی خدمات کی فراہمی میں توازن قائم رہے۔
  3. لاہور سٹی ٹاؤن کارپوریشن
    • آبادی: 20,66,740
    • موضع جات: 26
    • یونین کونسلز: 69
      لاہور سٹی میں یونین کونسلز کی تعداد آبادی کی کثافت کو مدنظر رکھتے ہوئے رکھی گئی ہے، تاکہ شہریوں کو بہترین بلدیاتی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
  4. راوی ٹاؤن کارپوریشن
    • آبادی: 13,96,318
    • موضع جات: 23
    • یونین کونسلز: 52
      راوی ٹاؤن میں 52 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، جس سے مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولتوں کی نگرانی ممکن ہو گی۔
  5. نشتر ٹاؤن کارپوریشن
    • آبادی: 10,01,856
    • موضع جات: 42
    • یونین کونسلز: 40
      نشتر ٹاؤن میں کم آبادی کے باوجود مناسب نمائندگی کے لیے 40 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں تاکہ شہریوں کی بنیادی ضروریات کا بہتر انتظام ہو سکے۔
  6. علامہ اقبال ٹاؤن کارپوریشن
    • آبادی: 9,38,250
    • موضع جات: 19
    • یونین کونسلز: 37
      اس ٹاؤن میں یونین کونسلز کی تعداد مناسب انتظام اور شفاف نمائندگی کے لیے رکھی گئی ہے، جس سے مقامی مسائل کے حل میں آسانی ہو گی۔
  7. رائے ونڈ ٹاؤن کارپوریشن
    • آبادی: 7,33,799
    • موضع جات: 51
    • یونین کونسلز: 32
      رائے ونڈ ٹاؤن میں یونین کونسلز کی تعداد موضع جات اور آبادی کے تناسب سے طے کی گئی ہے، تاکہ شہری سہولتوں کی فراہمی میں توازن قائم رہے۔

نئے بلدیاتی نظام کے مقاصد

نئے بلدیاتی ایکٹ 2025 کے تحت پنجاب میں بلدیاتی نظام میں اصلاحات کا بنیادی مقصد شہری اور دیہی آبادی کے لیے بہتر نمائندگی، شفاف انتخابات اور مؤثر حکمرانی فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت:

  • ہر یونین کونسل کی آبادی اور جغرافیائی حدود متوازن کی گئی ہیں۔
  • ٹاؤن کارپوریشنز کے ذریعے مقامی سطح پر بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی آسان ہو گئی ہے۔
  • بجٹ کی تقسیم، منصوبہ بندی، اور مقامی ترقی میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔

انتخابات کی تیاری

ڈیمارکیشن مکمل ہونے کے بعد لاہور میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا عمل جاری ہے۔ ہر یونین کونسل کے ووٹرز اپنے مخصوص علاقوں میں ووٹ ڈالیں گے۔ انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بائیو میٹرک سسٹم اور الیکٹرانک ووٹنگ کے اختیارات بھی زیر غور ہیں، تاکہ شہریوں کو بروقت اور درست نمائندگی مل سکے۔

پنجاب میں نئے بلدیاتی ایکٹ 2025 کے نفاذ سے شہری انتظامیہ اور مقامی حکمرانی میں اصلاحات متوقع ہیں۔ لاہور کی 9 ٹاؤن کارپوریشنز میں یونین کونسلز کی نئی تقسیم شہریوں کی بہتر نمائندگی، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، اور بنیادی سہولتوں کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ یہ اقدامات بلدیاتی نظام میں شفافیت، توازن اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]