• Contact Us
  • About Us
ہفتہ, 6 دسمبر 2025
فرمان الہی
نماز کے اوقات
بانی / ایڈیٹرانچیف : شاہنواز خان
پبلشر: شہباز خان
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر
No Result
View All Result
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر
No Result
View All Result
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
No Result
View All Result

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر اور اسٹیبلشمنٹ رولز اکثریت رائے سے منظور

رئیس الاخبار نیوز by رئیس الاخبار نیوز
ستمبر 3, 2025
in اسلام آباد, تازه ترین
اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں رولز اکثریت رائے سے منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ کی فل کورٹ میٹنگ میں قواعد منظور، ججوں میں اختلافات سامنے آگئے

589
SHARES
3.3k
VIEWS
Share on WhatsAppShare on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس: اختلافات، خطوط اور متنازعہ منظوری، پریکٹس اینڈ پروسیجر اور اسٹیبلشمنٹ رولز اکثریت رائے سے منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے عدالتی سال کے آغاز پر بلائی گئی فل کورٹ میٹنگ ایک غیر معمولی صورتحال کے ساتھ سامنے آئی۔ اس اجلاس میں جہاں ایک طرف اہم قواعد اکثریتی رائے سے منظور کر لیے گئے، وہیں دوسری جانب بعض ججوں نے کھل کر اختلاف کیا اور چیف جسٹس کو لکھے گئے خطوط اور اندرونی تحفظات نے اجلاس کی فضا کو مزید کشیدہ بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ نے عدلیہ کے اندرونی اختلافات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس سے قبل ہی جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو خطوط لکھ کر اجلاس کے ایجنڈے پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان خطوط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اجلاس کا ایجنڈا محض رسمی کارروائی نہ ہو بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامی اور عدالتی خرابیوں پر کھل کر بحث ہو۔

یہ بھی پڑھیے

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں عمران خان پر شدید تنقید ، فوج مخالف بیانیہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار

وزیراعظم شہباز شریف کا ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم سے رابطہ، سمندری طوفان پر گہرے دکھ کا اظہار

فیلڈ مارشل عاصم منیر بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات، صدر مملکت کی وزیراعظم کی سمری منظور

جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں عدالتی آزادی، مقدمات کی تقسیم، کمیٹیوں کی تشکیل اور چیف جسٹس کے انتظامی اختیارات کے مبینہ غلط استعمال جیسے حساس معاملات پر سنگین سوالات اٹھائے تھے۔ اسی طرح جسٹس اعجاز اسحاق نے بھی چیف جسٹس کے اقدامات پر تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ ادارہ جاتی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

تاہم فل کورٹ اجلاس میں یہ خطوط زیرِ بحث نہیں آئے اور ان کے مندرجات کو نظر انداز کر دیا گیا، جس سے اختلافی ججوں میں مزید بے چینی پیدا ہوئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ فل کورٹ اجلاس سے قبل جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس کے خلاف چارج شیٹ پیش کردی

اکثریتی فیصلے سے قواعد کی منظوری

ذرائع کے مطابق ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ رولز اور پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز کو بغیر تفصیلی ڈسکشن کے اکثریتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔

11 ججوں میں سے 6 ججوں نے منظوری کے حق میں ووٹ دیا جبکہ

5 ججوں نے اس کی مخالفت کی۔

حق میں ووٹ دینے والے ججز:

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر

جسٹس ارباب طاہر

جسٹس خادم حسین سومرو

جسٹس اعظم خان

جسٹس محمد آصف

جسٹس انعام امین منہاس

مخالفت کرنے والے ججز:

جسٹس محسن اختر کیانی

جسٹس طارق جہانگیری

جسٹس بابر ستار

جسٹس اعجاز اسحاق خان

جسٹس ثمن رفعت امتیاز

یہ تقسیم واضح طور پر دکھاتی ہے کہ ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کے اندر ایک بڑی تعداد قواعد کی منظوری کے حق میں نہیں تھی، تاہم اکثریت نے فیصلہ دے کر ان قواعد کو لاگو کر دیا۔

مشاورت کی استدعا مسترد

ذرائع کے مطابق ایک جج نے تجویز دی کہ رولز پر مزید مشاورت کی جائے اور فل کورٹ میٹنگ کو کچھ دن کے لیے موخر کر دیا جائے تاکہ سب ججوں کی آراء شامل ہو سکیں۔ تاہم یہ استدعا مسترد کر دی گئی اور اسی اجلاس میں قواعد منظور کر لیے گئے۔ اس فیصلے نے اختلاف کرنے والے ججوں کو مزید مایوس کیا اور انہیں یہ محسوس ہوا کہ ان کے تحفظات کو اہمیت نہیں دی گئی۔

