اسکول فیسوں میں اضافہ: ریلوے ملازمین اور عام والدین پریشان

اسکول فیسوں میں اضافہ سے والدین مشکلات کا شکار
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

تعلیم مہنگی ہو گئی، اسکول فیسوں میں اضافہ

ملک میں پہلے ہی مہنگائی کے ستائے ہوئے والدین کے لیے ایک اور تشویشناک خبر سامنے آ گئی ہے۔ اسکول فیسوں میں اضافہ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اب تعلیم حاصل کرنا بھی عام آدمی کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ریلوے حکام نے ریلوے کے زیر انتظام چلنے والے اسکولوں کی فیسوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ہزاروں والدین شدید پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔

ریلوے اسکولوں میں نئی فیسوں کا اطلاق

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اسکول فیسوں میں اضافہ تمام ریلوے اسکولوں پر لاگو کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق نہ صرف ریلوے ملازمین کے بچوں بلکہ عام شہریوں کے بچوں پر بھی ہو گا۔

ریلوے حکام کے مطابق یہ اضافہ تعلیمی اخراجات، اساتذہ کی تنخواہوں اور اسکولوں کے انتظامی معاملات کے باعث کیا گیا ہے، تاہم والدین اس موقف سے مطمئن نظر نہیں آتے۔

گریڈ 1 سے 10 کے ملازمین کے بچوں کی فیس

نئے فیصلے کے مطابق گریڈ 1 سے 10 کے ریلوے ملازمین کے بچوں کی ماہانہ فیس:

700 روپے سے بڑھا کر 900 روپے کر دی گئی ہے۔

کم آمدنی والے ملازمین کے لیے یہ اسکول فیسوں میں اضافہ کسی اضافی بوجھ سے کم نہیں، کیونکہ پہلے ہی گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے۔

گریڈ 11 سے 22 کے ملازمین و افسران کی فیس

گریڈ 11 سے گریڈ 22 کے ریلوے ملازمین اور افسران کے بچوں کے لیے بھی اسکول فیسوں میں اضافہ کیا گیا ہے:

800 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔

اگرچہ یہ طبقہ نسبتاً بہتر آمدنی رکھتا ہے، مگر مسلسل مہنگائی کے باعث یہ اضافہ بھی ان کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

عام بچوں کے لیے فیس میں نمایاں اضافہ

ریلوے ملازمین کے بچوں کے علاوہ عام شہریوں کے بچوں کے لیے فیس میں مزید اضافہ کیا گیا ہے:

1300 روپے سے بڑھا کر 1500 روپے ماہانہ

یہ اسکول فیسوں میں اضافہ خاص طور پر ان والدین کے لیے بڑا مسئلہ بن گیا ہے جو پہلے ہی محدود وسائل میں اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلانے کی کوشش کر رہے تھے۔

مختلف شہروں میں فیس کا نیا شیڈول

ریلوے اسکولوں میں شہروں کے لحاظ سے بھی فیسوں میں ردوبدل کیا گیا ہے:

سمہ سٹہ اور خانیوال:

عام بچوں کی فیس 1000 سے بڑھا کر 1200 روپے

سکھر اور روہڑی:

فیس 850 روپے سے بڑھا کر 1050 روپے

ہر شہر میں اسکول فیسوں میں اضافہ والدین کے لیے ایک نئی مشکل لے کر آیا ہے۔

والدین کا ردِعمل

والدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف مہنگائی، دوسری طرف تعلیم کے اخراجات نے کمر توڑ دی ہے۔ کئی والدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو وہ بچوں کو اسکول سے نکالنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسکول فیسوں میں اضافہ سے تعلیم کا حق امیر اور غریب کے درمیان تقسیم ہوتا جا رہا ہے۔

چولستان یونیورسٹی طلبہ پاک فوج دورہ: ٹینک فائر اور جدید ہتھیاروں کا عملی مظاہرہ، طلبہ کا بھرپور جوش

تعلیم یا مجبوری؟ ایک تلخ سوال

ماہرین تعلیم کے مطابق فیسوں میں بے تحاشا اضافہ نہ صرف تعلیمی شرح کو متاثر کرے گا بلکہ اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسکول فیسوں میں اضافہ دراصل مستقبل کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]