رجب بٹ اور ایمان فاطمہ کی طلاق کا اعلان، سوشل میڈیا پر بڑا تنازع
پاکستان کے معروف فیملی وی لاگر اور یوٹیوبر رجب بٹ ایک بار پھر اپنی نجی زندگی کے باعث خبروں اور سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان اور ان کی اہلیہ ایمان فاطمہ کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات نے ایک بڑے تنازع کی شکل اختیار کر لی ہے۔ یہ معاملہ صرف دونوں خاندانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی کھل کر زیرِ بحث آ رہا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب رجب بٹ نے کھلے عام اعلان کیا کہ وہ اپنی شادی کو مزید جاری رکھنے کے خواہشمند نہیں اور اس رشتے کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
رجب بٹ اور ایمان فاطمہ کی شادی سنہ 2024 میں بڑے دھوم دھام اور شان و شوکت سے ہوئی تھی۔ شادی کی تقریبات نہ صرف قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے یادگار بنیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ان کے چرچے ہوئے۔ یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر ان کی شادی کی ویڈیوز لاکھوں لوگوں نے دیکھی تھیں۔ مداحوں نے اس جوڑی کو بہت پسند کیا اور انہیں ایک خوشحال اور مثالی جوڑا قرار دیا۔ دونوں کی وی لاگز اور مشترکہ ویڈیوز بھی کافی مقبول رہیں، جن میں وہ اپنی روزمرہ زندگی کے مختلف پہلو مداحوں کے ساتھ شیئر کرتے تھے۔
شادی کے کچھ عرصے بعد اس جوڑے کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کا نام کیوان سلطان رکھا گیا۔ بچے کی پیدائش کے بعد مداحوں کی خوشی میں مزید اضافہ ہوا اور سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا سلسلہ جاری رہا۔ بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ اب یہ خاندان مزید مضبوط اور خوشحال زندگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئیں۔
ابتدائی طور پر یہ خبریں افواہوں تک محدود تھیں لیکن بعد میں سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور الزامات گردش کرنے لگے۔ بعض صارفین نے یہ دعویٰ کیا کہ ایمان فاطمہ کے حاملہ ہونے کے دوران رجب بٹ کا کسی دوسری خاتون کے ساتھ تعلق تھا۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا انفلوئنسر فاطمہ خان کا نام بھی سامنے آیا جس کے بعد یہ معاملہ مزید توجہ حاصل کرنے لگا اور سوشل میڈیا پر بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اس تنازع نے اس وقت مزید شدت اختیار کر لی جب رجب بٹ نے اپنے ایک وی لاگ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے واقعی اپنی اہلیہ کے ساتھ غلطی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی سے پہلے وہ ایک ریلیشن شپ میں تھے اور شادی کے بعد بھی کچھ عرصہ تک وہ تعلق مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعد میں انہوں نے اس تعلق کو ختم کر دیا اور اپنی غلطی پر ایمان فاطمہ سے معافی بھی مانگی۔ رجب بٹ کے مطابق ایمان فاطمہ نے انہیں معاف بھی کر دیا تھا اور دونوں نے اپنی ازدواجی زندگی کو دوبارہ بہتر بنانے کی کوشش کی تھی۔
لیکن ان کے بقول اس معاملے کے بعد بھی کئی دیگر مسائل سامنے آئے جنہوں نے دونوں کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ بعض معاملات خاندانوں کے درمیان اختلافات کی شکل اختیار کر گئے اور صورتحال آہستہ آہستہ کشیدہ ہوتی چلی گئی۔ دوسری جانب ایمان فاطمہ کے بھائی نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی بہن کا مؤقف پیش کیا جس کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا اور دونوں خاندانوں کے درمیان بیانات اور الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اس تمام صورتحال کے بعد رجب بٹ نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ اس شادی کو مزید جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔ میزبان ریحان طارق کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس رشتے کو بچانے کے لیے بہت کوششیں کیں لیکن اب انہیں لگتا ہے کہ یہ رشتہ مزید چلانا ممکن نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل تنازعات اور اختلافات نے ان کی ازدواجی زندگی کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے جہاں علیحدگی ہی واحد راستہ نظر آتا ہے۔
اپنے بیٹے کیوان سلطان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رجب بٹ نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے بیٹے سے محبت کریں گے اور اس کی ہر ممکن دیکھ بھال اور سپورٹ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی زندگی کی تمام محنت اور کمائی بالآخر ان کے بیٹے کے نام ہو گی۔ رجب بٹ کے مطابق چاہے ان کی شادی برقرار رہے یا نہ رہے، وہ اپنے بیٹے کی ذمہ داری سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض معاملات خاص طور پر ان کے والدین کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا تھا۔ رجب بٹ کے مطابق وہ اپنی ایک سال پرانی شادی کے لیے اپنے والدین کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ انہوں نے اس موقع پر ایمان فاطمہ کے خاندان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بعض رویوں اور بیانات نے اس رشتے کو بچانے کے امکانات کو مزید کم کر دیا۔
رجب بٹ کے ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بہت سے صارفین ایمان فاطمہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایک عورت کے لیے ایسے حالات کا سامنا کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ دوسری جانب کچھ افراد رجب بٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کے رویے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
کچھ صارفین کا خیال ہے کہ اس طرح کے نجی معاملات کو سوشل میڈیا پر لانا درست نہیں اور دونوں فریقین کو چاہیے کہ وہ اپنے مسائل کو ذاتی سطح پر حل کریں۔ جبکہ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ چونکہ دونوں سوشل میڈیا پر اپنی زندگی کو عوام کے ساتھ شیئر کرتے رہے ہیں، اس لیے اب ان کے مداح بھی اس معاملے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
فی الحال یہ معاملہ سوشل میڈیا پر ایک بڑا موضوعِ بحث بنا ہوا ہے اور مختلف پلیٹ فارمز پر لوگ اس بارے میں اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بہت سے مداح اس امید کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ شاید وقت کے ساتھ دونوں کے درمیان معاملات بہتر ہو جائیں اور وہ اپنے بیٹے کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی مثبت فیصلہ کریں۔
یہ تنازع ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی چمک دمک کے پیچھے بھی حقیقی زندگی کے مسائل اور چیلنجز موجود ہوتے ہیں۔ عوامی شخصیات کی نجی زندگی اکثر لوگوں کی نظروں میں ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ بھی عام انسانوں کی طرح مشکلات اور آزمائشوں سے گزرتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں رجب بٹ اور ایمان فاطمہ کے درمیان یہ معاملہ کس سمت جاتا ہے اور کیا یہ تنازع کسی حل کی طرف بڑھتا ہے یا نہیں۔


One Response