9 جنوری کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کراچی و سندھ کے دورے کا اعلان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے 9 جنوری کو کراچی اور سندھ کے دورے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق وہ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا پیغام لے کر کراچی پہنچیں گے، جہاں وہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنان سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کو پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق خلاف ورزی: وزیر اعلیٰ KP اور دیگر رہنما 10 دسمبر کو طلب

الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، عمر ایوب کی اہلیہ، حذیفہ رحمان اور مرتضیٰ عباسی کو 10 دسمبر کو سماعت کے لیے دوبارہ طلب کر لیا ہے۔
علیمہ خان کا عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

علیمہ خان نے عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ اور دیگر حکام کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچنے پر پولیس سے ٹکراؤ، فیکٹری ناکہ پر دھرنا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خدشات کے باعث اڈیالہ جیل پہنچے مگر پنجاب پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے پر روک دیا جس کے بعد انہوں نے وہیں دھرنا دے دیا۔ وزیراعلیٰ کے ہمراہ ایم این اے شاہد خٹک، ایم پی اے مینا خان آفریدی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ جیل روڈ اور اطراف میں سخت سیکیورٹی تعینات ہے جبکہ متعدد ناکوں پر اضافی نفری گشت کر رہی ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبیعت ناسازی کی خبریں تشویش بڑھا رہی ہیں، ہم آج ملاقات چاہتے ہیں تاکہ حقیقت سامنے آئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے اور 95 فیصد ووٹر گھروں میں رہے، جو بانی پی ٹی آئی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملاقات نہ ہونے پر خدشات بڑھ رہے ہیں اور وہ تمام قانونی راستوں پر غور کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت پر بھاری مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی لگائے۔
سہیل آفریدی کے بیان پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا ردعمل، ’اپنے لیڈر کی طرح جھوٹ بولتے ہیں

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی کے بیان پر سخت عظمیٰ بخاری کا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے نوٹس کو کور کرنے کے لیے مریم نواز پر جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے کسی بھی لیگی امیدوار کی انتخابی مہم نہیں چلائی اور ان کی خدمت کے 90 سے زیادہ پروجیکٹ کسی ضمنی الیکشن کے محتاج نہیں۔
وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی: افغان قیادت کو کہوں گا حملے بند کریں، ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر وہ افغانستان گئے تو افغان قیادت کو واضح طور پر بتائیں گے کہ ہم پختون، مسلمان اور پڑوسی ہیں، اس لیے پاکستان پر حملے بند کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے عشق ہمارا ایمان ہے اور ہماری وفاداری صرف ریاست پاکستان کے ساتھ ہے۔ ڈیفنس کاریسپونڈنٹس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے اور اگر صوبے کو اعتماد میں لیا جائے تو مسائل تیزی سے حل ہوسکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن جرگہ، امن کی بحالی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے حکمتِ عملی پر غور

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں دہشت گردی کے حالیہ اضافے کے پیشِ نظر صوبائی اسمبلی میں تاریخی امن جرگہ شروع کر دیا۔ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، گورنر فیصل کریم کنڈی، سیاسی و مذہبی رہنما شریک، صوبے میں پائیدار امن کے لیے نئی حکمتِ عملی پر مشاورت جاری۔
دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بند کمروں سے نکل کر مشترکہ پالیسی بنائیں – سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کا خاتمہ بند کمروں سے نکل کر سیاستدانوں، سیکیورٹی فورسز اور عوام کے ساتھ مل کر ہوگا۔ امن جرگے میں طویل المدتی پالیسی اور مشترکہ قربانیوں پر زور دیا گیا۔
سہیل آفریدی کی کور کمانڈر پشاور سے ملاقات کوئی سرکاری نہیں تھی، مبارکباد دینے آئے تھے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ کور کمانڈر پشاور کی ملاقات غیر رسمی نوعیت کی تھی۔ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی کوشش ناکام رہی، جس پر صوبائی قیادت نے موقف اختیار کیا کہ وہ عدالتی احکامات کی پاسداری چاہتے ہیں۔ سیاسی اور سیکیورٹی حلقوں میں ملاقاتوں اور بیانات کے سیاسی اثرات پر بحث جاری ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج، عمران خان سے ملاقات کے بغیر واپس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے دیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر ایک منتخب صوبے کا سربراہ اپنے قائد سے نہیں مل سکتا تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ مزاحمت کی راہ ہے۔ پولیس نے قافلے کو جیل سے کچھ فاصلے پر روک دیا جس پر وزیراعلیٰ نے عدلیہ اور وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کی۔