قدیم رومی تاریخ اور دیومالا: سال کے 12 مہینوں کے نام کیسے پڑے؟ ایک مکمل داستان

12 مہینوں کے نام کی تاریخی جڑیں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سال کے 12 مہینوں کے نام: دیوی دیوتاؤں اور قدیم بادشاہوں سے منسوب ایک دلچسپ داستان

عیسوی کیلنڈر، جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، 365 دن اور 12 مہینوں کے نام پر مشتمل ہے۔ ہر مہینہ 30، 31 یا 28/29 دن کا ہوتا ہے۔ شاید ہی کسی نے غور کیا ہو کہ ان مہینوں کے ناموں کے پیچھے کیا تاریخی اور لسانی پس منظر چھپا ہے۔ یہ دلچسپ داستان زیادہ تر قدیم رومی تہذیب، ان کے دیوی دیوتاؤں اور شہنشاہوں سے جڑی ہے۔ ہم یہاں تفصیل سے جانتے ہیں کہ ہمارے سال کے 12 مہینوں کے نام کن وجوہات کی بنا پر رکھے گئے ہیں۔

1. جنوری (January – 31 دن)

12 مہینوں کے نام میں سب سے پہلے جنوری آتا ہے۔ اس کا نام رومیوں کے ایک دیوتا ’جانس‘ (Janus) کے نام پر رکھا گیا۔ رومی دیومالا کے مطابق جانس دیوتا کے دو سر تھے، جس سے وہ بیک وقت آگے اور پیچھے دیکھ سکتا تھا۔ اس مہینے کو جانس سے منسوب کرنے کی وجہ یہ تھی کہ انسان بھی جنوری میں اپنے گزرے ہوئے ماضی کا جائزہ لیتا ہے اور آنے والے حال کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے۔

ایک اور روایت کے مطابق، جنوری لاطینی زبان کے لفظ ’جنوا‘ (Janua) سے اخذ کیا گیا جس کا مطلب ہے ’’دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کو ’’سال کا دروازہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

2. فروری (February – 28/29 دن)

فروری اپنے مختصر دنوں (28 یا لیپ سال میں 29 دن) کی وجہ سے منفرد ہے۔ یہ لفظ لاطینی زبان کے لفظ ’فیبرام‘ (Februum) سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے ’’پاکیزگی کا ذریعہ‘‘۔ قدیم روم میں، اس وقت ایک سالانہ پاکیزگی کی رسم منائی جاتی تھی، جس کی مناسبت سے اس مہینے کو یہ نام ملا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے دور سے قبل یہ سال کا آخری مہینہ سمجھا جاتا تھا جبکہ دسمبر دوسرا مہینہ تھا۔ شمسی سال کی ترتیب نو کے بعد یہ سال کا دوسرا مہینہ قرار پایا۔ 12 مہینوں کے نام کی تاریخ میں لیپ سال کا تعلق بھی فروری سے جڑا ہے۔ ہر چوتھا سال لیپ کا سال ہوتا ہے جس میں ایک دن کا اضافہ ہوتا ہے تاکہ زمین کے سورج کے گرد 365 دن اور چھ گھنٹوں کے سفر کو متوازن کیا جا سکے۔

3. مارچ (March – 31 دن)

مارچ کا نام رومی دیوتا ’مارس‘ (Mars) کے نام پر رکھا گیا، جسے اردو میں مریخ کہتے ہیں۔ مارس کو اہل روم سب سے طاقتور دیوتا سمجھتے تھے اور اسے جنگ، بارش اور گرج چمک سے منسوب کرتے تھے۔ یہ لفظ لاطینی زبان کے لفظ ’مارٹئیس‘ (Martius) سے اخذ کیا گیا ہے۔ قدیم کیلنڈر میں یہ سال کا پہلا مہینہ ہوتا تھا کیونکہ یہ موسم بہار کے آغاز کی علامت ہے۔ 12 مہینوں کے نام میں یہ دیوتا کے نام پر رکھا گیا ایک طاقتور مہینہ ہے۔

4. اپریل (April – 30 دن)

اپریل لاطینی لفظ ’اپریلس‘ (Aprilis) سے بنا ہے، جس کا مطلب ہے کھولنے والا، آغاز کرنے والا۔ چونکہ اس مہینے میں موسم بہار پوری طرح کھل جاتا ہے اور نئے پودوں کی نشوونما کا آغاز ہوتا ہے، اس لیے اسے کسی دیوی دیوتا کے بجائے بہار کے فرشتے سے منسوب کیا گیا۔

