کیا تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیوں میں توسیع ہوگی؟ حکومتی وضاحت سامنے آگئی

سردیوں کی چھٹیوں میں توسیع سے متعلق خبریں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سردیوں کی چھٹیوں میں توسیع کی خبریں، وزیر تعلیم نے اصل حقیقت بتا دی

پنجاب بھر میں ان دنوں ایک ہی سوال ہر والدین، طالب علم اور استاد کی زبان پر ہے کہ کیا واقعی سردیوں کی چھٹیوں میں توسیع ہونے جا رہی ہے یا یہ محض سوشل میڈیا کی افواہیں ہیں؟ گزشتہ چند دنوں سے فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی خبریں تیزی سے وائرل ہو رہی تھیں جنہوں نے تعلیمی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی۔

افواہوں کا آغاز کیسے ہوا؟

سرد موسم کی شدت میں اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر چند غیر مصدقہ پوسٹس سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پنجاب حکومت تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیوں میں توسیع پر غور کر رہی ہے۔ ان خبروں نے والدین کو اس سوچ میں ڈال دیا کہ آیا بچوں کو مزید کچھ دن گھروں میں ہی رہنا ہوگا یا نہیں۔

سردیوں کی چھٹیوں میں توسیع، اصل حقیقت کیا ہے؟

ان افواہوں کے بڑھنے کے بعد پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے اس معاملے پر کھل کر وضاحت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے سردیوں کی چھٹیوں میں توسیع کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق 12 جنوری 2026 کو دوبارہ کھلیں گے۔

وزیر تعلیم کا واضح پیغام

وزیر تعلیم نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو نہ صرف غلط بلکہ گمراہ کن بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر تصدیق کی معلومات پھیلانا معاشرے میں بے جا خوف اور کنفیوژن پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے والدین اور طلبہ سے اپیل کی کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے آنے والی معلومات پر ہی اعتماد کریں۔

سرکاری نوٹیفکیشن کی تفصیل

یاد رہے کہ پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے پہلے ہی سردیوں کی تعطیلات کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر رکھا ہے، جس کے مطابق سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں چھٹیاں 22 دسمبر 2025 سے 10 جنوری 2026 تک ہیں۔ اس نوٹیفکیشن میں سردیوں کی چھٹیوں میں توسیع کا کوئی ذکر موجود نہیں۔

نجی تعلیمی اداروں کا کردار

دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ نجی تعلیمی اداروں نے سرکاری نوٹیفکیشن کے برعکس طلبہ کو ہدایات جاری کیں کہ وہ 6 جنوری 2026 سے دوبارہ کلاسز لینا شروع کریں۔ اس فیصلے نے والدین میں مزید تشویش پیدا کر دی کیونکہ ایک طرف سرکاری اعلان کچھ اور تھا اور دوسری طرف نجی ادارے مختلف احکامات دے رہے تھے۔

والدین کی تشویش

والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی صحت اور حفاظت سب سے اہم ہے۔ سرد موسم میں بچوں کو جلد اسکول بھیجنے کا فیصلہ کئی والدین کے لیے مشکل ثابت ہوا۔ اسی لیے سردیوں کی چھٹیوں میں توسیع کی خبریں سن کر بہت سے والدین نے سکھ کا سانس لیا، مگر وضاحت کے بعد ایک بار پھر سوالات جنم لینے لگے۔

تعلیمی حلقوں کا مؤقف

اساتذہ اور تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام میں نظم و ضبط بے حد ضروری ہے۔ اگر ہر ادارہ اپنی مرضی سے فیصلے کرے تو طلبہ اور والدین دونوں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ نجی تعلیمی اداروں کو بھی سرکاری نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کا پابند بنائے۔

سوشل میڈیا اور ذمہ داری

یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر وائرل ہونے والی خبر سچ نہیں ہوتی۔ سردیوں کی چھٹیوں میں توسیع سے متعلق افواہوں نے ثابت کیا کہ غیر ذمہ دارانہ شیئرنگ کس طرح عوامی ذہنوں میں بے یقینی پیدا کر سکتی ہے۔

حکومت سے مطالبات

والدین اور شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال سے بچنے کے لیے نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے واضح اور یکساں پالیسی اپنائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے۔

اسکول فیسوں میں اضافہ: ریلوے ملازمین اور عام والدین پریشان

نتیجہ

آخر میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ پنجاب میں سردیوں کی چھٹیوں میں توسیع کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام اسکول اور کالجز 12 جنوری 2026 کو کھلیں گے۔ والدین، طلبہ اور اساتذہ کو چاہیے کہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے سرکاری اعلانات پر اعتماد کریں اور تعلیمی نظام کو غیر ضروری الجھنوں سے محفوظ رکھیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]