تعلیمی اداروں میں جنسی جرائم کی روک تھام: پنجاب کی نئی پالیسی سامنے آگئی

پنجاب میں تعلیمی اداروں میں جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے ویریفکیشن پالیسی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پنجاب میں تعلیمی اداروں میں جنسی جرائم کی روک تھام کیلئے سخت ویریفکیشن سسٹم نافذ

تعلیمی اداروں میں جنسی جرائم کی روک تھام — پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ

پنجاب میں بچوں کے تحفظ اور محفوظ تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے نہایت اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس اقدام کے تحت تعلیمی اداروں میں جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے نئی پالیسی مرتب کی گئی ہے، جس میں بھرتی کے عمل کو مکمل طور پر سیکس آفینڈرز رجسٹر کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔

سیکس آفینڈرز رجسٹر سے لازمی ویریفکیشن کی شرط

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے سیکرٹری پراسیکیوشن کو دو صفحات پر مشتمل مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ فیکلٹی اور اسٹاف کی بھرتی سے قبل نادرا کے سیکس آفینڈرز رجسٹر سے لازمی جانچ کی جائے۔
یہ شرط تعلیمی اداروں میں جنسی جرائم کی روک تھام کے سلسلے میں انتہائی بنیادی کردار ادا کرے گی۔

موجودہ بھرتی نظام میں سنگین خلا

مراسلے میں بتایا گیا کہ موجودہ بیک گراؤنڈ چیکس ناکافی ہیں کیونکہ ان سے ملزم کا سابقہ جنسی ریکارڈ سامنے نہیں آتا۔ اس کمی کی وجہ سے کئی بار ایسے لوگ بھی تعلیمی اداروں میں بھرتی ہو جاتے ہیں جن کی تاریخ مشکوک ہوتی ہے۔
اس لیے نئی پالیسی کے مطابق تعلیمی اداروں میں جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے جدید اور سخت جانچ کا طریقہ ضروری ہے۔

سیکس آفینڈرز کی بھرتی پورے ادارے کے لیے خطرہ

پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق ایک بھی سیکس آفینڈر کی تعلیمی ادارے میں بھرتی سینکڑوں طلبہ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس لیے انہوں نے سفارش کی ہے کہ:

  • سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں بھرتی کے لیے لازمی سیکس آفینڈر چیک شامل کیا جائے
  • موجودہ ملازمین کی بھی دوبارہ ویریفکیشن کی جائے
  • قانون و انصاف کا محکمہ اس کی رسائی کا میکانزم بنائے

یہ اقدام یقیناً تعلیمی اداروں میں جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے عملی بنیاد فراہم کرے گا۔

بچوں کا تحفظ — حکومت کی اولین ترجیح

مراسلے کے مطابق نئی پالیسی سے بچوں کے تحفظ کو نہ صرف مزید مضبوط کیا جائے گا بلکہ ہر ادارے میں محفوظ ماحول کی فراہمی یقینی ہوگی۔
ماہرینِ تعلیم کا بھی کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں جنسی جرائم کی روک تھام کیلئے حکومت کے اس فیصلے سے اعتماد بحال ہوگا اور والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے مطمئن ہوں گے۔

ایک مضبوط حفاظتی نظام کی طرف قدم

سیکس آفینڈرز رجسٹر کو بھرتیوں کا لازمی حصہ بنانا ریاست کی جانب سے ایک بڑا اور مؤثر قدم ہے۔ اس سے نہ صرف مستقبل میں ہونے والے واقعات روکے جا سکیں گے بلکہ پاکستان بھر میں محفوظ تعلیمی نظام کی بنیاد مضبوط ہوگی۔
یہ پالیسی یقینی طور پر تعلیمی اداروں میں جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی۔

بلوچستان موسم سرما کی چھٹیاں ڈھائی ماہ کی، طلبہ خوش

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]