وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی: افغان قیادت کو کہوں گا حملے بند کریں، ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے، ہم پختون بھی ہیں، مسلمان بھی اور پڑوسی بھی
پشاور (رئیس الاخبار) :— وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر وہ افغانستان گئے تو وہاں واضح طور پر کہیں گے کہ "ہم پختون بھی ہیں، مسلمان بھی اور پڑوسی بھی، اس لیے پاکستان پر حملے بند کریں”۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان سے عشق کرتے ہیں اور ہماری وفاداری کا مرکز صرف پاکستان ہے۔
ڈیفنس کاریسپونڈنٹس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر افغان قیادت ہماری بات نہ مانے تو پھر ہمارے پاس بھی جواز موجود ہوگا۔ "پاکستان ہم سے ہے اور ہم پاکستان سے ہیں۔ بعض پالیسیوں پر اعتراض ضرور ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ کچھ پالیسیوں میں فوری تبدیلی کی ضرورت ہے۔”
ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے
وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے لیڈر ہمیشہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور ہر مسئلہ بات چیت سے ہی حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وانا آپریشن میں آئی جی کو مکمل تعاون کی ہدایت کی گئی، جبکہ وانا کیڈٹ کالج اور اسلام آباد حملے کی سخت مذمت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر صوبے کو اعتماد میں لے کر مسئلہ حل ہوسکتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ "میرا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اور وقت آیا تو ہم صرف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔”
فوج، پولیس اورسویلین شہدا میں کوئی تفریق نہیں
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ شہدا کیلئے احترام رکھا ہے۔ کرم کے شہید جوانوں کے جنازے میں بھی شرکت کی۔ دہشت گردی کی صورتحال کے تناظر میں انہوں نے موجودہ آئی جی کے کام کو سراہا اور کہا کہ صوبے کے سیکیورٹی ادارے دہشتگردوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
پولیس کے لیے جدید آلات، فرانزک لیب کی منظوری
وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی نے بتایا کہ کےپی پولیس کیلئے جدید آلات کی خریداری کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ اسپیشل برانچ کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی حاصل کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "وفاق واجبات ادا کرے تو ہم پولیس، صحت اور دیگر شعبوں میں مزید بہتری لا سکتے ہیں۔” ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ صوبے میں فرانزک لیب قائم کی جائے گی اور تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔
دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان ضروری ہے
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے نئی اور جامع پالیسی بنانا ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ذات پر کبھی تنقید نہیں کرتے، تاہم غلط پالیسیوں کی نشاندہی کرنا ان کا جمہوری حق ہے۔
شہدا کے اہلخانہ کیلئے پیکیج، صوبائی قانون سازی کا اعلان
انہوں نے کہا کہ آپریشنز کے دوران قربانیاں دینے والوں کا اعتماد بحال ہونا ضروری ہے۔ "جن کے گھر تباہ ہوئے ان سے چار لاکھ کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ اعتماد بحال ہوگا تو ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتیں گے۔”
صوبائی حکومت نے اعلان کیا کہ:
دہشت گردوں کو سزا دینے کیلئے صوبائی قانون سازی کی جائے گی
سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ شہدا کے معاوضے پنجاب کے برابر کیے گئے
آپریشن بنیان مرصوص میں شہید ہونے والے دو جوانوں کے لیے خصوصی پیکیج منظور
"افغانستان جانے کے معاملے پر غلط بیانی کی وضاحت ضروری”
وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی نے کہا کہ بعض بیانات غلط انداز میں پیش کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی اے محمد جلال کے بیان کی تحقیقات ہونی چاہیے اور بارڈر پر تعینات افسروں کے اثاثے بھی سامنے آنے چاہئیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ "سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن کوئی ایسا اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے عوام کو تکلیف ہو۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہمارا واحد آپشن ہے اور اسے ہر حال میں یقینی بنانا ہوگا۔”
اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی اینکر پرسنز اور سینئر صحافیوں سے خیبر پختونخوا ہاؤس میں ملاقات!
وزیراعلیٰ نے تمام صحافیوں سے فرداً فرداً مصافحہ کیا اور ان کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور خیبر پختونخوا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر… pic.twitter.com/MGOwoMqYPN
— Government of KP (@GovernmentKP) November 21, 2025











Comments 1