خطوط کو زیرِ بحث نہ لانا — ایک خاموش پیغام؟

ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں جسٹس بابر ستار اور جسٹس اعجاز اسحاق کے خطوط کو زیرِ بحث نہ لانے کے فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ ایک خاموش پیغام ہے کہ اعلیٰ عدالتی سطح پر کھلے عام تنقید اور اختلاف کو برداشت کرنے کا رجحان محدود ہوتا جا رہا ہے۔

کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان خطوط پر اجلاس میں بات کی جاتی تو یہ عدلیہ کے اندرونی مسائل پر سنجیدہ مکالمے کا موقع فراہم کرتا۔ لیکن ایسا نہ ہونے سے اختلافی ججوں کے خدشات مزید تقویت پکڑ گئے ہیں کہ عدالت کے اندر شفافیت اور شمولیت کا فقدان ہے۔

دیگر فیصلے: عمارت اور فیملی کورٹ کے اختیارات

اجلاس میں دو اور اہم فیصلے بھی کیے گئے:

ہائی کورٹ بلڈنگ کے نقائص: عدالت کی عمارت میں موجود تکنیکی اور ساختی نقائص کا معاملہ حکومت کو بھیج دیا گیا تاکہ اس پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ یہ فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا۔

فیملی کورٹ کے ججوں کے اختیارات: اجلاس میں متفقہ طور پر یہ طے کیا گیا کہ فیملی کورٹ کے ججوں کے اختیارات کو مزید واضح کیا جائے تاکہ وہ بہتر انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

یہ دونوں فیصلے کم تنازعہ والے معاملات تھے اور ان پر سب جج متفق دکھائی دیے۔

تقسیم کی عکاسی(islamabad high court judges)

یہ اجلاس نہ صرف قواعد کی منظوری بلکہ ججوں کے مابین بڑھتی ہوئی تقسیم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ 11 میں سے 5 ججوں کا کھل کر مخالفت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک واضح تقسیم موجود ہے۔

یہ تقسیم محض شخصی اختلاف نہیں بلکہ انتظامی فیصلوں، شفافیت اور عدالتی آزادی سے متعلق بنیادی سوالات پر مبنی ہے۔

عوامی تاثر اور عدالتی ساکھ

ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کے اندرونی اختلافات کے منظر عام پر آنے سے عوامی سطح پر بھی عدلیہ کی ساکھ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایک طرف عوام پہلے ہی عدلیہ کی کارکردگی سے مایوس ہیں، دوسری طرف ججوں کے مابین اس قدر اختلاف اس تاثر کو مزید گہرا کر سکتا ہے کہ عدلیہ متحد نہیں ہے اور داخلی بحران کا شکار ہے۔

آئندہ کا منظرنامہ

اب سوال یہ ہے کہ ان اختلافات کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کس سمت میں جائے گی۔ کیا چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اکثریتی فیصلے کے ساتھ ادارہ چلانے پر اصرار کریں گے یا وہ اختلافی ججوں کے خدشات کو بھی شامل کرنے کی کوشش کریں گے؟

قانونی ماہرین کے مطابق اگر یہ اختلافات کھلے مکالمے کے بجائے مزید دبا دیے گئے تو یہ اندرونی کشمکش آنے والے دنوں میں زیادہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ لیکن اگر چیف جسٹس اور دیگر جج مل بیٹھ کر شفاف طریقہ کار اپنائیں تو یہ بحران عدلیہ کو مزید مضبوط کرنے کا موقع بھی بن سکتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس ایک ایسی میٹنگ ثابت ہوئی جس نے عدلیہ کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کر دیا۔ اکثریتی ووٹ سے قواعد کی منظوری، خطوط کو زیرِ بحث نہ لانا اور مشاورت کی تجویز کو رد کرنا اس بات کا عندیہ ہے کہ ادارہ اس وقت ایک تقسیم کی کیفیت میں ہے۔

ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کی یہ صورتحال نہ صرف ججوں کے لیے بلکہ عوام کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ عدلیہ کی آزادی اور شفافیت ہی عوام کے اعتماد کی بنیاد ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا یہ اختلاف وقتی ثابت ہوتے ہیں یا پھر یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی تاریخ میں ایک نئے بحران کی بنیاد ڈالیں گے۔

