سونے کی عالمی قیمتوں میں کمی، ایران امریکا کشیدگی اور شرح سود نے مارکیٹ کو متاثر کر دیا
عالمی سونے کی قیمت میں حالیہ دنوں کے دوران معمولی کمی دیکھی گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور مالیاتی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں یہ کمی بظاہر معمولی ہے، لیکن اس کے پیچھے کارفرما عوامل نہایت اہم اور پیچیدہ ہیں، جن میں مہنگائی کے خدشات، امریکی مانیٹری پالیسی کی غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال شامل ہیں۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.3 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کے بعد یہ 4,599 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گیا۔ اسی طرح امریکی فیوچرز بھی گر کر 4,611 ڈالر تک پہنچ گئے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار اس وقت محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی سونے کی قیمت میں اس کمی کی بڑی وجہ مہنگائی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔ خاص طور پر امریکا میں مہنگائی کے حالیہ اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مارچ کے مہینے میں پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر (PCE) انڈیکس میں 0.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو جون 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مہنگائی ابھی بھی کنٹرول میں نہیں آئی، جس کے باعث فیڈرل ریزرو کو شرح سود میں کمی کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شرح سود طویل عرصے تک بلند رہتی ہے تو اس کا براہ راست اثر سونے جیسی سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔
سونا چونکہ ایک نان ییلڈنگ اثاثہ ہے، یعنی اس پر کوئی منافع یا سود حاصل نہیں ہوتا، اس لیے جب شرح سود زیادہ ہوتی ہے تو سرمایہ کار بہتر منافع کیلئے دیگر آپشنز کا انتخاب کرتے ہیں، جیسے بانڈز یا دیگر مالیاتی آلات۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی عالمی سونے کی قیمت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے عالمی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا وہاں پھنسے جہازوں کو نکالنے کیلئے اقدامات کرے گا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کو امریکی ردعمل پاکستان کے ذریعے موصول ہو چکا ہے، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت نے سرمایہ کاروں کو مزید محتاط کر دیا ہے، کیونکہ کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اسی دوران تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں، جو عالمی معیشت کیلئے ایک اور چیلنج ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس کے باعث مرکزی بینک شرح سود کو مزید طویل عرصے تک بلند رکھنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سونے کی قیمت کا مستقبل بڑی حد تک ان عوامل پر منحصر ہے، خاص طور پر امریکی پالیسی، مہنگائی کے رجحانات اور جیو پولیٹیکل صورتحال۔ اگر مہنگائی میں کمی نہیں آتی اور شرح سود بلند رہتی ہے تو سونے کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سونا اب بھی ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہو۔ اس لیے طویل مدت میں سونے کی قیمتوں میں استحکام یا اضافہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں کی بات کی جائے تو چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مجموعی طور پر دھاتوں کی مارکیٹ اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ عالمی سونے کی قیمت میں حالیہ کمی وقتی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود عوامل نہایت اہم ہیں، جو مستقبل میں مارکیٹ کے رجحانات کا تعین کریں گے۔ سرمایہ کاروں کیلئے ضروری ہے کہ وہ ان عوامل پر گہری نظر رکھیں اور محتاط فیصلے کریں۔

