T20 ورلڈ کپ 2026 پاکستان بمقابلہ نمیبیا: فرحان کی پہلی ورلڈ کپ سنچری، گرین شرٹس مضبوط پوزیشن میں
ICC Men’s T20 World Cup 2026 میں پاکستان نے اہم مرحلے پر ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مضبوط مجموعہ ترتیب دیا، جہاں صاحبزادہ فرحان کی شاندار سنچری نے میچ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔
کی، تاہم ٹیم کو پہلا نقصان 40 رنز پر اٹھانا پڑا جب صائم ایوب 14 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ ابتدائی وکٹ گرنے کے باوجود رن ریٹ متاثر نہیں ہوا اور بیٹنگ لائن نے جارحانہ حکمت عملی برقرار رکھی۔
کپتان سلمان علی آغا نے ذمہ دارانہ اور تیز رفتار اننگز کھیلی۔ انہوں نے 23 گیندوں پر 38 رنز اسکور کیے اور ٹیم کو مستحکم پوزیشن میں لانے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم وہ اپنی اننگز کو زیادہ دیر تک طول نہ دے سکے اور وکٹ گنوا بیٹھے۔ خواجہ نافع بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے اور 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔
دوسری جانب صاحبزادہ فرحان نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی پہلی سنچری اسکور کی۔ انہوں نے 57 گیندوں پر 4 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے 100 رنز مکمل کیے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ ان کی اننگز میں اعتماد، ٹائمنگ اور شاٹ سلیکشن نمایاں رہا۔ انہوں نے پاور پلے میں محتاط آغاز کے بعد درمیانی اوورز میں اسٹرائیک روٹیٹ کی اور آخری اوورز میں جارحانہ انداز اپناتے ہوئے اسکور کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا۔
شاداب خان نے بھی عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 36 رنز اسکور کیے اور فرحان کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں کے درمیان اہم شراکت قائم ہوئی جس نے ٹیم کے مجموعی اسکور کو مستحکم بنیاد فراہم کی۔ آخری اوورز میں تیز رفتار بیٹنگ نے پاکستان کو مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔
میچ سے قبل کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا، جو بعد ازاں درست ثابت ہوا۔ پچ بیٹنگ کے لیے سازگار دکھائی دی اور پاکستانی بیٹرز نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
🎯 Target locked! 🇵🇰 Pakistan set 200 for Namibia at SSC, Colombo 🏟️#PAKvNAM | #BackTheBoysInGreen | #T20WorldCup | #WeHaveWeWill pic.twitter.com/IEeu4fhb6S
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) February 18, 2026
قومی ٹیم میں اس میچ کے لیے دو تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ شاہین آفریدی اور ابرار احمد کی جگہ مرزا سلمان اور خواجہ نافع کو شامل کیا گیا۔ ٹیم مینجمنٹ کا یہ فیصلہ حکمت عملی کے تحت کیا گیا تاکہ بیٹنگ کو مزید مضبوط کیا جا سکے اور کمبی نیشن میں توازن برقرار رہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے لیے یہ میچ نہایت اہم تھا کیونکہ سپر ایٹ مرحلے میں رسائی کے لیے فتح ضروری تھی۔ اگر میچ بارش کی نذر ہو جاتا تو بھی پاکستان اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر جاتا، تاہم نمیبیا سے شکست کی صورت میں امریکا بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر سپر ایٹ میں جگہ بنا سکتا تھا۔ اس تناظر میں پاکستانی ٹیم نے دباؤ کے باوجود مثبت اور جارحانہ انداز اپنایا۔
مجموعی طور پر صاحبزادہ فرحان کی سنچری اس میچ کا سب سے نمایاں پہلو رہی، جس نے نہ صرف ٹیم کو مضبوط پوزیشن دی بلکہ ان کی ذاتی کارکردگی کو بھی نئی بلندی تک پہنچایا۔ اب نظریں باؤلرز پر مرکوز ہیں کہ وہ اس بڑے اسکور کا دفاع کرتے ہوئے ٹیم کو سپر ایٹ مرحلے تک پہنچانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

