راولپنڈی دفعہ 144 میں توسیع: امن و امان کیلئے سخت پابندیاں برقرار

راولپنڈی دفعہ 144 نافذ، شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

راولپنڈی دفعہ 144 میں مزید 15 روز کی توسیع، سیکیورٹی خدشات کے باعث سخت اقدامات

یہ خبر محض ایک سرکاری نوٹیفکیشن تک محدود نہیں بلکہ راولپنڈی جیسے حساس اور گنجان آباد شہر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، انتظامیہ کی حکمتِ عملی اور عوامی زندگی پر اس کے اثرات کی ایک جامع عکاس ہے۔ راولپنڈی میں امن و امان کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید 15 روز کی توسیع کر دی ہے۔ اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق 21 فروری تک برقرار رہے گا۔

دفعہ 144 دراصل فوجداری قوانین کا وہ حصہ ہے جو انتظامیہ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ہنگامی حالات یا ممکنہ خطرات کے پیش نظر عوامی اجتماعات، سرگرمیوں اور بعض اعمال پر عارضی پابندی عائد کر سکے۔ راولپنڈی میں اس دفعہ کا نفاذ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انتظامیہ موجودہ حالات کو حساس سمجھ رہی ہے اور کسی بھی قسم کی بدامنی یا انتشار کے خطرے کو ابتدا ہی میں روکنا چاہتی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق شہر بھر میں جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی بڑے اجتماع کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال خراب نہ ہو اور عوام کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔ ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سیاسی، مذہبی یا سماجی نوعیت کے اجتماعات بعض اوقات کشیدگی، ٹریفک جام، توڑ پھوڑ یا تصادم کا سبب بن جاتے ہیں، جس سے نہ صرف شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ سیکیورٹی اداروں پر بھی اضافی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسلحے کی نمائش پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہوائی فائرنگ، اسلحے کی نمائش اور طاقت کے اظہار جیسے رویے معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کو جنم دیتے ہیں۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف قانون شکنی کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ کسی بڑے حادثے یا جانی نقصان کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ اسی لیے دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی عائد رکھی گئی ہے تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔

لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بلااجازت لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اکثر شور شرابے، اشتعال انگیزی اور نظم و ضبط کی خرابی کا سبب بنتا ہے۔ خاص طور پر گنجان علاقوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، جہاں بزرگ، مریض، طلبہ اور عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا مقصد عوام کو ذہنی سکون فراہم کرنا اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیز تقاریر یا اعلانات کو روکنا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق دفعہ 144 میں توسیع کا فیصلہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پر کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں سیکیورٹی اداروں، قانون نافذ کرنے والے محکموں اور انتظامی افسران کی رپورٹس کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ان رپورٹس کی بنیاد پر یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ شہر میں امن و امان کو لاحق خطرات کس نوعیت کے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں۔ کمیٹی کی سفارش اس بات کا ثبوت ہے کہ فیصلہ محض قیاس آرائی پر نہیں بلکہ زمینی حقائق اور سیکیورٹی خدشات کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔

انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ دفعہ 144 کا بنیادی مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں شہریوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتا ہے، اور ایسے قوانین اسی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے نافذ کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ بعض حلقے دفعہ 144 کو عوامی آزادیوں پر قدغن سمجھتے ہیں، تاہم انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ پابندیاں عارضی ہوتی ہیں اور ان کا مقصد صرف حالات کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے، نہ کہ شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنا۔

راولپنڈی ایک ایسا شہر ہے جہاں سیاسی سرگرمیاں، مذہبی اجتماعات اور سماجی سرگرمیاں معمول کا حصہ ہیں۔ اسی لیے یہاں کسی بھی غیر متوقع صورتحال کے اثرات تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ دفعہ 144 کے نفاذ سے انتظامیہ کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ پیشگی اقدامات کے ذریعے کسی بھی ممکنہ بحران کو ٹال سکے۔ پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ادارے اس دوران مکمل طور پر متحرک رہتے ہیں تاکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، جس میں جرمانہ یا گرفتاری بھی شامل ہو سکتی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کا تعاون ہی امن و امان کی بحالی اور برقرار رکھنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ راولپنڈی میں دفعہ 144 میں توسیع ایک احتیاطی اقدام ہے، جس کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے قبل حفاظتی دیوار کھڑی کرنا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ امن و امان محض قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مشترکہ سماجی ذمہ داری ہے۔ اگر عوام اور انتظامیہ مل کر قانون کی پاسداری کریں تو نہ صرف راولپنڈی بلکہ پورا معاشرہ ایک محفوظ اور پُرامن ماحول کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]