ڈی سی او انعم علی کا بڑا ایکشن بغیر ٹکٹ مسافر سے سخت جرمانے وصول

ٹرینوں میں بغیر ٹکٹ مسافروں کے خلاف کارروائی کی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹرینوں پر اچانک چھاپے بغیر ٹکٹ مسافر پکڑے گئے، 10 لاکھ سے زائد ریکوری

پاکستان ریلوے ایک بار پھر خبروں میں ہے، مگر اس بار وجہ خوش آئند بھی ہے اور تشویش ناک بھی۔ ڈی سی او ریلوے انعم علی نے ٹرینوں میں اچانک چھاپے مار کر ایسا قدم اٹھایا ہے جس سے نہ صرف ریلوے کی آمدن میں اضافہ ہوا بلکہ مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی۔ ان کارروائیوں کے دوران بغیر ٹکٹ مسافر بڑی تعداد میں پکڑے گئے، جس سے یوں محسوس ہوا کہ ریلوے میں طویل عرصے سے جاری بے ضابطگیوں کے خلاف بالآخر سخت ایکشن شروع ہو گیا ہے۔

اچانک چھاپے — کارروائی کیسے شروع ہوئی؟

یہ چھاپے ایک باقاعدہ پلاننگ کے بغیر، اچانک اور سرپرائز وزٹ کے طور پر کیے گئے۔ ڈی سی او انعم علی کے مطابق مقصد صرف ایک تھا:
"غفلت، کرپشن، بدعنوانی اور بغیر ٹکٹ سفر کرنے کی روایت کو ختم کرنا۔”

لاہور سے لے کر مختلف ٹرینوں اور اسٹیشنوں تک، اچانک معائنے نے سب کو حیران کر دیا۔ اسی دوران بغیر ٹکٹ مسافر ایک کے بعد ایک پکڑے جاتے رہے، جس سے اندازہ ہوا کہ یہ مسئلہ کتنا بڑا ہے۔

1201 بغیر ٹکٹ مسافر پکڑے گئے — تاریخی ریکوری

چھاپوں کے دوران 1201 بغیر ٹکٹ مسافر پکڑے گئے، جو اس کارروائی کی سب سے بڑی کامیابی مانی جا رہی ہے۔
ریلوے کے مطابق:

10 لاکھ روپے سے زائد ریکوری کی گئی

1 لاکھ 80 ہزار روپے سے زائد جرمانہ وصول کیا گیا

یہ اعداد و شمار خود بتاتے ہیں کہ روزانہ کتنی بڑی رقم بغیر ٹکٹ سفر کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔

بغیر ٹکٹ مسافر ریلوے کے لیے خطرہ کیوں ہیں؟

ریلوے پہلے ہی مالی بحران سے گزر رہی ہے۔ ٹریکس کی مرمت، انجن کی مینٹیننس، مسافروں کی سہولتیں، ملازمین کی تنخواہیں — سب کچھ اسی آمدن پر چلتا ہے۔ مگر جب بغیر ٹکٹ مسافر سفر کرتے ہیں تو:

ریلوے کو نقصان ہوتا ہے

کرپٹ عملہ فائدہ اٹھاتا ہے

اصل مسافر تکلیف اٹھاتے ہیں

سسٹم ناکارہ ہوتا جاتا ہے

یہ چھاپے دراصل ایک پیغام ہیں کہ اب ریلوے میں کسی کو چھوٹ نہیں ملے گی۔

کس کس ٹرین میں کارروائیاں ہوئیں؟

ڈی سی او انعم علی نے متعدد بڑے ناموں والی ٹرینوں میں کارروائیاں کیں:

ریل کار

تیزگام

غوری ایکسپریس

بدر ایکسپریس

کراچی ایکسپریس

جعفر ایکسپریس

قراقرم ایکسپریس

اور دیگر ٹرینیں

ان ٹرینوں میں نہ صرف بغیر ٹکٹ مسافر پکڑے گئے بلکہ سہولیات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔

ٹرینوں میں صفائی اور سہولیات کی صورتحال — حقیقت سامنے آگئی

چھاپوں کے دوران سب سے زیادہ تشویش ناک چیز صفائی ستھرائی کی خراب حالت تھی۔
کئی ڈبوں میں:

