پنجاب پتنگ بازی پابندی – حکومت کا سخت ایکشن اور قانون پر مکمل عملدرآمد

"پنجاب پتنگ بازی پابندی کے تحت کارروائی کی تصویر"
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پنجاب پتنگ بازی پابندی: حکومت کا سخت ایکشن، بغیر اجازت پتنگ بازی پر بھاری جرمانے اور قید

محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں پتنگ بازی کی ممانعت کے قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اور واضح قدم اٹھاتے ہوئے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو باضابطہ مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ اس مراسلے میں صوبہ بھر میں غیر قانونی پتنگ بازی، پتنگ سازی اور اس سے منسلک سرگرمیوں کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائی کی ہدایات دی گئی ہیں۔

حکومتِ پنجاب نے مراسلے میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ صوبے کے بعض علاقوں میں اب بھی غیر قانونی طور پر پتنگ بازی کی جا رہی ہے، جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی جانوں اور عوامی تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی بن چکی ہے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں ’’کائٹ فلائنگ ریگولیشنز بل 2025‘‘ کے تحت پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد ہے، اور اس قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

محکمہ داخلہ کے مطابق صوبائی کابینہ نے ثقافتی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف لاہور میں اور وہ بھی محدود پیمانے پر جشنِ بہاراں کے موقع پر بسنت منانے کی اجازت دی ہے۔ یہ اجازت 6، 7 اور 8 فروری تک محدود ہے، جبکہ ان تاریخوں سے قبل یا بعد، اور لاہور کے علاوہ صوبے کے کسی بھی شہر یا علاقے میں پتنگ بازی یا پتنگ سازی مکمل طور پر ممنوع ہوگی۔ مراسلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مقررہ تاریخوں اور مقام کے علاوہ کسی بھی جگہ پتنگ بازی یا اس کی تیاری غیر قانونی تصور کی جائے گی۔

مراسلے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غیر قانونی پتنگ بازی کے باعث گزشتہ برسوں میں متعدد افسوسناک واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں راہگیروں کے زخمی ہونے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی رپورٹس شامل ہیں۔ دھاتی ڈور، تندی اور مانجھا لگی ڈور کے استعمال نے ان واقعات کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ محکمہ داخلہ نے ان واقعات کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی سرگرمیاں معاشرے میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کا باعث بنتی ہیں۔

حکومت پنجاب نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور جو بھی سرگرمی انسانی جانوں کے لیے خطرہ بنے، اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اسی تناظر میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جشن بہاراں کے دوران دی گئی محدود اجازت کے باوجود، دھاتی ڈور، مانجھا، تندی یا کسی بھی خطرناک مواد کے استعمال کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی۔ اس پابندی کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مراسلے کے مطابق بغیر اجازت پتنگ بازی کرنے، پتنگ فروخت کرنے یا پتنگ سازی میں ملوث افراد کو بھاری جرمانوں اور طویل قید کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تمام ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنائیں، چاہے ملوث افراد کا تعلق کسی بھی طبقے یا اثر و رسوخ سے ہو۔ قانون سب کے لیے برابر ہوگا اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ کارروائی کا دائرہ صرف پتنگ اڑانے والوں تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ پتنگ بنانے والوں، پتنگ بازی کا سامان فراہم کرنے والوں، دکان داروں اور سپلائرز کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔ غیر قانونی طور پر پتنگ سازی کے کارخانے، گودام اور دکانیں سیل کی جائیں گی، جبکہ ملوث افراد کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق مقدمات درج کیے جائیں گے۔

مراسلے میں تمام متعلقہ افسران کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی اپنی حدود میں کائٹ فلائنگ ریگولیشنز بل 2025 کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں۔ حکومتی اجازت کے بغیر پتنگ سازی، پتنگ فروخت اور پتنگ بازی کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان قریبی رابطے اور مشترکہ کارروائی پر بھی زور دیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ تمام اضلاع اپنی کارروائیوں، چھاپوں، گرفتاریوں اور قانونی اقدامات پر مبنی تفصیلی رپورٹس مقررہ وقت کے اندر محکمہ داخلہ پنجاب کو ارسال کریں۔ ان رپورٹس کی بنیاد پر صوبائی سطح پر صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور جہاں ضرورت پڑی، وہاں مزید سخت اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

حکومتی حلقوں کے مطابق اس بار پتنگ بازی کے خلاف کارروائی محض رسمی نہیں ہوگی بلکہ عملی اور مؤثر ہوگی۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں، غیر قانونی پتنگ بازی کی اطلاع دیں اور اپنے بچوں کو اس خطرناک سرگرمی سے دور رکھیں۔ والدین کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ بچوں کی نگرانی کریں، کیونکہ ذرا سی غفلت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

آخر میں محکمہ داخلہ نے واضح پیغام دیا ہے کہ ثقافت اور تفریح اپنی جگہ، مگر انسانی جانوں کی قیمت پر کوئی سرگرمی قابل قبول نہیں۔ پنجاب حکومت کا عزم ہے کہ قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور صوبے کو غیر قانونی پتنگ بازی جیسے خطرناک رجحان سے پاک کیا جائے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]