یوٹیوبر رجب بٹ تشدد کیس : وکلا کے احتجاج، سٹی کورٹ ایس ایچ او پر حملے کا مقدمہ درج، صورتحال سنگین

سٹی کورٹ تھانے یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مقدمی نی درج کرنے پر ایس ایچ او پر وکلا کا تشدد
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

یوٹیوبر رجب بٹ تشدد کیس : وکلا کے احتجاج، سٹی کورٹ ایس ایچ او پر حملے کا مقدمہ درج، صورتحال سنگین، وکلا نے ایم اے جناح روڈ پر سٹی کورٹ کے باہر احتجاج

کراچی میں عدالت میں پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد کے واقعے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ سٹی کورٹ میں احتجاج کرنے والے وکلا کے خلاف سٹی کورٹ تھانے کے ایس ایچ او پر مبینہ حملے کے الزام میں نئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پیر کے روز سٹی کورٹ کراچی میں پیشی کے دوران یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد کے واقعے پر ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبد الفتح چانڈیو اور 15 سے 20 نامعلوم وکلا کو نامزد کیا گیا تھا۔

اس مقدمے کے اندراج کے بعد وکلا نے سٹی کورٹ تھانے کا رخ کیا اور مطالبہ کیا کہ یوٹیوبر رجب بٹ اور دیگر افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے۔ وکلا نے ایم اے جناح روڈ پر سٹی کورٹ کے باہر احتجاج کیا اور ایس ایچ او پر ایف آئی آر درج نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔

بعد ازاں بدھ کے روز سٹی کورٹ تھانے کے ایس ایچ او جہانگیر بھٹو کی مدعیت میں ایک نئی ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں وکلا کا پولیس پر حملہ، ہنگامہ آرائی اور دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 337-A (شجہ)، 504 (توہین)، 506 (مجرمانہ دھمکیاں)، 186 (سرکاری ملازم کو فرائض سے روکنا)، 147 (فساد)، 149 (غیر قانونی اجتماع) اور 353 (سرکاری ملازم پر حملہ) کے تحت درج کیا گیا ہے۔

کراچی سٹی کورٹ یوٹیوبر رجب بٹ پر وکلا کے مبینہ تشدد
یوٹیوبر رجب بٹ کراچی سٹی کورٹ میں تشدد کے بعد

ایس ایچ او کے مطابق 30 دسمبر کو گشت کے دوران اطلاع ملی کہ 40 سے 50 وکلا جن کی قیادت عبد الفتح چانڈیو، عبد الوہاب راجپر اور ریاض علی سولنگی کر رہے تھے، زبردستی رسالہ پولیس پوسٹ میں داخل ہوئے اور ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ یہ پولیس پوسٹ عارضی طور پر سٹی کورٹ تھانے میں قائم کی گئی تھی۔

ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ وکلا یوٹیوبر رجب بٹ اور اس کے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جب وہ دوپہر کے وقت تھانے پہنچے تو وکلا نے ان سے تلخ کلامی کی، گالیاں دیں اور مبینہ طور پر لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کیا۔

ایس ایچ او کے مطابق پولیس عملے کی مداخلت کے بعد وکلا منتشر ہو گئے، تاہم جاتے ہوئے نعرے بازی کی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

اس ایف آئی آر میں عبد الفتح چانڈیو، عبد الوہاب راجپر اور ریاض علی سولنگی کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 40 سے 50 افراد کو نامعلوم رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ریاض علی سولنگی اس مقدمے میں بھی نامزد ہیں جو رجب بٹ کے وکیل کی درخواست پر درج ہوا تھا۔ وہی وکیل رجب بٹ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے مقدمے کے مدعی بھی ہیں، جس سلسلے میں یوٹیوبر پیر کو عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

دوسری جانب یوٹیوبر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق نے ریاض علی سولنگی، عبد الفتح چانڈیو اور دیگر وکلا کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 148، 382، 506 اور 337-A کے تحت مقدمہ درج کروایا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق رجب بٹ صبح نو بجے ضمانت کے لیے سٹی کورٹ پہنچے تھے جہاں ویسٹ بلڈنگ کے اندرونی احاطے میں ان پر حملہ کیا گیا، تشدد کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے جبکہ ان کے وکیل اور دیگر ساتھی بھی متاثر ہوئے۔

یوٹیوبر کے وکیل نے الزام لگایا کہ حملے کے دوران رجب بٹ کا تین لاکھ روپے نقدی والا بیگ بھی چھین لیا گیا، جو بعد میں واپس کر دیا گیا تاہم رقم غائب تھی۔

ادھر ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے موقف اختیار کیا ہے کہ یوٹیوبر نے عبوری ضمانت کے بعد ایک ولاگ میں وکلا کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی تھی، جس پر ردعمل سامنے آیا۔ ان کے مطابق بعد ازاں رجب بٹ کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے کمیٹی روم لے جایا گیا جہاں انہوں نے معذرت بھی کی۔

 

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]