Tags: Full Court MeetingIslamabad High CourtJudicial Divide in PakistanJudicial Transparencyاسلام آباد ہائی کورٹجسٹس اعجاز اسحاقجسٹس بابر ستارچیف جسٹس سرفراز ڈوگرعدالتی اختلافاتعدلیہ کی شفافیتفل کورٹ میٹنگ
Previous Post

ایشیا کپ 2025 ٹکٹ پیکجز: شائقین کے لیے نئی سہولتیں

Next Post

ہوائی کا کیلاویا آتش فشاں پھٹ پڑا، لاوا 100 فٹ تک بلند

رئیس الاخبار نیوز

رئیس الاخبار نیوز

متعلقہ خبریں

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں عمران خان پر شدید تنقید
بریکنگ نیوز

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں عمران خان پر شدید تنقید ، فوج مخالف بیانیہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 5, 2025
شہباز شریف کا ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم سے رابطہ سمندری طوفان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
بریکنگ نیوز

وزیراعظم شہباز شریف کا ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم سے رابطہ، سمندری طوفان پر گہرے دکھ کا اظہار

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 5, 2025
فیلڈ مارشل عاصم منیر بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات، صدر مملکت کی وزیراعظم کی سمری منظور
بریکنگ نیوز

فیلڈ مارشل عاصم منیر بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات، صدر مملکت کی وزیراعظم کی سمری منظور

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 5, 2025
پاکستان کا کرغزستان کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی دینے کا اعلان
پاکستان

پاکستان کا کرغزستان کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی دینے کا اعلان ، 2روزہ سرکاری دورے میں 15 معاہدوں پر دستخط

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 4, 2025
ڈپٹی وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار کی کرغزستان کے صدر سادر ژاپاروف سے ملاقات
بریکنگ نیوز

وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار کی کرغزستان کے صدر سادر ژاپاروف سے ملاقات، پاک کرغیزستان روابط مزید مضبوط

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 4, 2025
جی ایچ کیو آرمی چیف سے رائل سعودی لینڈ فورسز کے کمانڈر اور بحرینی نیشنل گارڈ کے کمانڈر کی ملاقاتیں
تازه ترین

جی ایچ کیو آرمی چیف کی رائل سعودی لینڈ فورسز کے کمانڈر اور بحرینی نیشنل گارڈ کے کمانڈر سے ملاقاتیں

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 3, 2025
پی آئی اے نجکاری کے متعلق کاروباری شخصیات کی وزیر اعظم سے ملاقات
تازه ترین

پی آئی اے نجکاری میں دلچسپی رکھنے والے کاروباری شخصیات کی وزیر اعظم سے ملاقات، شفاف عمل اور لائیو بِڈنگ کا اعلان

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 3, 2025
Next Post
کیلاویا آتش فشاں

ہوائی کا کیلاویا آتش فشاں پھٹ پڑا، لاوا 100 فٹ تک بلند

E-paper

آج کی مقبول خبریں

  • ڈرائیونگ لائسنس فیس 2025 کا نیا شیڈول اور آن لائن اپلائی گائیڈ

    ڈرائیونگ لائسنس فیس 2025: نیا شیڈول اور طریقہ کار

    1140 shares
    Share 456 Tweet 285
  • پی آئی اے پرواز حادثے سے بچ گئی کراچی سے سکھر فلائٹ میں تکنیکی خرابی

    588 shares
    Share 235 Tweet 147
  • وزیراعظم شہباز شریف کا ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم سے رابطہ، سمندری طوفان پر گہرے دکھ کا اظہار

    588 shares
    Share 235 Tweet 147
  • میٹا مشترکہ سپورٹ ہب متعارف فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کیلئے بڑی سہولت

    587 shares
    Share 235 Tweet 147
  • ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری

    587 shares
    Share 235 Tweet 147
logo_new_2_white

پاکستان اور دنیا بھر سے خبریں فراہم کرنے والا معروف بین الاقوامی اردو اخبار قائم کیا گیا، معتبر صحافت کے لیے قابل اعتماد۔

اہم لنکس

  • اسلام آباد
  • صحت
  • موسم / ما حولیات

رابطہ کریں

Lower Ground Floor, Plaza No. 80, Street No. 34 & 35, I&T Centre, Sector G-10/1, Islamabad.

  • info@raeesulakhbar.com
  • +92 51 613 2231
  • 24/7 سروس

Copyrights 2025 © Raees Ul Akhbar

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر

Copyrights 2025 © Raees Ul Akhbar