آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار؛ ایرانی فوج کا گھیراؤ، سینکڑوں بحری جہاز راستہ ملنے کے منتظر
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی علاقائی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک سنگین موڑ اختیار کر چکی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، اس وقت تقریباً 1,000 تجارتی بحری جہاز اس تنگ سمندری راستے سے گزرنے کے منتظر ہیں، جہاں صورتحال انتہائی غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔ ان جہازوں میں دنیا بھر کے لیے ضروری سامان لدا ہوا ہے، لیکن حفاظتی خطرات کی وجہ سے آمدورفت بری طرح متاثر ہے۔
تیل کی عالمی منڈی پر اثرات
انتظار کرنے والے ان بحری جہازوں میں تقریباً 200 آئل ٹینکرز بھی شامل ہیں جو خام تیل کی سپلائی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سبب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کے صارفین پر پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بندش برقرار رہی تو ایندھن کا عالمی بحران جنم لے سکتا ہے۔
ایرانی فوج کی سخت مانیٹرنگ اور دھمکیاں
رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج نے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایرانی حکام کی جانب سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو دھمکیاں دی گئیں۔ الجزیرہ نیوز کے مطابق، ایرانی فوج مخصوص ممالک سے منسلک جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دے رہی، جس کی وجہ سے سمندر میں جہازوں کا ایک بڑا جمگھٹ لگ چکا ہے۔
تھائی لینڈ کے جہاز پر بیلسٹک میزائل حملہ
گزشتہ روز پیش آنے والے ایک ہولناک واقعے نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو عالمی سرخیوں میں لا کھڑا کیا۔ تھائی لینڈ کے پرچم والے ایک بحری جہاز کو، جو وہاں سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے بعد عمانی بحریہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عملے کے 20 ارکان کو بچا لیا، تاہم عملے کے 3 ارکان اب بھی سمندر میں لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔
امریکہ سے منسلک جہازوں پر پابندی
ایران نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے منسلک کسی بھی بحری جہاز کو اس راستے سے گزرنے نہیں دے گا۔ تاہم، حالیہ واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اب غیر جانبدار ممالک کے جہازوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ ایسے جہاز جن کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں، وہ بھی حملوں اور تلاشی کی کارروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
سمندر میں جلتے ہوئے جہاز اور خوف کا ماحول
عینی شاہدین اور رپورٹس کے مطابق، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث اسٹریٹجک راستوں پر خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ کچھ دن قبل ایک جہاز کو کئی گھنٹوں تک سمندر میں جلتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بارے میں گمان کیا جا رہا ہے کہ اسے بھی ایرانی فوج نے نشانہ بنایا تھا۔ پچھلے دو ہفتوں میں اسی طرح کی کئی کارروائیوں نے بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں کو اپنے روٹ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکا چین سے مدد مانگنے پر مجبور ہو گیا: عباس عراقچی
عالمی تجارت کا مستقبل اور سفارتی کوششیں
اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو فوری طور پر کم نہ کیا گیا تو سپلائی چین کا ایک بڑا حصہ مفلوج ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک اس آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کے لیے سفارتی دباؤ ڈال رہے ہیں، لیکن زمین پر موجود حالات کسی بڑے ٹکراؤ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اس وقت تمام نظریں عالمی طاقتوں پر لگی ہیں کہ وہ اس اہم سمندری شاہراہ کو محفوظ بنانے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہیں۔