وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا استعفا گم، 34 گھنٹے بعد بھی گورنر ہاؤس کو موصول نہ ہو سکا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا استعفا گم ہونے کا معمہ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا استعفا 34 گھنٹے گزرنے کے باوجود گورنر ہاؤس نہیں پہنچ سکا۔ گورنر نے استعفے پر آئینی اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا استعفا غیر آئینی ہے، جس سے نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے نئے نوجوان وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی ،عمران خان کا فیصلہ ایک نئی شروعات

نئے نوجوان وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی

پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں قیادت کی تبدیلی کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان کی ہدایت پر علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹا کر نوجوان رہنما سہیل آفریدی کو نیا وزیرِ اعلیٰ نامزد کیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ اور متحرک رہنما ہیں، جنہوں نے اپنی کارکردگی اور عوامی رابطوں سے جلد مقبولیت حاصل کی۔ ان کا ایجنڈا تعلیم، روزگار اور امن کے فروغ پر مبنی ہے۔

علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بانی پی ٹی آئی کے حکم پر وزارت اعلیٰ چھوڑ دی

علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔ اپنے بیان میں کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے حکم پر عہدہ چھوڑ رہے ہیں تاکہ پارٹی پالیسی اور قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہو۔ انہوں نے سہیل آفریدی کی مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا۔

عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا، نیا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نامزد

عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق عمران خان نے سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلیٰ نامزد کردیا۔ یہ ہدایات عمران خان نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران پارٹی رہنماؤں کو جاری کیں۔

علی امین گنڈاپور کی عمران خان سے ملاقات، استعفے، کابینہ میں ردوبدل اور پارٹی تقسیم پراہم بیان

علی امین گنڈاپور کی عمران خان سے ملاقات : استعفے اور پارٹی بحران

خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور نے عمران خان سے طویل وقفے کے بعد ملاقات کی اور پارٹی میں تقسیم، استعفوں اور کابینہ میں ردوبدل کا اعتراف کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بجٹ کے بعد تبدیلیاں متوقع تھیں مگر اختلافات نے بحران کو جنم دیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اعتراف پی ٹی آئی کے لیے بڑا سیاسی امتحان ہے۔

سینئر صحافی اعجاز احمد سے عمران خان کی بدسلوکی کیخلاف قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

صحافی اعجاز احمد سے عمران خان کی بدسلوکی : قومی اسمبلی اجلاس میں صحافیوں کا آؤٹ

اسلام آباد کی قومی اسمبلی میں اس وقت ہنگامہ کھڑا ہوگیا جب صحافی اعجاز احمد کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ رپورٹرز کا مؤقف ہے کہ اڈیالہ جیل میں سوال پوچھنے پر عمران خان نے نازیبا الفاظ استعمال کیے جس کے بعد سوشل میڈیا پر اعجاز احمد کے خلاف سخت مہم بھی شروع ہوگئی۔ ایوان میں اسپیکر ایاز صادق اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صحافیوں کے مؤقف کو اہم قرار دیا جبکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے بھی اعجاز احمد کی حمایت کی۔ بعدازاں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں صحافیوں کے تحفظ اور نفرت انگیز مہم کی مذمت کی گئی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر پاکستان میں سیاست اور صحافت کے تناؤ کو نمایاں کر دیا ہے۔

توشہ خانہ 2 کیس بشریٰ بی بی: اڈیالہ جیل ٹرائل، سماعت 12 ستمبر تک ملتوی

توشہ خانہ 2 کیس بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل ٹرائل

توشہ خانہ 2 کیس بشریٰ بی بی کے خلاف اڈیالہ جیل میں ٹرائل کی سماعت ہوئی۔ وعدہ معاف گواہ اور سابق پرسنل سیکرٹری کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ عدالت نے کارروائی 12 ستمبر تک ملتوی کر دی جبکہ بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ بھی کیا گیا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]