گورنر اسٹیٹ بینک: شرح سود میں کمی آئی ایم ایف جائزے سے مشروط ہوگی

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد شرح سود میں کمی پر گفتگو کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

شرح سود میں کمی کا فیصلہ آئی ایم ایف جائزے سے مشروط، گورنر اسٹیٹ بینک کا بیان

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے واضح کیا ہے کہ شرح سود میں کمی کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ قدم سیلابی نقصانات کے تخمینے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے آئندہ جائزے کی روشنی میں اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کو معیشت کے استحکام کے لیے ایک محتاط اور متوازن حکمت عملی کے طور پر اپنایا گیا ہے، تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور بیرونی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

مانیٹری پالیسی کا کردار اور مہنگائی کی صورتحال

گورنر جمیل احمد نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ شرح سود میں کمی سے متعلق ہر فیصلہ معیشت کی حقیقی صورتحال اور افراطِ زر کے رجحانات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق، حالیہ مہینوں میں سخت مانیٹری پالیسی نے مہنگائی کے دباؤ میں کمی لانے میں مدد دی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ قلیل مدت میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد ہدف سے زیادہ رہ سکتی ہے۔

گورنر نے کہا:

"ہم سمجھتے ہیں کہ قیمتوں میں استحکام پائیدار معاشی ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ اگرچہ مہنگائی میں کچھ وقتی دباؤ ہے، مگر طویل مدت میں صورتحال بہتر ہونے کی توقع ہے۔”

سیلابی نقصانات کا اثر معیشت پر

گورنر نے نشاندہی کی کہ حالیہ شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی نقصانات سے زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو غذائی افراطِ زر پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک حکومت کے ساتھ مل کر زمینی حقائق کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ درست تخمینہ لگایا جا سکے کہ معیشت پر ان اثرات کی نوعیت کیا ہوگی۔

"اگر سیلابی نقصانات کا دائرہ محدود رہا تو مہنگائی پر اثر کم پڑے گا، لیکن اگر صورتحال وسیع پیمانے پر ہوئی تو ہمیں اپنی مانیٹری پالیسی کو اس کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔”

آئی ایم ایف جائزے کی اہمیت

شرح سود میں کمی کے فیصلے کو آئی ایم ایف کے جائزے سے جوڑتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی معاشی سمت کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ آئی ایم ایف مشن اگلے جائزے میں کس حد تک مثبت اشارے دیتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان کی مالی نظم، محصولات اور زرِ مبادلہ کی پالیسیوں کا بغور تجزیہ کرتا ہے، جس کے نتائج مانیٹری فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

سخت مانیٹری پالیسی کے مثبت نتائج

گورنر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی نے افراطِ زر پر قابو پانے، روپے کے استحکام اور بیرونی کھاتوں کے خسارے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی مانیٹری پالیسی اور شرح سود 11 فیصد پر برقرار
اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ شرح سود بلند سطح پر برقرار رکھی گئی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں معیشت میں غیر یقینی صورتحال میں کمی اور مالیاتی نظم میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

"ہم نے دیکھا کہ سخت مانیٹری پالیسی کے باعث درآمدات میں کمی آئی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری ہوئی اور روپے کو استحکام ملا۔”

معیشت کے دیگر پہلو — زرِ مبادلہ اور سرمایہ کاری

گورنر نے مزید بتایا کہ ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سرمایہ کار اب پاکستانی مارکیٹ کو زیادہ پُراعتماد نظر سے دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر آئی ایم ایف پروگرام کے تسلسل کے بعد۔

شرح سود میں کمی کے ممکنہ فیصلے سے سرمایہ کاری کے ماحول میں مزید بہتری آ سکتی ہے، کیونکہ کم شرح سود کاروباروں کے لیے قرضوں کی لاگت کم کرتی ہے۔

مانیٹری اور فِسکل پالیسی میں ہم آہنگی

جمیل احمد نے کہا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کے درمیان پالیسی ہم آہنگی برقرار ہے، جس سے مالی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی سازوں کا مقصد مختصر مدتی فائدے کے بجائے معیشت کے طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

"ہماری ترجیح پائیدار نمو ہے، نہ کہ وقتی معاشی ریلیف۔ شرح سود میں کمی اسی وقت ممکن ہوگی جب ہم دیکھیں گے کہ معیشت اس کے لیے تیار ہے۔”

ماہرینِ معیشت کی رائے

اقتصادی ماہرین کے مطابق، گورنر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرح سود میں کمی فوری طور پر متوقع نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے جائزے سے قبل کسی بڑی مانیٹری تبدیلی کا امکان کم ہے کیونکہ اس سے مالیاتی استحکام پر اثر پڑ سکتا ہے۔

ماہرِ معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا:

"اگر افراطِ زر میں واضح کمی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری نظر آئے، تو شرح سود میں کمی ایک مثبت اشارہ ہو سکتا ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں محتاط رویہ ہی بہتر ہے۔”

پالیسی میں محتاط رویہ برقرار

گورنر اسٹیٹ بینک کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ادارہ کسی جلد بازی میں نہیں بلکہ ٹھوس اعداد و شمار کی بنیاد پر شرح سود میں کمی کا فیصلہ کرے گا۔
یہ نقطہ نظر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مانیٹری پالیسی کا مقصد صرف شرح کم یا زیادہ کرنا نہیں، بلکہ مجموعی معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ: شرح سود 11 فیصد کی سطح پر برقرار

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]