سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ: پاکستان میں سونا مزید مہنگا

سونے کی قیمت میں اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سونے کی قیمت میں ساتویں روز بھی اضافہ، چاندی بھی مہنگی

مقامی اور عالمی سطح پر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے دوران پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ساتویں روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں اور عام شہریوں کی توجہ ایک مرتبہ پھر اس اہم مارکیٹ کی طرف مبذول ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی صورتحال، ڈالر کی قدر میں تبدیلی اور سرمایہ کاری کے رجحانات سونے اور چاندی کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ان قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 1300 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد نئی قیمت 541,262 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کے بھاؤ میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 1,114 روپے بڑھنے کے بعد 464,044 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق سونے کی قیمت میں یہ مسلسل اضافہ مقامی خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ سونا پاکستان میں نہ صرف زیورات بلکہ محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر بھی خریدا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر سرمایہ کار غیر یقینی معاشی حالات میں محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث لوگ سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کے نتیجے میں طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے اور قیمتیں مزید بڑھنے لگتی ہیں۔

اسی طرح چاندی کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فی تولہ چاندی کی قیمت میں 268 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد نئی قیمت 9,554 روپے ہو گئی ہے۔ چاندی کی قیمت میں اضافہ نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ زیورات بنانے والے کاروباری افراد کے لیے بھی اہم خبر ہے کیونکہ چاندی کو بھی پاکستان میں زیورات اور دیگر مصنوعات میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونے کی قیمتوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، تاہم چاندی بھی عالمی مارکیٹ میں ایک اہم دھات ہے اور اس کی قیمت میں تبدیلیاں صنعتی اور سرمایہ کاری کے رجحانات سے جڑی ہوتی ہیں۔ چاندی کا استعمال الیکٹرانکس، شمسی توانائی اور دیگر صنعتوں میں بھی کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی عالمی طلب میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔

دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی سطح پر فی اونس سونا 13 ڈالر مہنگا ہو کر 5,185 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ براہ راست مقامی مارکیٹ کو متاثر کرتا ہے کیونکہ پاکستان میں سونے کی قیمتیں عالمی نرخوں کے مطابق طے کی جاتی ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز، جیو پولیٹیکل کشیدگی اور مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی کے باعث سرمایہ کار سونے کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ جب بھی عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ یا دیگر پرخطر سرمایہ کاری سے نکل کر سونے جیسے محفوظ اثاثوں میں سرمایہ لگاتے ہیں، جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا ایک بڑا سبب ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ بھی ہے۔ جب امریکی ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو سونے کی مقامی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ سونا عالمی سطح پر ڈالر میں خریدا اور فروخت کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈالر کی قدر میں معمولی تبدیلی بھی سونے کی قیمتوں پر نمایاں اثر ڈالتی ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ مسلسل سات دن تک قیمتوں میں اضافے کے باعث خریداروں کی دلچسپی میں وقتی کمی بھی دیکھنے میں آ سکتی ہے کیونکہ عام صارفین عموماً قیمتوں میں کمی کا انتظار کرتے ہیں۔ تاہم سرمایہ کار ایسے مواقع کو طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے موزوں سمجھتے ہیں اور سونا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ شادی بیاہ کے سیزن کی تیاری کرنے والے خاندانوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں شادیوں کے موقع پر سونے کے زیورات خریدنے کی روایت عام ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافہ متوسط طبقے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

دوسری طرف صرافہ بازار کے تاجر اس صورتحال کو مارکیٹ کے لیے ایک اہم مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ جاری رہا تو مقامی مارکیٹ میں بھی مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ تاہم اگر عالمی حالات میں بہتری آتی ہے یا ڈالر کی قدر میں کمی ہوتی ہے تو قیمتوں میں استحکام یا کمی بھی ممکن ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں صرف زیورات کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اس کا اثر مجموعی معیشت پر بھی پڑتا ہے۔ جب سونے کی قیمت بڑھتی ہے تو لوگ بینکوں اور دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع کے بجائے سونے کی خریداری کو ترجیح دینے لگتے ہیں، جس سے مالیاتی نظام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ سرمایہ کار عالمی اقتصادی صورتحال، مہنگائی کی شرح، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں اور کرنسی مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ یہی عوامل سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کا سبب بنتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو پاکستان میں بھی سونے کی قیمت نئی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے سرمایہ کار اور خریدار دونوں مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آخر میں ماہرین نے شہریوں اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سونے اور چاندی میں سرمایہ کاری کرتے وقت مارکیٹ کے رجحانات، عالمی قیمتوں اور مقامی معاشی حالات کو مدنظر رکھیں۔ کیونکہ قیمتی دھاتوں کی قیمتیں تیزی سے بدل سکتی ہیں اور درست معلومات کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ ہی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی اور مقامی معاشی حالات ابھی تک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، اور یہی عوامل آئندہ دنوں میں بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]