رمضان المبارک سے قبل مہنگائی میں اضافہ، 12 اشیائے ضروریہ مزید مہنگی

رمضان سے قبل اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

رمضان المبارک سے قبل مہنگائی میں اضافہ، 12 اشیائے ضروریہ مزید مہنگی، سالانہ بنیادوں پر مہنگائی 4.84 فیصد تک پہنچ گئی، ٹماٹر 80 فیصد مہنگے

رمضان المبارک کی آمد سے قبل عوام کے لیے مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے، جہاں ٹماٹر، پیاز، لہسن، چینی اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش سمیت مجموعی طور پر 12 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارہ شماریات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی شرح سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 4.84 فیصد تک جا پہنچی ہے، جو عام آدمی کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 0.09 فیصد مہنگائی میں اضافہ ہوا، جبکہ بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاں ایک جانب 12 اشیاء مہنگی ہوئیں، وہیں 13 اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی، تاہم مجموعی رجحان مہنگائی میں اضافے کی جانب رہا۔

ایک سال میں ٹماٹر، آٹا اور گیس نمایاں طور پر مہنگی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج مندی 100 انڈیکس گر گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی فروخت کے دوران سرمایہ کاروں کی ہلچل

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 80 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ آٹا 35 فیصد اور گیس کی قیمتیں 30 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ مہنگائی میں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوام پہلے ہی بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

ہفتہ وار بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ ٹماٹر میں

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 12.78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹماٹر کی اوسط قیمت بڑھ کر 111 روپے فی کلو تک جا پہنچی، جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے شدید پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔

پیاز کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور اس کی اوسط قیمت 70 روپے فی کلو ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح لہسن کی قیمت میں 5.45 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد مارکیٹ میں لہسن 464 روپے فی کلو تک فروخت ہوتا رہا۔

چینی، دالیں، مٹن اور ڈیزل بھی مہنگے

رپورٹ کے مطابق چینی کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا اور اس کی اوسط قیمت 156 روپے فی کلو رہی۔ دال ماش اور دال مونگ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ مٹن کی قیمتوں میں اضافے نے گوشت کے شوقین افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔

پیٹرولیم مصنوعات میں ڈیزل کی قیمتوں میں بھی 4.35 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے خورونوش کی ترسیل کی لاگت بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید مہنگائی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔

پاکستان میں رمضان المبارک 2026 کے چاند سے متعلق فلکیاتی پیش گوئی
محکمہ موسمیات کی رمضان المبارک 2026 کے آغاز سے متعلق پیش گوئی

کچھ اشیاء سستی بھی ہوئیں

دوسری جانب رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران گندم کے آٹے، انڈوں اور دال مسور سمیت 13 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ آٹے کی قیمت میں 2.89 فیصد کمی ہوئی، جبکہ انڈے 2.86 فیصد اور دال مسور 1.26 فیصد تک سستی ہوئی۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اشیاء میں کمی کے باوجود مجموعی طور پر مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے، خاص طور پر رمضان المبارک کے پیش نظر طلب میں اضافے کے باعث قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عوامی تشویش میں اضافہ

رمضان المبارک سے قبل اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں بار بار اضافہ عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، جبکہ آمدن میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہو رہا۔

ماہرین معاشیات کے مطابق اگر قیمتوں پر مؤثر کنٹرول نہ کیا گیا تو رمضان المبارک کے دوران ممہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے کم آمدن والے طبقے کے لیے گزارا مزید مشکل ہو جائے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]