اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کےخلاف ہائیکورٹ کے 5 ججز کا سپریم کورٹ سے رجوع

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ سینئر ججوں نے چیف جسٹس کے اختیارات اور انتظامی اقدامات کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ درخواستوں میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بینچوں کی تشکیل اور مقدمات کی منتقلی صرف قواعد اور ججوں کی مشاورت سے ہونی چاہیے۔ ججز نے ’’ماسٹر آف دی روسٹر‘‘ کے یکطرفہ اصول کو مسترد کرتے ہوئے نوٹیفکیشنز اور کمیٹیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ چیف جسٹس کے اختیارات اور عدلیہ کے اندرونی ڈھانچے کے لیے تاریخی نوعیت رکھتا ہے، جو مستقبل میں عدالتی نظام پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر اور اسٹیبلشمنٹ رولز اکثریت رائے سے منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں رولز اکثریت رائے سے منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ کی فل کورٹ میٹنگ اختلافات اور تنازعات کے ساتھ ختم ہوئی۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قواعد اکثریتی ووٹ سے منظور ہوئے جبکہ 5 ججوں نے کھل کر مخالفت کی۔ جسٹس بابر ستار اور جسٹس اعجاز اسحاق کے خطوط زیر بحث نہ لائے جانے پر عدالتی تقسیم اور شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ فل کورٹ اجلاس سے قبل جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس کے خلاف چارج شیٹ پیش کردی

جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس کے خلاف چارج شیٹ دے دی

اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر جسٹس بابر ستار کے خط نے ہلچل مچا دی ہے، جس میں عدلیہ کی آزادی، انتظامی فیصلوں اور مقدمات کی تقسیم پر سنگین سوالات اٹھائے گئے۔ یہ خط نہ صرف چیف جسٹس کے لیے چیلنج ہے بلکہ عوامی سطح پر عدلیہ پر اعتماد اور اس کے مستقبل کے حوالے سے بھی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]