پنجاب بلدیاتی الیکشن 2026 – اضلاع و تحصیلوں کا نوٹیفکیشن، مکمل الیکشن تیاریاں عروج پر

پنجاب بلدیاتی الیکشن 2026 پنجاب کے اضلاع اور تحصیلوں کا نقشہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پنجاب بلدیاتی الیکشن 2026 نوٹیفکیشن جاری – پنجاب میں 41 اضلاع اور 156 تحصیلیں الیکشن کیلئے فائنل

پنجاب میں نئے سال 2026 کے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں باقاعدہ طور پر عروج پر پہنچ چکی ہیں اور اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر صوبے بھر کے ڈویژنز، اضلاع اور تحصیلوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد بلدیاتی نظام کے نئے خدوخال واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں، جسے مقامی حکومتوں کے قیام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں بلدیاتی انتخابات کے لیے انتظامی ڈھانچے کو حتمی شکل دینے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ نوٹیفکیشن کے تحت صوبے میں ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل سطح پر حدود کا تعین مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ یونین کونسلز کی نئی حد بندی کا عمل آئندہ سال جنوری اور فروری کے دوران مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت کے مابین رابطے کے بعد انتخابی شیڈول کے اعلان کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب اس وقت 10 ڈویژنز، 41 اضلاع اور 156 تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تحصیلیں راولپنڈی ڈویژن میں شامل کی گئی ہیں، جن کی تعداد 24 ہے، جبکہ لاہور ڈویژن 22 تحصیلوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ انتظامی ماہرین کے مطابق آبادی کے حجم، جغرافیائی پھیلاؤ اور شہری دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان ڈویژنز میں تحصیلوں کی تعداد نسبتاً زیادہ رکھی گئی ہے۔

لاہور ڈویژن صوبے کا سب سے اہم اور گنجان آباد ڈویژن تصور کیا جاتا ہے، جس میں چار اضلاع لاہور، قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب شامل ہیں۔ ان چار اضلاع پر مشتمل لاہور ڈویژن کی مجموعی طور پر 22 تحصیلیں ہیں۔ دارالحکومت لاہور کی شہری و دیہی آبادی، صنعتی سرگرمیوں اور تجارتی اہمیت کے باعث یہاں بلدیاتی انتخابات کو خصوصی اہمیت حاصل ہو گی۔

گوجرانوالہ ڈویژن تین اضلاع گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال پر مشتمل ہے، جن کی مجموعی تحصیلوں کی تعداد 11 ہے۔ یہ خطہ صنعتی اور برآمدی حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے، خاص طور پر سیالکوٹ کی عالمی سطح پر پہچانی جانے والی صنعتیں بلدیاتی نمائندوں کے لیے ایک بڑا انتظامی چیلنج سمجھی جاتی ہیں۔

اسی طرح گجرات ڈویژن چار اضلاع گجرات، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین اور وزیر آباد پر مشتمل ہے، جہاں کل 12 تحصیلیں قائم کی گئی ہیں۔ وزیر آباد کو حال ہی میں ضلع کا درجہ دیے جانے کے بعد انتظامی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جس کا براہِ راست اثر بلدیاتی نظام پر بھی پڑے گا۔

راولپنڈی ڈویژن رقبے اور انتظامی لحاظ سے صوبے کا ایک اہم ڈویژن ہے، جس میں چھ اضلاع راولپنڈی، مری، چکوال، اٹک، جہلم اور تلہ گنگ شامل ہیں۔ اس ڈویژن میں مجموعی طور پر 24 تحصیلیں شامل کی گئی ہیں، جو صوبے میں سب سے زیادہ ہیں۔ دفاعی اہمیت، سیاحتی مقامات اور وفاقی دارالحکومت سے قربت کے باعث یہاں کے بلدیاتی انتخابات کو خاص توجہ حاصل رہے گی۔

ملتان ڈویژن جنوبی پنجاب کا مرکزی ڈویژن سمجھا جاتا ہے، جس میں چار اضلاع ملتان، لودھراں، وہاڑی اور خانیوال شامل ہیں۔ ان اضلاع پر مشتمل ملتان ڈویژن کی مجموعی تحصیلوں کی تعداد 14 ہے۔ زرعی معیشت اور تیزی سے بڑھتے ہوئے شہری مراکز اس ڈویژن کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ساہیوال ڈویژن تین اضلاع ساہیوال، پاکپتن اور اوکاڑہ پر مشتمل ہے، جہاں مجموعی طور پر 7 تحصیلیں قائم کی گئی ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے نسبتاً کم مگر زرعی لحاظ سے مضبوط یہ خطہ بلدیاتی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کا متقاضی ہے۔

بہاولپور ڈویژن بھی جنوبی پنجاب کا ایک اہم ڈویژن ہے، جس میں تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان شامل ہیں۔ اس ڈویژن کی 15 تحصیلیں ہیں، اور یہاں رقبے کی وسعت کے باعث مقامی حکومتوں کا کردار نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

ڈیرہ غازی خان ڈویژن چھ اضلاع ڈیرہ غازی خان، تونسہ، راجن پور، لیہ، مظفرگڑھ اور نئے شامل کیے گئے ضلع کوٹ ادو پر مشتمل ہے۔ اس ڈویژن میں مجموعی طور پر 16 تحصیلیں شامل کی گئی ہیں۔ اسی نوٹیفکیشن میں تحصیل چوک سرور شہید کو بھی شامل کیا گیا ہے، جسے مقامی سطح پر ایک اہم انتظامی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

فیصل آباد ڈویژن چار اضلاع فیصل آباد، جھنگ، چنیوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ پر مشتمل ہے، جہاں 17 تحصیلیں قائم ہیں۔ صنعتی شہر فیصل آباد کی وجہ سے یہ ڈویژن معاشی اعتبار سے انتہائی اہم ہے، اور یہاں بلدیاتی نمائندوں پر عوامی توقعات بھی زیادہ ہوں گی۔

سرگودھا ڈویژن چار اضلاع سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر پر مشتمل ہے، جس کی مجموعی تحصیلوں کی تعداد 18 ہے۔ زرعی، معدنی اور نیم شہری علاقوں پر مشتمل اس ڈویژن میں بلدیاتی ادارے مقامی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

ماہرین کے مطابق نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد اگلا اہم مرحلہ یونین کونسلز کی حد بندی ہے، جو شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ بلدیاتی انتخابات نہ صرف نچلی سطح پر جمہوریت کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ مقامی مسائل کے حل کے لیے عوام کو براہِ راست نمائندگی فراہم کرتے ہیں۔

پنجاب میں 2026 کے بلدیاتی انتخابات کو صوبے کی سیاسی، سماجی اور انتظامی تاریخ کا ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتائج مقامی حکمرانی کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]