ماہر فلکیات کی پیشگوئی: پاکستان میں رمضان 19 فروری، عیدالفطر 21 مارچ اور عیدالاضحیٰ 27 مئی کو ہونے کا امکان
ماہرِ فلکیات نے رمضان المبارک، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی ممکنہ تاریخوں سے متعلق پیش گوئی کرتے ہوئے عوام کو ایک واضح سائنسی تصویر فراہم کی ہے۔ معروف ماہر فلکیات ڈاکٹر فہیم ہاشمی کے مطابق فلکیاتی حسابات، چاند کی گردش، سورج اور زمین کے باہمی زاویوں اور جدید سائنسی آلات کی مدد سے آئندہ اسلامی مہینوں کے آغاز کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں رمضان المبارک کا چاند 18 فروری کو نظر آنے کا قوی امکان ہے، جس کے نتیجے میں یکم رمضان المبارک 19 فروری کو ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر فہیم ہاشمی کا کہنا ہے کہ چاند کی پیدائش (New Moon) اور اس کے بعد رویت کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پیش گوئی کی گئی ہے۔ جدید فلکیاتی سائنس اب اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ مہینوں پہلے چاند کی پوزیشن، اس کی عمر اور افق پر اس کی موجودگی کے بارے میں درست اندازے لگائے جا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ پیش گوئیاں سائنسی بنیادوں پر ہیں اور حتمی فیصلہ رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے بعد ہی کیا جاتا ہے۔
رمضان المبارک اسلامی سال کا نہایت بابرکت اور مقدس مہینہ ہے، جس میں مسلمان روزے رکھتے ہیں، عبادات میں اضافہ کرتے ہیں اور روحانی تربیت کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ اگر 19 فروری کو یکم رمضان ہوتا ہے تو پورے ملک میں سحری، افطار، تراویح اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کا آغاز اسی دن سے ہوگا۔ ڈاکٹر فہیم ہاشمی کے مطابق موسم اور فلکیاتی حالات کو دیکھتے ہوئے چاند نظر آنے کے امکانات خاصے مضبوط ہیں، تاہم انہوں نے عوام کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کا انتظار کریں۔
اسی طرح عیدالفطر کے حوالے سے ماہر فلکیات نے بتایا کہ شوال کا چاند 20 مارچ کو نظر آنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں عیدالفطر 21 مارچ کو منائی جا سکتی ہے۔ عیدالفطر مسلمانوں کے لیے خوشی، شکرگزاری اور بھائی چارے کا دن ہوتا ہے، جو رمضان المبارک کے اختتام پر منایا جاتا ہے۔ اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوتی ہے تو مسلمان 29 یا 30 روزے مکمل کرنے کے بعد 21 مارچ کو عیدالفطر کی خوشیاں منائیں گے۔
ڈاکٹر فہیم ہاشمی کے مطابق شوال کے چاند کی رویت کے وقت چاند کی عمر، غروبِ آفتاب کے بعد افق پر اس کا قیام اور موسمی حالات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سائنسی حسابات کے مطابق اس دن چاند نظر آنے کے امکانات موجود ہیں، تاہم بادل، دھند یا دیگر قدرتی عوامل رویت میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
عیدالاضحیٰ کے حوالے سے بھی ماہر فلکیات نے اہم پیش گوئی کی ہے۔ ان کے مطابق ذوالحج کا آغاز 17 مئی سے ہونے کا امکان ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ 10 ذوالحج یعنی عیدالاضحیٰ 27 مئی کو ہونے کا قوی امکان ہے۔ عیدالاضحیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے اور اس موقع پر مسلمان اللہ کی رضا کے لیے جانور قربان کرتے ہیں۔
ڈاکٹر فہیم ہاشمی نے وضاحت کی کہ ذوالحج کے چاند کی رویت بھی فلکیاتی طور پر ممکن دکھائی دیتی ہے اور اگر چاند بروقت نظر آ جاتا ہے تو حج کے مناسک اور عیدالاضحیٰ کی تاریخیں بھی اسی حساب سے طے ہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک میں چاند نظر آنے کی اطلاعات بھی پاکستان میں فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلکیاتی پیش گوئیاں عبادات کی منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، جیسے کہ روزوں کی تیاری، تعلیمی اداروں اور دفاتر کے شیڈول، اور سفر کے انتظامات۔ تاہم اسلامی تعلیمات کے مطابق رویتِ ہلال کی شرعی حیثیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، اس لیے حتمی اعلان ہمیشہ مستند مذہبی اداروں ہی کی جانب سے کیا جاتا ہے۔
آخر میں ڈاکٹر فہیم ہاشمی نے عوام سے اپیل کی کہ سائنسی معلومات کو رہنمائی کے طور پر ضرور دیکھیں، لیکن افواہوں اور غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ چاند کے معاملے پر اتحاد اور صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ مذہبی تہوار خوشگوار اور یکجہتی کے ساتھ منائے جا سکیں۔


One Response