فرش گندے

ٹوائلٹ خراب

ڈسٹ بن نہ ہونے کے برابر

ڈائننگ کارز میں کھانے کا معیار ناقص

ڈی سی او نے واضح کہا:

“مسافر ٹکٹ خرید کر سفر کرتے ہیں، انہیں سہولت دینا ہمارا فرض ہے۔”

مگر دوسری طرف بیزار کن حقیقت یہ تھی کہ بے شمار لوگ بغیر ٹکٹ مسافر بن کر سوار ہوتے ہیں، اس وجہ سے بھیڑ، افراتفری اور گندگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

اسٹیشنوں پر بھی کارروائیاں — جرمانے اور ضبطی

لاہور سمیت مختلف اسٹیشنوں پر بھی اچانک کارروائیاں ہوئیں۔ اسٹالز، دکانیں، سب کی جانچ پڑتال کی گئی۔

کئی اسٹالز پر جرمانے کیے گئے

غیر معیاری اشیاء ضبط کی گئیں

صفائی پر شدید برہمی کا اظہار

عملے کو وارننگز جاری

یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ریلوے اب پچھلے سالوں کی طرح مسائل کو نظر انداز نہیں کرے گی۔

بغیر ٹکٹ مسافر کیوں خطرناک ہیں؟ — ایک جذباتی سچ

اگر آپ ایک عام پاکستانی مسافر سے پوچھیں تو وہ یہی کہے گا:

“ہم پیسے دے کر سفر کرتے ہیں، اور کچھ لوگ مفت میں بیٹھ کر ہماری سیٹ، جگہ اور سہولت لے لیتے ہیں۔ یہ ظلم ہے!”

یہ حقیقت ہے۔ بغیر ٹکٹ مسافر نہ صرف سسٹم کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ باقی مسافروں کی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔

ریلوے کا مستقبل — اگر ایکشن نہ لیا گیا تو؟

اگر ریلوے میں بغیر ٹکٹ سفر نہ رکا تو:

آمدن کم

سروس کمزور

ٹرینیں بند

ملازمین کا نقصان

مسافروں کی پریشانی

ڈائننگ کارز میں بھی چیکنگ — کھانے کے معیار کا جائزہ

مسافروں کو فراہم کیے جانے والا کھانا اکثر تنقید کی زد میں رہتا ہے۔
چھاپوں میں:

کھانے کا معیار

صفائی

قیمت

برتنوں کی حالت

سب چیک کیا گیا۔ ناقص معیار پر انتباہ بھی جاری کیا گیا۔

یہ یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ ٹرینوں میں سفر صرف سستا نہ ہو بلکہ محفوظ، صاف اور آرام دہ بھی ہو۔

ڈی سی او انعم علی کا کردار — سخت مگر منصفانہ کارروائی

انعم علی کی قیادت میں یہ چھاپے ثابت کرتے ہیں کہ اگر نیت صاف ہو تو نظام بہتر کیا جا سکتا ہے۔
ان کے ساتھ:

کمرشل انسپکٹر فیصل نذیر

اور ریلوے کا دیگر عملہ

موجود تھا، جو کارروائی میں مکمل طور پر شریک رہا۔

یہ کارروائیاں واضح کرتی ہیں کہ ریلوے میں سستی یا لاپروائی اب برداشت نہیں ہوگی۔

بغیر ٹکٹ مسافر کا دور ختم — ریلوے کی سخت پالیسی

ریلوے نے اعلان کیا ہے کہ:

روزانہ چھاپے

سخت جرمانے

اسٹاف کی معطلی

سیٹ ہولڈرز کی جواب طلبی

جاری رہے گی۔

اس کا مطلب ہے کہ اب بغیر ٹکٹ مسافر کے لیے کوئی راستہ نہیں بچا۔

پاکستان ریلوے ٹرین شیڈول لاہور سے کراچی، کوئٹہ اور دیگر شہروں کی تازہ روانگی

ریلوے کی اپیل — قانون پر عمل کریں

ریلوے نے آخر میں عوام سے درخواست کی ہے:

ٹکٹ خرید کر سفر کریں

سسٹم بہتر بنانے میں ساتھ دیں

شکایات ریلوے ہیلپ لائن پر درج کروائیں

یہ ملک ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اگر ہم خود قانون کی پاسداری کریں گے تو مستقبل میں ریلوے نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]