5. مئی (May – 31 دن)

مئی کا نام ایک رومی دیوی ’میا‘ (Maia) کے نام پر رکھا گیا، جو زمین، پودوں کی نشوونما اور زرخیزی کی دیوی سمجھی جاتی تھی۔ یہ لفظ لاطینی زبان کے لفظ ’مائیس‘ (Maius) سے اخذ شدہ ہے، جس کا تعلق بھی بڑھوتری اور نشوونما سے ہے۔

6. جون (June – 30 دن)

جون کا نام دیوتائوں کے سردار جیوپیٹر کی بیٹی اور شادی کی دیوی ’جونو‘ (Juno) کے نام پر رکھا گیا۔ یہ دیوی قدیم روم میں خواتین اور شادی کے لیے بہت اہمیت رکھتی تھی۔ بعض لوگ اسے روم کے ایک مشہور شخص جونی لیس سے بھی منسوب کرتے ہیں۔

7. جولائی (July – 31 دن)

12 مہینوں کے نام میں جولائی وہ مہینہ ہے جو کسی دیوی یا دیوتا کے بجائے براہ راست ایک انسان کے نام پر رکھا گیا۔ یہ نام قدیم روم کے مشہور حکمران اور شہنشاہ جولیس سیزر کے اعزاز میں رکھا گیا۔ ایک زمانے میں یہ سال کا پانچواں مہینہ تھا۔

8. اگست (August – 31 دن)

جولائی کی طرح، اگست کا نام بھی ایک رومی شہنشاہ آگسٹس (Augustus) کے نام پر رکھا گیا۔ آگسٹس، جس کا اصل نام کچھ اور تھا، عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کی وجہ سے بہت زیادہ عزت پانے لگا اور اسے "دانا” یا "دانشمند” کے معنی میں آگسٹس کہا جانے لگا۔ جب جنوری اور فروری سال میں شامل نہیں ہوئے تھے، تب یہ چھٹا مہینہ تھا۔ جولیس سیزر کے حکم پر اس میں دو دن کا اضافہ کر کے 31 دن کا مہینہ کر دیا گیا۔

9. ستمبر (September – 30 دن)

ابتدائی کیلنڈر میں صرف 10 مہینے ہوتے تھے اور مارچ سے سال کا آغاز ہوتا تھا۔ اسی ترتیب میں، ستمبر لاطینی لفظ ’سیپٹ‘ (Sept) سے بنا، جس کا مطلب ہے ’’ساتواں‘‘۔ اگرچہ آج یہ سال کا نواں مہینہ ہے، مگر یہ نام اس کی قدیم حیثیت کی یاد دلاتا ہے۔

10. اکتوبر (October – 31 دن)

لاطینی میں آٹھ کو ’اوکٹو‘ (Octo) کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے اکتوبر کا مطلب ’’آٹھواں مہینہ‘‘ ہے۔ جب جنوری اور فروری شامل ہوئے تو یہ دسواں مہینہ بن گیا۔

11. نومبر (November – 30 دن)

لاطینی زبان میں 9 کو ’نووم‘ (Novum) کہتے ہیں۔ نومبر کا مطلب ’’نواں مہینہ‘‘۔ نئے کیلنڈر کے مطابق یہ گیارھواں مہینہ ہے۔ یہ نام بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ 12 مہینوں کے نام کی تاریخی جڑیں ایک 10 مہینوں کے کیلنڈر میں پیوست ہیں۔

نیا تعلیمی کیلنڈر 2025: سال میں 2 سمسٹرز، طلبا کے لیے بڑی خبر

12. دسمبر (December – 31 دن)

لاطینی گنتی میں 10 کا مطلب ہے ’دسم‘ (Decem)۔ اسی لفظ کی مناسبت سے دسمبر کو ’’دسواں مہینہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ آج یہ سال کا بارھواں اور آخری مہینہ ہے۔

یہ تمام نام قدیم رومی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں، حالانکہ رومی کب کے اپنی اس مائتھالوجی کو ترک کر کے عیسائیت اختیار کر چکے ہیں۔ اب ان کے نزدیک یہ صرف قصے کہانیوں کی حد تک رہ گیا ہے، لیکن ان 12 مہینوں کے نام کی داستان آج بھی ان کی تاریخ کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]