پیپلز پارٹی کا احتجاج، حکومت کا صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زون آرڈیننس واپس لے لیا

پیپلز پارٹی کا احتجاج، حکومت کا صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زون آرڈیننس واپس لے لیا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پیپلز پارٹی کا احتجاج، حکومت کا صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زون آرڈیننس واپس لے لیا،

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شدید احتجاج نے اثر دکھا دیا، جس کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے اسپیشل اکنامک زون آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ کر لیا۔

حکومت نے یہ آرڈیننس صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر جاری کیا تھا، جس پر صدرِ مملکت نے آئینی اعتراض عائد کرتے ہوئے آرڈیننس واپس لینے کی ایڈوائس دی۔ صدر کی ہدایت کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے آرڈیننس واپس لینے کا باضابطہ فیصلہ کیا۔

وفاقی آئینی عدالت نئی عمارت میں منتقل
چیف جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کی نئی عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے

پیپلز پارٹی نے آرڈیننس کے اجرا کو آئین اور پارلیمانی روایات کے منافی قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا اور آج کے اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا۔

قبل ازیں سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر قانون فوری طور پر اس سنگین معاملے کا نوٹس لیں کیونکہ اس طرح کے اقدامات حکومتی اتحاد میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہیں۔

راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کی خودمختاری کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پی پی کی پارلیمانی پارٹی آئندہ اجلاس میں شرکت یا بائیکاٹ کا فیصلہ مشاورت کے بعد کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کے مؤقف اور احتجاج کے بعد اسپیشل اکنامک زون آرڈیننس کی واپسی حکومت کے لیے ایک واضح سیاسی دباؤ اور پارلیمانی برتری کی علامت ہے۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]