یکم دسمبر سے اسکولوں کے نئے اوقات کار طلبا اور والدین کیلئے اہم اعلان
موسمِ سرما کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی وفاقی دارالحکومت میں تعلیمی اداروں کے شیڈول میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ وزارتِ تعلیم نے تازہ اعلان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسکولوں کے نئے اوقات کار یکم دسمبر سے نافذ ہوں گے، جو کہ 31 جنوری تک لاگو رہیں گے۔ والدین، اساتذہ اور طلبا کیلئے یہ ایک اہم اپڈیٹ ہے کیونکہ ہر سال سرد موسم میں بچوں کو اسکول بھیجنا مشکل ہو جاتا ہے، اسی لیے حکومت نے موسم کی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے نیا شیڈول جاری کیا ہے۔
نیا شیڈول کیوں ضروری تھا؟
گزشتہ چند دنوں سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ صبح کے اوقات میں دھند اور سردی نے بچوں کیلئے اسکول جانا مشکل بنا دیا تھا۔ اسی وجہ سے وزارتِ تعلیم نے فوری طور پر اسکولوں کے نئے اوقات کار جاری کیے تاکہ بچے سردی کے سخت ترین وقت میں اسکول جانے سے بچ سکیں اور والدین کو بھی سہولت مل سکے۔
سنگل شفٹ اسکولوں کے اوقات کار
حکومتی اعلان کے مطابق سنگل شفٹ اسکولوں کا نیا ٹائم یہ ہوگا:
صبح 8:30 بجے تا دوپہر 2:00 بجے
جبکہ جمعہ کے روز:
صبح 8:30 بجے تا 1:15 بجے
یہ فیصلہ خاص طور پر ان بچوں کیلئے راحت کا باعث ہے جو دور دراز سے بس یا وین کے ذریعے اسکول پہنچتے ہیں۔ صبح کا وقت بدلنے سے بچوں کو کچھ اضافی آرام اور بہتر موسم کا سامنا ہوگا۔
اسکولوں کے نئے اوقات کار کی یہ تبدیلی والدین میں اظہارِ تشکر کا باعث بنی ہے، خاص طور پر ان بچوں کیلئے جنہیں سخت سردی کا سامنا ہوتا تھا۔
ڈبل شفٹ اسکولوں کے اوقات کار
ڈبل شفٹ اسکولوں کیلئے ٹائمنگ کچھ یوں ہوگی:
صبح کی شفٹ:
صبح 8:15 بجے تا 1:15 بجے
ایوننگ شفٹ:
1:15 بجے تا 6:00 بجے شام
ایوننگ شفٹ کے طلبا کیلئے یہ ٹائم بہترین سمجھا جا رہا ہے کیونکہ شام کے اوقات میں سردی نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔ اس طرح دونوں شفٹوں کے بچوں کو موسم کے مطابق مناسب ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔
حکومت کی ہدایات — انتظامات مکمل کرنے کا حکم
تمام پرائمری، مڈل اور ہائر سیکنڈری اسکولوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ فوراً نئے شیڈول کے مطابق انتظامات کریں۔
خصوصی ہدایات میں شامل ہے کہ:
اسکول وقت پر کھلے اور بند ہوں
گیٹ پر ڈیوٹی اسٹاف موجود ہو
اسکول ٹرانسپورٹ کا شیڈول دوبارہ ترتیب دیا جائے
حفاظتی اقدامات خصوصاً ہیٹر، فرسٹ ایڈ اور پانی کی دستیابی یقینی بنائی جائے
حکام کا کہنا ہے کہ اسکولوں کے نئے اوقات کار نافذ کرنے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ ٹائم بدلا جائے، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ بچوں کو سہولت اور تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
والدین کا ردعمل — راحت اور اطمینان
والدین نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ایک والد کا کہنا تھا:
"روز صبح دھند اور سردی میں بچوں کو تیار کرنا مشکل ہوتا تھا۔ اسکولوں کے نئے اوقات کار سے ہمیں ضرور سہولت ملے گی۔”
ایک خاتون والدہ نے کہا:
"سردیوں میں روشنی سے پہلے بچوں کو بھیجنا تکلیف دہ تھا، اب کم از کم اسکول لیٹ کھلیں گے تو بچوں کی صحت بھی بہتر رہے گی۔”
یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کا فیصلہ واقعی عوام کی ضرورت کے مطابق ہے۔
طلبا کی خوشی — تھوڑی سی نیند، تھوڑی سی آسانی
طلبا کیلئے تو یہ اعلان کسی خوشخبری سے کم نہیں۔
صبح دیر سے اٹھنا، زیادہ آرام کرنا، اور دھند سے بچ کر سکون سے اسکول پہنچنا — یہ سب بچوں کیلئے بہت بڑی سہولت ہے۔
بہت سے طلبا نے سوشل میڈیا پر پوسٹس بھی شیئر کیں کہ اسکولوں کے نئے اوقات کار سے انہیں خوشی ہوئی ہے کیونکہ سردیوں میں جلدی اٹھنا واقعی مشکل ہوتا ہے۔
کیا آگے مزید تبدیلی کا امکان ہے؟
حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ اگر سردی مزید شدید ہو گئی تو اسکولوں کے نئے اوقات کار میں مزید نرمی بھی کی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ چھٹیوں کے حوالے سے بھی غور کیا جا رہا ہے، لیکن اس پر بعد میں فیصلہ ہوگا۔
سکولوں میں پنجابی زبان پنجاب حکومت کا تاریخی فیصلہ
نتیجہ — بہتر موسم، بہتر سہولتیں، بہتر تعلیم
یکم دسمبر سے نافذ ہونے والے اسکولوں کے نئے اوقات کار نہ صرف موسمی حالات کے مطابق ہیں بلکہ طلبا، والدین اور اساتذہ تینوں کیلئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت تعلیم اور طلبا کی صحت دونوں کو یکساں اہمیت دیتی ہے۔
One Response