وزیر اعظم شہباز شریف کا جرمنی دورہ، میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف تیرہ سے پندرہ فروری تک جرمنی کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ عالمی سطح کی اہم سیکیورٹی کانفرنس، میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم کے اس دورے کو پاکستان کی متحرک سفارت کاری اور عالمی برادری کے ساتھ روابط کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے دورۂ جرمنی کا شیڈول حتمی مراحل میں ہے، جس کے تحت وہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے مختلف سیشنز میں شرکت کریں گے اور عالمی امن، علاقائی سلامتی، جیو پولیٹیکل چیلنجز اور معاشی استحکام جیسے اہم موضوعات پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ یہ کانفرنس دنیا کے ممتاز عالمی رہنماؤں، پالیسی سازوں، وزرائے خارجہ، دفاعی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کانفرنس کے سائیڈ لائنز پر مختلف عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، عالمی امن و سلامتی، انسداد دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی اور معاشی تعاون جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق وزیراعظم کی یہ ملاقاتیں پاکستان کے لیے عالمی سطح پر مؤثر سفارتی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گی۔
دورے کے دوران پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ جرمنی یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت ہے اور پاکستان کا ایک اہم تجارتی و ترقیاتی شراکت دار بھی سمجھا جاتا ہے۔ وزیراعظم کے دورے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی، ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی تعاون کے امکانات پر گفتگو متوقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اس موقع پر جرمن قیادت کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھی آگاہ کریں گے، خصوصاً انفراسٹرکچر، قابلِ تجدید توانائی، آئی ٹی، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون پر زور دیا جائے گا۔ حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے کر ملکی معیشت کو مستحکم کیا جائے، اور وزیراعظم کا یہ دورہ اسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
علاقائی تعاون بھی وزیراعظم کے ایجنڈے کا ایک اہم جزو ہوگا۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان روابط، تجارتی راہداریوں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ وزیراعظم پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے کہ علاقائی امن کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، اور پاکستان خطے میں تعاون اور مکالمے کا خواہاں ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم روان ماہ ویانا، آسٹریا کا بھی دورہ کریں گے، جو ایک الگ اور دوطرفہ نوعیت کا دورہ ہوگا۔ ویانا میں وزیراعظم کی ملاقاتوں کا مرکز پاکستان اور آسٹریا کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت، معیشت اور سفارتی تعاون ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو وسعت دینے، تجارتی حجم بڑھانے اور باہمی سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔
وزیراعظم کا جرمنی اور آسٹریا کا یہ دورہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں یورپ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعاون وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
سیاسی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت سے پاکستان کو عالمی سطح پر اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ سائیڈ لائن ملاقاتیں مستقبل میں ٹھوس سفارتی اور معاشی نتائج کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر وزیراعظم کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور یورپی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے بلکہ علاقائی تعاون، عالمی امن اور معاشی شراکت داری کے فروغ میں بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس دورے کو پاکستان کے مثبت تشخص، فعال سفارت کاری اور معاشی بحالی کی کوششوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

